سفرنامہ حج(حصہ دوم)

 

Mina mekkah

جو کارڈ ہمیں ملے تھے اس نمبر کا خیمہ تو موجود  ہی نہیں تھا ۔ہمیں  کہا دوسرے خیمہ میں چلے جاؤ ۔ہم نے کہا اندر تو جگہ نہیں ہے ہم کیسے جائیں تو کہنے لگا حج میں تو اسی طرح ہوتا ہے۔اتنے میں ایک شخص اندر داخل ہوا اور جو عورتیں سوئی ہوئی تھی ان کو جگانے لگا کہ یہ سونے کہ جگہ نہیں ہے ۔سب سے پہلے اس مرد کو خیمہ سے نکالا کہ عورتوں کے خیمہ میں تمھارا کیا کام ۔ڈوبتے دل کے ساتھ اندر گئے۔کچھ لوگوں نے اپنی عبادت کے لئے ذیادہ جگہ  گھیرکے رکھی  ہوئی تھی اور بالکل پنکھےکے سامنے بیٹھی تھی۔کچھ نے خشمگیں نگاہوں سے دیکھ کر کہا کہ تم لوگوں کا یہ خیمہ نہیں ہے یہاں کیوں آئے ہو ۔ہم نے ان کو نظر انداز کر دیا۔دونوں آنٹیاں بالکل دروازے کے ساتھ بیٹھ گئی ۔ہم نے وہ جگہ مناسب نہ سمجھی ۔تھوڑا اندر گئے تو ایک آنٹی نے مجھے جگہ دی اور ایک نے سارا باجی کو اپنے پاس بلا کے جگہ دے دی۔

پہلے تو تھوڑی دیر تک دماغ کام نہیں کر رہا تھا ۔اس کے بعد کیمپ کا جائزہ لیا ایسا لگتا تھا کہ  گاؤں کی شادی ہےباتیں  گپ شپ  ۔پتہ نہیں کچھ گھنٹوں میں سب کیسے گھل مل گئے  ۔میں نے بہن سے کہا کہ چلو باہر نکلتے ہیں پانی بھر کے لاتے ہیں ۔باہر نکلے تو باہر کا موسم اچھا تھا ۔ دل کررہا تھا کہ باہر ہی بیٹھ جائیں لیکن ناممکن تھا ۔ٹینٹ میں واپس جانے کو دل نہیں کر رہا تھا لیکن مجبورا واپس گئے ۔پھر  کھانا لایا گیا ۔لوگ ایسے ٹوٹ پڑے جیسے کبھی کھانا ہی نہ کھایا ہو ۔اس کے بعد ٹمپریچر میں 5 ڈگری اور اضافہ ہو گیا۔ڈسپوسبل پلیٹ میں گرم سالن جب ڈالتے  تو لوگوں سے آدھا راستے میں گر جاتا ۔اتنے میں سوات والی آنٹی کی ایک دم چیخ چیخ کر بولنے کی آواز آنے لگی" ہائے سارا سالن   مجھ پہ گرا دیا ۔"جب دیکھا تو سفید سکارف پیلا ہو گیا تھا ۔ہم تو نہیں اٹھے کھانا لینے ایک آنٹی کا ہم پر دل خفا ہوا  تو ایک پلیٹ سالن تھما دیا ۔بس اس گرمی میں چند نوالے ہی لئے۔

اب حال یہ تھا کہ ٹینٹ میں نہ نماز پڑھنے کی جگہ تھی ۔نہ ہوا کا گزر ہو رہا تھا ۔ٹریول ایجنٹ صاحب صبر کی تلقین کرتے ہوئے گئے تھے ۔جی ہاں پیسے اپنی جیب میں ڈال کر انتظام نہ کر کے یہ کہتے ہوئے چل دیے کہ حج کا تو مطلب ہی صبر ہے ۔ زبان سے نہیں تو دل سے خود بخود بددعا نکل جاتی ۔مردوں کی سائڈ پہ اس کے اپنے ماموں نے اس کی اچھی خاصی کلاس لی اور پھر سب کو کہا پاکستان جا کے ان سب چیزوں کا حساب کتا ب اس سے لیں گے۔شکر ہے کہ حج کا انتطام پاکستانیوں کے ہاتھ میں نہیں ہے ورنہ ابھی تو صرف پاکستانی ہی پاکستانیوں کو بد دعا دئیں دیتے  ہیں  ورنہ  پھر پوری دنیا پاکستانیوں کو بد دعا ئیں دیتی۔ایک دو دفعہ چھپ چھپ کے میں بھی روئی ۔ہم تو یہاں عبادت کے لئے آئے تھے لیکن یہاں تو نماز پڑھنے کی جگہ بھی نہیں ہے۔حبس اور لوگ اتنے ذیادہ تھے کہ سانس لینا مشکل تھا ۔بس صبح سے بیٹھے ہوئے ہیں ٹیک لگانے کی بھی جگہ نہیں تھی ۔اتنے میں ایک عورت اٹھی اور کہا کہ  یہاں تم لوگ عبادت کے لئے آئے ہو یا باتیں کرنے  کے لئے ۔ایک لمحہ کے لئے سکوت ہوا لیکن پھر وہی باتوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ عصر کے وقت میں اور بہن دوبارہ پانی بھرنے باہر نکلے لمبی لمبی سانسیں لی ۔سخت ترین دن تھا ۔ اگلے چار دن کیسے گزریں گے ،عبادت کیسے کریں گے وغیرہ بس یہی سوچ کر آدھے سر کا  درد شروع ہو گیا ۔ہم تو اپنے ساتھ کھانے کی   کوئی چیز بھی  نہیں لائے تھے ۔میرے ساتھ جو  آنٹی بیٹھی تھی اس سے کہا کہ آپکے  پاس کوئی میٹھی چیز ہے فورا بسکٹ نکل آیا اس کو کھایا ۔اب یہ ٹینشن کہ ایسا نہ ہو سر کا درد تیز ہو جائے پھر کیا کروں گی۔اتنے میں کھانے کا اعلان ہوا ۔پھر بھگدڑ  مچ گئی۔رات کے کھانے میں ابلے ہوئے چاول اور دال تھے ۔تھوڑا بہت ہم نے بھی کھا لیا  اور عشاکی نماز پڑھ لی ۔ اور اب سونے کی جگہ بنانے کی کوشش کی۔ہمارے ساتھ کچھ قبائلی عورتیں تھی انہیں نے فراک پہنے ہوئے تھے اس سے گرمی کا احساس کچھ اور ذیادہ ہو رہا تھا ۔میں نے تو کسی نہ کسی طرح سے جگہ بنا لی ۔حد سے ذیادہ تھکاوٹ ہو رہی تھیالبتہ  سارا باجی کو جگہ نہیں مل رہی تھی ۔ رات کے بارہ بج گئے تھے ۔اتنے میں کچھ لوگوں کو بلا لیا کہ تیار ہو جاؤ عرفات جانا ہے ۔بس وہ قبائلی آنٹیاں چلی گئی ہم نے شکر ادا کیا اور سو گئے ۔

دو بجے کے قریب پھر چیخ و پکار شروع ہوئی کہ جلدی کرو عرفات کے لئے نکلنا ہے ۔بھائی کو کال ملائی ۔اس نے کہا میں تو ابھی سویا ہوں مجھے جگہ نہیں مل رہی تھی میں نے کہا جہاں بھی ہو فورا پہنچو ایسے نہ ہو بس چلی جائے ۔سامان اٹھایا باہر کھڑے ہوگئے ۔بے شمار بسیں گزری کسی میں ہماری جگہ نہیں تھی۔ہم نے بھائی سے کہا ہم وضو کر لیں یہاں تو کوئی جانے کا سین نظر نہیں آرہا ۔ابھی وضو سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ دوبارہ بھائی نے کہا جلدی آؤ۔بھاگم بھاگ پہنچے پانچ بسیں گزرنے کے بعد ہمیں جگہ ملی ۔پتہ نہیں کیسے انتظامات اس شخص نے کئے تھے نہ صحیح ٹائم کا پتہ اور نہ ہی کسی اور چیز کا پتہ۔ایک شخص کے ساتھ اس کی بیوی اور بہن بھی تھی ۔ا س کی بہن کسی اور بس میں چلی گئی تھی اور وہ بیوی اور  وہیل چئیر لے کے  ہماری بس میں بیٹھ گیا اور پھر دونوں میاں بیوی میں کا جھگڑا بھی ہوا ۔بس کافی تیز رفتاری سے جا رہی تھی یا للہ کہیں حادثہ نہ ہو جائے ۔ایک گھنٹہ کے سفر کے بعد عرفات خیر و عافیت کے ساتھ پہنچ گئے۔


arafat makkah


مقام عرفات جبل رحمت کے دامن میں واقع ہے جہاں حج کا رکن اعظم ادا کیا جاتا ہے۔یہ میدان پورے سال میں صرف ایک دن آباد ہو تا ہےاب  یہاں  مردوں اور  عورتوں کا ایک ہی ٹینٹ تھا۔لیکن تھوڑی دیر بعد انہیں نے درمیاں میں پردہ لگا لیا۔ شکر ایک صحیح کام کیا۔یہاں پہ کافی بڑے بڑے اے سی لگے تھے اور ہم بالکل سامنے  بیٹھے تھے ۔رش بھی کافی کم تھا ۔اللہ کا بے حد شکر ادا کیا  جلدی سے نماز فجر پڑھی اور سو گئے ۔7 بجے کے قریب ناشتہ کے لئے اٹھایا ۔جلدی  سے اٹھ کر سب میں ناشتہ تقسیم کیا۔دو بریڈ،جیم،مکھن ،ایک ابلا ہو ا انڈہ اور چائے ملتی تھی۔میں نے ایک بریڈ جیم اور مکھن لیا اور چائے پی لی۔

عرفات کا دن کافی سکون سے گزر رہا تھا ۔سب خاموش عبادت میں مصروف تھے۔یہان کا انتظام بھی اچھا تھا۔ہمارے ٹینٹ جبل رحمت سے کافی دور تھا اس لئے سب کو یہ  کہا  گیا تھا کہ کہیں نہیں جانا نماز بھی یہی پڑھنی ہے ۔گرمی بھی ذیادہ ہے  اس لئے ادھر ادھر نہ پھریں ۔عرفہ کا سارا دن عبادت میں گزرا ۔دوپہر کا کھانا  بے انتہا لذیذ تھا ۔پلاؤ  اور جوس دیا گیا ۔چار بجے کے قریب  بادل آئے اور جم کر برسے ۔آہ یہ بارش کیا تھی سکون قلب کا ایک  ذریعہ تھا ۔فورا بجلی بند کر دی گئ لیکن ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ۔پچھلے دن کی ساری گرمی ،تھکاوٹ ،پریشانی سب رفو چکر ہو گئے ۔اللہ اپنے بندوں پر کیسا مہربان ہوتا ہے۔اب بارش بھی برس رہی تھی اور دعائیں بھی جاری تھیں یا اللہ ہمارے حج کو حج مبرور کر دے ۔جو مرد و خواتین پیدل مزدلفہ کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے تھے  وہ مزدلفہ روانہ ہوگئے۔بھائی نے ایک دو دفعہ کہا کہ  میں  بھی پیدل چلنے والوں کے ساتھ مزدلفہ چلا  جاؤں گا تم لوگ باقی گروپ کے ساتھ آجانا مگر ہم نے کہا نہیں ایسا مت کرو کیونکہ  راستہ میں گروپ والوں سے گم بھی ہو سکتے ہیں پھر کیا کریں گے۔اس لئے پھر وہ رک گیا۔ویسے مکہ میں بھائی پہ ایسے کوئی پابندی نہیں تھی۔



اب تھوڑی دیر بعد ہمیں کہا گیا کہ بسیں تیار ہے نکلو ۔جیسے ہی ہم سامان ہاتھ میں لے کہ باہر نکلے تو کہنے لگے مت آؤ ابھی ٹائم ہے۔ایک گھنٹہ میں دو تین دفعہ ایسا ہوا ۔پتہ نہیں اس شخص کے ساتھ کیا مسئلہ ہے کہ یہ کوئی  بھی کام  پلاننگ کے ساتھ  کیوں نہیں کرتا  یا اس نے سب کو تنگ کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔خیر اللہ اللہ کر کے سب روانہ ہوئے بسوں کی لمبی قطار کھڑی تھی۔دور سے جبل رحمت مکمل سفید نظر آرہا تھا ۔بارش رک گئی تھی لیکن ہوا ٹھنڈی تھی۔بادل اور سورج کی آنکھ مچولی ماحول کو اور خوبصورت بنا رہی تھی۔پھر اس کے بعد ہمیں ایک بس کا کہا کہ چڑھ جاؤ اس میں جگہ نہیں تھی ہم اتر گئے۔پھر دوسری بس میں کہ دوبارہ وہی حال۔اب سب کو تھوڑا تھوڑا غصہ آنے لگا۔اتنے میں اس نے زبردستی ایک بس کھلوائی ڈرائیور اور اس میں زبردست جھگڑا ہوا ۔وڈرائیورچیختا رہا یہ بنگالیوں کی بس ہے  پر اس نے کوئی پروا نہیں کی۔سوات والی آنٹی کے شوہر نے ھیرو کا کردار ادا کرتے ہوئے دروازے میں اپنا ہاتھ رکھ لیا تاکہ دروازہ  بند  نہ کرے  اور بیوی بیچاری پیچھے سے چیختی  رہی ہاتھ ہٹاؤ ہاتھ نہ ٹوٹ جائے۔خیر کسی نہ کسی طرح اس بس میں سوار ہو گئے ۔خواتین  اور بوڑھے بیٹھ گئے باقی لوگ کھڑے تھے۔اب سورج ڈوبنے کا انتظار تھا تاکہ عرفات کے میدان سے نکل سکے ۔دعاؤں کی قبولیت کا یہ وقت تھا ۔ایک شخص فورا اٹھا اور ایک لمبی چوڑی دعا کر لی ۔اور جیسے ہی غروب ہوا تو بسیں آہستہ آہستہ کر کے نکلنے لگی۔

بے تحاشا لوگ پیدل بھی  جا رہے تھے ۔ ان کے لئے بالکل الگ راستہ بنایا تھا اور اوپر پانی کے فوارے لگے ہوئے تھے ۔تقریبا ایک گھنٹہ بعد ہم مزدلفہ پہنچے ۔راستے میں سب سو گئے تھے۔ مزدلفہ اترے تو سب سے پہلے یہ فیصلہ ہوا کہ مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی جائے ۔اللہ کی طرف سے عرفہ کے دن دو دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنا بہت بڑا انعام ہے ۔فورا نمازیں پڑھیں ۔پھر ہمارے ٹینٹ مزدلفہ میں تھے تو فیصلہ ہوا کہ ٹینٹ کی طرف چلے جائے ۔راستے میں کچھ لوگ سوئے ہوئے کچھ عبادت میں مصروف کچھ کھانے پینے میں ایک دنیا تھی مختلف رنگوں مگر ایک ہی لباس میں ملبوس آج کھلے آسمان تلے رات  گزار رہے تھے۔جگہ جگہ بار بی کیو بھی ہو رہاتھا۔ہم پورا گروپ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا ۔راستے میں ٹھنڈے پانی کے نل جگہ جگہ لگے ہوئے تھے۔حکومت کی اس انتظامات پر واقعی ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کو دل کر رہا تھا ۔تین گھنٹہ مسلسل پیدل چلے ۔ آخر کار اپنے خیموں کے قریب پہنچے ۔رات دو بجے تھے ۔فورا جگہ کا بندوبست کیا ۔اتنے میں دو نحیف  آوازیں آئی کہ پیدل آئے ہو یا بس میں ۔ہم نے کہا بس میں بھی اور پیدل بھی ۔کہ رہی تھیں ہم تو عرفات سے پیدل آئے اور اب ٹانگوں نے جواب دے دیا۔ہم نے ان سے کہا کہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا تو کہنے لگی کہ ذیادہ ثواب کمانے کی نیت سے ہم پیدل آئے ۔ایک نے تو اگلے دن پھر بھی ہمت کی لیکن دوسری عورت اگلے ایک ہفتہ تک وہیل چیئر پر رہی ۔

دو گھنٹہ بعد دوبارہ نیند سے جگایا کہ اٹھو نماز پڑھو کیونکہ جمرات کی طرف جانا ہے فورا اٹھے ۔نماز پڑھی اور سامان اٹھایا اور سارا گروپ اکھٹا ہوا یہ تین دن ہم نے صرف دو دو گھنٹہ نیند کی تھی۔عرفہ کے دن دوپہر کو جو کھانا کھایا تھا اس کے بعد سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔بھائی کہیں سے سیب لے آیا مگر وہ کھٹے تھے اس لئے صبح صبح نہیں کھا سکے اور چھوڑ دیا۔یہ وقت بھی دعا کی قبولیت کا تھا ۔آدھے گھنٹہ تک  دعا ہوئی اور اس کے بعد رمی جمار کے لئے روانہ ہوئے ۔صبح کے ٹائم حبس کافی ذیادہ تھی۔جو پانی اٹھایا تھا وہ ختم ہو گیا بے تحاشا پسینہ بہ رہا تھا ۔انرجی لیول بھی ڈاؤن تھا ۔دل میں ذرا عجیب سے خیالات آرہے تھے کہ کہیں رش ذیادہ نہ ہو کوئی حادثہ نہ ہوجائے۔اتنے میں پل  کے نیچے سے گزرے ہماری مردہ چال کو دیکھ کہ وہاں کھڑے سکاؤئٹس والوں نے ایک ایسے ردم سے لبیک اللھم لبیک کہنا شروع کر دیا کہ جتنے لوگ وہاںسے گزر رہے تھے سب میں بجلی بھر گئی اور سب اونچی آواز سے لبیک کہنے لگے ۔اب کیا تھا چلنے کی رفتار تیز ہوئی ۔گراونڈ فلور سے ہی اندر جانے کا فیصلہ ہوا۔سات کنکریاں ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔ٹکا ٹک کی مسلسل آواازیں آرہی تھیں ابھی تک الحمد للہ چند ہی لوگ تھے۔آج صرف جمرہ عقبی کی رمی تھی۔اللہ  اکبر کہ کر ایک ایک کنکری ماری۔شیطان مردود آج سارا بدلہ تم سے لینا تھا ۔الحمد للہ سب کچھ خیر و عافیت سے ہوا ۔فورا امی کو فون ملایا کہ رمی کر لی ۔امی نے بھی شکر ادا کیا پھر کہا عید مبارک ۔اور اس وقت مجھے اتنی حیرت ہوئی کہ کونسی عید۔۔۔۔۔۔




Comments

Popular posts from this blog

ذکر الہی کی اہمیت و فوائد

ماہ شعبان اس کی اہمیت اور بدعات