ماہ شعبان اس کی اہمیت اور بدعات

 شعبان اسلامی کلینڈر کا آٹھواں مہینہ ہے ۔ حضورؐ  کا طرز عمل تھا کہ آپﷺ رمضان کی تیاری ماہ شعبان سے ہی شروع کرتے تھے چونکہ رمضان میں نبیﷺ کو نبوت ملی تھی اور قرآن جیسی عظیم الشان کتاب کا نزول شروع ہوا تو نبیﷺ نہ صرف رمضان المبارک میں خصوصی عبادت کا اہتمام کرتے بلکہ پہلے سے شعبان میں بھی رب کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے 

حضورؐ کا یہ معمول تھا کی اس مہینے میں سب سے ذیادہ روزے رکھتے-حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں"رسول  شعبان سے ذیادہ کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے شعبان کے پورے دنوں میں آپؐ روزے سے رہتے-آپؐ فرمایا کرتے عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکتا تم خود ہی اکتا جاؤ گے-(صحیح بخاری -1969) 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ "رسولﷺنفل روزے رکھنے لگتے تو ہم آپس میں کہتے اب آپﷺ روزہ رکھنا چھوڑیں گے نہیں اور جب آپﷺ روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتےاب آپﷺروزہ رکھیں گے نہیں -میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسولﷺ کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھا اور جتنے روزے آپﷺ شعبان میں رکھتے تھے میں نے کسی مہینےمیں اس سے ذیادہ روزے رکھتے آپﷺ کو نہیں دیکھا (صحیح بخاری 1970)

 حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ" رسولﷺ ماہ شعبان کے روزے رکھتے البتہ کچھ دن افطار فرماتے-(النسائی 2359 )

پاکستان ؛انڈیا ،بنگلہ دیش اور بعض ملکوں میں 15ویں شعبان کو عقیدت سے منایا جاتا ہے اور اسے "شب برات " سے موسوم کیا جاتا ہے- اس دن مسلمان روزہ یا  خاص نوافل ادا کرتے ہیں -دیگیں تقسیم کی جاتی ہیں۔چراغاں کیا جاتا ہے  آتشبازی کی جاتی ہےاور ایک دوسرے کو مبارکباد دی جاتی ہے۔ قبرستان کی زیارت بھی کی جاتی ہے ۔جہاں تک  اس رات کو حضور ﷺ قبرستان  گئے تو وہ زندگی میں صرف ایک دفعہ گئے ، وہ بھی اتنی رازداری سے کہ نہ کسی صحابہ کو بتا یا اور نہ ہی اپنی ازواج میں کسی کو بتایا اور نہ ہی کسی کو اس کی ترغیب دی لہذا سال میں صرف اس دن کو مقرر کر کے قبرستان جانا صحیح نہیں ہے۔شب برات کے بارے میں جو مختلف حدیثیں بیان کی جاتی ہیں محدثین کی تحقیق کے مطابق  وہ تمام احادیث ضعیف ہیں-ان تمام احادیث کو علامہ سیوطی نے'الدر المنثور' میں جمع کی ہیں -حضور ﷺ کی سیرت مبارکہ ،صحابہ کرام اور تابعین کے طرزعمل سے کہیں یہ ثابت نہ ہو سکا کہ وہ اس دن کو روزہ رکھتے یا خاص نوافل ادا کرتے-

بعض لوگ سورۃ دخان کی آیت نمبر 3 کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت 15 ویں شعبان کے حق میں نازل ہوئی ہے –حالانکہ اکثر مفسرین نے اس کی نفی فرمائی ہے-علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں "بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلۃ مبارکہ جس میں قرآن نازل ہوا ہے وہ شعبان کی پندرہویں رات ہےیہ قول سراسر بے دلیل ہے اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے اور جہاں تک حدیث میں مروی ہے شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح اولاد اور میت کا ہونا تو یہ حدیث مرسل ہے ۔لیلۃ القدر کی شب ہی ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے-تمام اہم امور روزی عمر وغیرہ طے کر لی جاتی ہے۔

اور جہاں تک اس رات کی فضیلت کا بیان ہے کہ اللہ اس میں لوگوں کی مغفرت کرتے ہیں اور رحمتیں نازل ہوتی ہے تو اس پر جتنی احادیث ہیں اگرچہ وہ ضعیف ہیں لیکن اگر ضعیف سند والی حدیثیں ذیادہ ہو تو وہ اس کو حسن کے درجہ تک پہنچا دیتی ہے۔ اس لئے علما   ء کرام کے نزدیک   اس رات کو جاگنا اور عبادت کرنا باعث اجر و ثواب ہے لیکن نوافل کا کوئی خاص طریقہ مقرر کرنا یہ صحیح نہیں ہوگا۔نفلوں کا با جماعت ادا کرنا یا نفلی رکعات میں پہلی رکعت میں ایک سورت مقرر کر کے پڑھنا یا ایک خاص طریقہ سے پڑھنا  یا اتنی اتنی  دفعہ ایک سورت پڑھنا بالکل بے بنیاد ہےاور اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں ہے  البتہ نفل نماز،ذکر،تلاوت قرآن اوور دعا کی جا سکتی ہے۔

 اور جہاں تک مغفرت کی رات کا ذکر ہے تو اس کے بارے میں حضورؐ کی صحیح احادیث مروی ہے"ہمارا بزرگ و برتر پروردگار ہر رات آسمانی دنیا پر نزول فرماتا ہے اور جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو آواز دیتا ہے کوئی ہے جو مجھ سے دعا مانگے میں اسے قبول کروں ،کوئی ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے دوں،کوئی ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اسے معاف کروں"(صحیح بخاری 606 )

15 ویں شب کو چراغاں کی یہ روایت مجوسیوں سے آئی ہے جن کے نزدیک 15 ویں شعبان کو آگ جلانا عبادت ہے،حضورؐ نے کوئی ایسا طرزعمل اختیار کیا ہے اور نہ ہی اس شب کائی خاص عبادت کی اور یہ روایت سب سے پہلے آل برامکہ نے شروع کی جنہوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا تھا ان کے جد امجد مجوسیوں کئ معبد کے پجاری تھے اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے ہی سب سے پہلے 15 ویں شعبان کو مسجدوں مں چراغاں کیا رات کو خصوصی نوافل ادا کئے اور اس دن کو ایسی اہمیت دی جیسے یہ ایمان کا حصہ ہو-

فقہاء مدینہ نے فرمایا ہے اس دن کے تمام رسوم بدعت میں شمار ہوتے ہیں اور جمہور علماء اس بات پر متفق ہیں کی اس دن جشن منانا بدعت ہے- ابن تیمیہ فرماتے ہیں    "دین میں دو حکم ہیں یہ کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور دوسر ا یہ کہ اللہ کی ویسی عبادت کی جائے جیسے شریعت نے حکم دیا ہے اس لیئے یہ جائز نہیں کی کوئی عبادت جو حضورؐ نے نہ کی ہو اسے ہم کریں"

حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں شعبان ایسا مہینہ تھا جس میں رسولﷺ بہت روزے رکھتے کبھی تو پورا شعبان روزوں میں گزر جاتا مگر ان کا یہ عمل خاص  ان کےلیےتھا عام مسلمانوں کے لئے ہدایت تھی کہ وہ نصف شعبان کے بعد روزے نہ رکھیں چونکہ نبیﷺ امت کو غیر ضروری مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے اس لئے ان کو نصیحت کی کہ شعبان کے روزے بالخصوص آخری نصف کے روزےرکھنے سے گریز کریں -جو اشخاص باقاعدگی سے ہر مہینے کے 13،14،15 کو روزہ رکھتے ہوں اور شعبان کی 15 تاریخ کو بھی روزہ رکھے تو ان کا یہ عمل بدعت میں شمار نہیں ہوتا۔

جہاںتک اس دن کے روزہ کا تعلق ہے اس کے بارے میں مفتی تقی عثمانی فرماتے ہیں:

"روزہ کے متعلق صرف ایک حدیث موجود ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔لہذا پندرہ شعبان کے روزہ کو سنت و مستحب قرار دینا علماء کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔البتہ پورے شعبان میں روزہ رکھنے کی اہمیت  و فضیلت ثابت ہے۔ دوسرا یہ کہ 15 تاریخ ایام بیض میں سے بھی ہے اور رسول ﷺ اکثر ہر ماہ ایام بیض کے تین  روزے رکھتے تھے،لہذا اگر کوئی شخص ان دو وجوہات پر  15 شعبان کا روزہ رکھے،ایک یہ کہ یہ شعبان کا دن ہے اور دوسرا یہ کہ ایام بیض میں داخل ہےتو انشاء اللہ موجب اجر ہو گا،لیکن  خا ص پندرہ تاریخ کی خصوصیت کے لحاظ سے  اس روزے کو سنت قرار دینا صحیح نہیں۔"

دراصل اسلام رسموں اور تہواروں کا مذہب ہے یہی نہیں یہ تو ایک سیدھا اور معقول مذہب ہے جو انسان کو رسموں کی جکڑ بندیوں سے، کھیل تماشے کی بے فائدہ مشغولیتوں سے اور فضول کاموں میں وقت، محنت اور دولت کی بربادیوں سے بچا کر زندگی کی ٹھوس حقیقتوںکی طرف توجہ دلاتا ہے اور ان کاموں میں آدمی کو مشغول کرنا چاہتا ہے جو دنیا اور آخرت کی فلاح اور بہبود کا ذریعہ ہوں۔ ایسے مذہب کی فطرت سے یہ بالکل بعید ہے کہ  سال میں ایک دن حلوے پکانے اور آتش بازیاں چھوڑنے کے لیے مخصوص کر دے اور آدمی سے کہے کہ تو مستقبل طور پر ہر سال اپنی زندگی کے چند قیمتی گھنٹے اور اپنی محنت سے کمائے ہوئے بہت سے روپے ضائع کرتا رہا کر اور اس سے بھی زیادہ بعید یہ ہے کہ وہ کسی ایسی رسم کا انسان کو پابند بنائے جو صرف وقت اور روپیہ ہی برباد نہیں کرتی بلکہ بعض اوقات جانوں کو بھی ضائع کرتی ہے اور گھر تک پھونک ڈالتی ہے۔ اس قسم کی فضولیات کا حکم دینا تو درکنار، اگر ایسی کوئی رسم نبیﷺ کے زمانے میں موجود ہوتی تو یقیناً اس کو حکماً روک دیا جاتا اور جو ایسی رسمیں اس زمانے میں موجود تھی، ان کوروکاہی گیا  ہے ۔حلوے اور آتش بازی کا معاملہ تو خیر اس قدر کھُلا ہوا ہے کہ جو شخص کچھ بھی اسلام کے متعلق جانتا ہے وہ پہلی ہی نظر میں کہہ دے گا کہ ان چیزوں کی پابندی اس مذہب کی روح کے خلاف ہے۔

اسی لئے ایک مسلمان کو چاہیے کہ اس قسم کی چیزوں سے رکا رہے جو اس کے لئے ثواب کی بجائے گناہ کا سبب بنے اور ان چیزوں پر عمل پیرا رہے  جس سے اس کا تعلق اللہ سے قائم ہو ،اس کے گناہ معاف ہو جائیں  اور اس کی رحمتوں سے فیض یاب ہو سکیں ۔حضورﷺ کا ارشاد ہے ۔۔۔۔۔"سب سے بہتر امر اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر طریقہ محمدﷺ کا طریقہ ہے اور سب سے بدترین کام دین میں نئی باتوں کا پیدا کرنا ہے  اور ہر نئی بات گمراہی ہے –(صحیح بخاری6098)

حوالہ جات:

صحیح بخاری:ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری

حوادث و البدع:امام ابوبکر بن ولید الطرطوشی

لطائف المعارف:امام زین الدین ابی الفرج عبدالرحمان بن احمد بن رجب

سنن النسائی:ابو عبدالرحمان احمد بن شعیب النسائی

تفسیر ابن کثیر:حافظ عماد الدین ابو الفداءابن کثیر

شب برات کی حیثیت:امام ابو الاعلی المودودی

سلسلۃ احادیث الضعیفہ و الموضوعۃ:محمد ناصر الدین الالبانی

تاریخ اسلام:شاہ معین الدین ندوی

اصلاحی خطبات :مفتی تقی عثمانی

 

 

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ذکر الہی کی اہمیت و فوائد

سفرنامہ حج(حصہ دوم)