سفرنامہ ترکی (حصہ اول)





15 اگست 2017گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد یو نیورسٹی میں   پہلا دن تھا-چھٹیاں گزارنے کے بعد کافی اچھے موڈ میں یونیورسٹی آئے تھے-کلاسزشروع ہونے میں  ابھی دن تھے اس لئے سب آپس میں گپ شپ میں مصروف تھے-اتنے میں کسی نے یہ خبر دی کہ یونیورسٹی سے کچھ فیکلٹی ممبران ترکی کانفرنس میں شرکت کے لئے جارہی ہیں ۔تھوڑی سی حیرت بھی ہوئی کہ ہمیں تو کسی نے بتایا ہی نہیں اور ساتھ میں اپنی دیرینہ خواہش بھی سر اٹھانے لگی-تین چار دن بعد ہم ہال میں بیٹھے نئے سٹوڈنٹس کے ایڈمیشن کر   رہے تھے کہ حور آئی اور اس نے مجھ سے کہا " سنا  ترکی کی کانفرنس میں ہر ایک جا سکتا ہے چاہے وہ آرٹیکل پیش کر رہا ہو یا نہیں  تم ایسا کرو گھر میں بات کرو اگر اجازت مل گئی تو بڑا مزہ آئے گا ۔"بس یہ سنننا تھا کہ کہ ہماری خوشی میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔گھر آئے بات کی تو انہوں نے بلا چوں و چرا اجازت دے دی بس فوراحور کو میسیج کیا  اور اس کے بعد منصوبہ بندی شروع ہوگئی-اگلے دن نیلم اور انعم نے بھی جانے کی حامی بھری جس سے خوشی دوبالا ہو گئی-

اس کے بعد ویزے ٹکٹ کا سلسلہ شروع ہوا ۔پھر کچھ لوگ گروپ میں شامل ہوتے گئے اور نکلتے گئے-آخر میں  بس میں حور،انعم ،نیلم ،میڈم منور اور ان کی بیٹی ایشا ہی رہ گئے-اب اکتوبر کا پورا مہینہ ہمارا  یہ کام تھا کی جیسے ہی بریک کا ٹائم ہوتا تو ہم فورا ترکی میں کیا کیا کریں گے کی منصوبہ بندی شروع ہو جاتی۔سب سے پہلے قونیہ ،استنبول کی اچھی چھان بین  کی کہ کہاں کہاں جانا ہے ،شاپنگ کی جگہوں کا پتہ لگایا ،کپاڈوکیا جانے کی بھی منصوبہ بندی کی اور ایک اچھا سا ہوٹل قونیہ شہر کے وسط میں بک کرایا تاکہ ہر جگہ تک رسائی آسانی ہو ۔ساتھ ساتھ میں گروپ کے دیگر ارکان کو یہ بھی کہتی رہی کہ اگر تم لوگوں کو وہاں کا زیتون اور پنیر اچھا نہ لگے تو وہ تم سب پھر مجھے دے دینا کیونکہ مجھے یہ دونوں چیزیں بے حد  پسند ہے ۔

کانفرنس 1 سے 3 نومبر تک تھی۔ہماری فلائٹ  31 اکتوبر صبح سات  بجے تھی ۔30 اکتوبر یونیورسٹی میں جا کر حاضری دی ،امتحان کی ڈیوٹی دی،پھر بھاگم بھاگ  پانچ بجے گھر واپس آئے ۔دو  تین دنوں سے جو پیکنگ ہورہی تھی اس کو  جلدی سے  حتمی شکل دی ۔پاسپورٹ ،ٹکٹ دوسرے ضروری کاغذات پرس میں ڈالے اور رات کے کھانے کے بعد سونے کی کوشش  کی تاکہ تھوڑا آرام کر لیں ،پر نیند نہ آئی۔سب سہیلیاں مسلسل رابطے میں تھیں-دو کو مردان سے پشاور آنا تھا وہ تین بجے کے قریب گھر سے نکلے ۔راستے میں کافی دھند تھی لیکن وہ خیریت سے پانچ بجے پہنچ گئے ۔ہم بھی ساڑھے چار بجے گھر سے نکلے اور پانچ بجے ائیرپورٹ پہنچے۔اماؤں نے رخصت کیا ساتھ خوب ذیادہ دعائیں پڑھنےکی تلقین کی اور بے شمار نصیحتیں  بھی کی۔ائیرپورٹ میں کچھ اور لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی جو کانفرنس میں شرکت کرنے جارہے تھے اس میں ہمارے اسلامیہ کالج کے پروفیسر ڈاکٹر نعیم بخاری بھی شامل تھے-

گلف ائیر لائن سے ہمارے سفر کا آغاز ہونا تھا ۔درمیان میں بحرین میں ایک گھنٹہ کا وقفہ تھا۔لیکن ائیرپورٹ پر ایک عجیب ہڑبونگ تھی۔سسٹم ڈاؤن تھا   ۔ساڑھے سات بج گئے تھے لیکن ہم ابھی تک سامان کے ساتھ ہی کھڑے تھے -مینول کام چل رہا تھا۔ہم پاکستانیوں نے اپنے مخصوص طریقہ سے اپنی سفری بیگ کے ساتھ کوئی نہ کوئی نشانی لگائی ہوئی تھی سوائے انعم کے-اتنے میں گلف ائیر لائن کے اہلکار آئے اور انہوں نے بیگ   اٹھانے شروع کئے ۔اتنے میں انعم  نے جلدی جلدی پرس میں ہاتھ ڈالا اور موزہ نکال کر اپنے بیگ کے ساتھ بطور نشانی باندھنا چاہا تو انہوں نے کہا کی بس ٹھیک ہے ٹھیک ہے،اس کی کوئی  ضرورت نہیں ۔ہم اس وقت اتنے ہنسے  اور اس نے موزہ واپس پرس میں رکھ لیا۔لاؤنج پہنچے جہاز میں چڑھے اورسات بجے کے بجائے آٹھ بجے جہاز نے اڑان بھری ۔

اس سے پہلے میرا شاہین ائیر لائن میں کافی خراب  تجربہ رہا تھا-اس لئے نیلم اور حور میرے سمیت کافی ڈرے ہوئے تھے  (ان کو میں نے ہی کافی ڈرایا تھا )البتہ انعم کا  اچھا  خاصا حوصلہ تھا۔میری انعم ،نیلم کی ایک ساتھ سیٹ تھی جب کہ حور پیچھے بیٹھی تھی۔ جیسے ہی جہاز اوپر جانے لگا نیلم نے فورا میرا ہاتھ پکڑا ہائے سنا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے-میں نے کہا نیلم ایسے مت کہو ہم دونوں ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔لیکن گلف ائیرلائن کی سروس کافی اچھی تھی -دو گھنٹوں میں بحرین ائرپورٹ پہنچے ۔جو ایک گھنٹہ کا وقفہ بحرین ائیرپورٹ پر گزارنا تھا وہ ہم پشاور ائیرپورٹ پر گزار چکے تھے اس لئے بھاگم بھاگ دوسری فلائٹ کے لئے پہنچے ۔ائیرپورٹ کافی اچھا تھا  اور حیرت کی بات یہ تھی کہ انگلش اور عربی زبان کے علاوہ ہندی زبان  میں بھی اعلانات ہو رہے تھے۔

دوسری فلائٹ کا ٹیک آف کافی اچھا تھا اس لیے ذیادہ سمجھ نہیں آئی ۔اس فلائٹ کا ٹائم  5 گھنٹے تھا -بس نقشہ سیٹ کیا اور اس کو دیکھتے رہے کافی بوریت بھی ہوئی-اس دفعہ نیلم اور حور ایک ساتھ بیٹھی۔میں اور انعم ایک ساتھ بیٹھے۔میڈم منور اور ان کی بیٹی ہم سے آگے والی سیٹ پہ بیٹھے ہوئے تھے۔ایشا نے کافی مزےکۓ۔اچھے خاصے کارٹون دیکھے   درمیان  میں خوب زور سے ہنستی تو ڈانٹ بھی پڑتی -میڈم منور  ہمیشہ کی طرح اپنے لیپ ٹاپ میں ہی مصروف رہی-لنچ کا ٹائم آیا ۔ بھوک بھی لگی تھی کیونکہ صبح 4 بجے تھوڑا بہت کھایا تھا لیکن جب لنچ کھولا تو عجیب و غریب قسم کا سلاد ،چکن  اس کے ساتھ بغیر نمک مرچ کے سبزی ۔بس اس کو دیکھ کے فورا بھوک اڑ گئی۔صرف جوس پی کے گزارہ کیا اور تھوڑا بہت کھا لیا۔درمیان میں سیٹیں بھی بدلتے تھی کبھی میں شیشہ کی طرف ہو جاتی تھی اور کبھی انعم ۔

پانچ گھنٹوں کا سفراللہ اللہ کر کے اختتام پذیر ہو رہا تھا ۔جیسے جیسے استنبول نزدیک آرہا تھا   نیچے بحیرہ مر مرہ نظر آنے لگا۔تھوڑے تھوڑے بادل  نظر آنے لگے۔ میرا اور حور کےخواب کی تکمیل کا وقت قریب آرہا تھا۔ جب ہم پشاور سے مردان جاتے ہوئے موٹروے پر  استنبول کی چھوٹی سی ٹاؤن شپ کو دیکھتے توکہتے تھے "یا اللہ  ہمیں بھی استنبول  لے جا " ۔دل خوشی سے نہال تھا  اور  تقریبا آدھ گھنتہ بعد ہم " اتاترک انٹرنیشنل ائیر پورٹ " پر لینڈ کر گئے۔ گلف ائیرلائن کی سروس ،لینڈنگ اور ٹیک آف نہایت اچھی  تھی ،اس لئے ہم سب نے بھی ڈرنا چھوڑ دیا ۔




اب ہم اپنے سامان کے انتظار میں کھڑے تھے ۔سب سے پہلے انعم کا سامان آیا  پھر جتنے لوگ گروپ میں تھے سب کا سامان آگیا ۔میرا نیلم اور حور کا سامان نہیں آیا ۔ یا اللہ یہ کیا ہو گیا پٹی چلنا بند ہو گئی اور ہمارا سامان نہیں آیا بس ہم  تینوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ۔یا اللہ اب کیا کریں گے آخر سامان کہاں رہ گیا؟یہ 9 دن اب کیسے گزریں گے؟  صرف ایک ایک سوئیٹر  ہاتھ میں لیا تھا کیونکہ پاکستان کا موسم  گرم تھا  اور وہاں کا ٹھنڈا اس لئے ایک سوئیٹر ہاتھ میں پکڑا کہ جیسے ہی اتریں تو فورا پہن لیں  گے(پھر اس سوئیٹر پر اگلے دو دن اللہ کا کافی شکر ادا کیا) ۔وہاں کے گلف ائیر لائن کے دفتر سے رابطہ کیا انہیں نے معلومات درج کرنے کا کہا اور پھر یہ اطلاع دی کہ آپ کا  سامان پشاور ائیر پورٹ پر ہی رہ گیا ہے۔بس اس کے بعد تو تھوڑا رونے کو دل کر رہا تھا ۔ بوجھل قدموں سے ائیر پورٹ سے نکلے ۔نکلتے ہی لیمن جوس پیا تاکہ  دماغی حالت ٹھیک ہو جائے اس کے بعد ڈومیسٹک ٹرمینل کی طرف روانہ ہوئے ۔وہاں سے ٹرکش ائیرلائن سے قونیہ تک کا سفر کرنا تھا۔رات 9:45بجے فلائٹ تھی -چھوٹا سا جہاز تھا ۔ایسے ٹیک آف تھا کہ  دل عجیب سا ہو گیا ۔ 45 منٹ کی فلائٹ میں برگر دیا گیا جس پر ساتھ بیٹھے ہوئے ایک ٹرکش نے ایسی تعریف کی کہ یہ برگر ضرور کھاؤ بہت ہی لذیذ ہے-جب حور نے اس کو تھؤڑا کھولا تو اس میں ٹماٹر اور  پنیر پڑا تھا ۔حور نے چپکے سے مجھے کہا کہ میں ایک نوالہ لیتی ہوں پھر تمھیں بتاتی ہوں اس کا ذائقہ کیسا ہے۔جیسا ہی نوالہ لیا تو فورا کہا کھاؤ مت صحیح ٖفضول ہے  بس پھر ہم نے اس کو ہاتھ ہی نہیں لگایا۔قونیہ ائیرپورٹ پر خیریت سے لینڈ کیا ۔ باہر کافی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی فورا سوئیٹر پہنا ۔رات کے 10:30 بج رہے تھے-ائیرپورت پر ڈیری سائینس والوں کی طرف سے مسٹر عامرنے گروپ کا استقبال کیا۔اس کے بعد سب ٹیکسی میں بیٹھے اور اپنے مطلوبہ ہوٹل روانہ ہوئے۔

قونیہ ترکی کا ایک شہر ہے جو اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ رقبے کے لحاظ سے ترکی کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔رومی اس شہر کو اکونیم

Iconium کہتے تھے۔ اس شہرپر 1071ء میں جنگ ملازکرد کےبعد سلجوقیوں کا قبضہ ہو گیا اور 1097ء سے 1243ء تک یہ سلاجقہ روم کا

 دار الحکومت رہا۔ تاہم اس دوران صلیبی جنگوں کے باعث یہ عارضی طور پر عیسائیوں کے قبضے میں بھی رہا ۔ صلیبیوں کے جانے کے بعد

 سلجوقیوں  نے اس پر دوبارہ قبضہ کر لیا- 1205ء سے 1239ء کے دوران اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب سلطان نے اناطولیہ، مشرق

 وسطی کے چند حصوں اور کریمیا پر بھی قبضہ کر لیا۔ 1243ء میں قونیہ پرمنگولوں نے قبضہ کر لیا۔ 1307ء سے 1322ء تک قرہ مانیوں کی

 امارت رہا۔ 1420ء میں عثمانیوں کے ہاتھوں فتح ہوا اور 1453ء میں اسے صوبہ قرہ مان کا دار الحکومت بنادیا گیا۔صوفی شاعر جلال الدین محم

د رومی کا مزار بھی یہیں واقع ہے۔

جس ہوٹل میں ہم نے قیام کیا تھا اس کا نام "اوٹل بیکارا" تھا ۔ہوٹل  میں اترے سامان اندر رکھا اور فورا کھانا کھانے باہر نکلے -بہت ذیادہ بھوک لگی ہوئی تھی۔رات کے دس بجے تھے ۔سڑکیں خالی تھی۔اگلے  کچھ دنوں میں اندازہ ہوا کی ترکی کے لوگ رات ساڑھے دس کے بعد باہر نظر نہیں آتے ۔سارا کاروبار سب کچھ دس بجے تک سمیٹ لیا جاتا ہے۔اس کے بعد ہم نے مینو چیک کیا زبان کی سمجھ نہیں آئی بس تصویروں سے اندازہ کیا ۔ دو قسم کے سوپ  منگوائے ۔روٹی کی جگہ بند دیئے  اور تین چار قسم کے اچار دیئے گئے۔جب ایک دو نوالہ لئے گئے تو تو پتہ چلا کہ تصویروں میں جس طرح پکوان دکھائے جاتے تھے یہ تو بالکل اس کے الٹ ہے۔نہ ذائقہ نہ نمک -بس زبردستی کچھ نوالے کھائے اب جو پیسے لگائے تھے اس کا حق بھی ادا کرنا تھا۔ البتہ چقندر اور مرچوں کا اچار اچھا تھا لیکن سوپ کے ساتھ اس کی کوئی ملاپ نہیں تھا۔






اوٹل بیکارا کا اندرونی منظر

واپس ہوٹل آئے ۔عشاء کی نماز پڑھی۔صبح نماز کے لئے الارم لگایا  اور یہ فیصلہ ہوا کہ اب اگلے نو دن صبح نماز کے بعد سونا نہیں ہوگا اور جتنا ممکن ہو گا اس شہر کو   دریافت کریں گے-

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                        جاری ہے                                                           

                                                                                                                                                                                                                                                                                



 

Comments

  1. Refreshing memories, specially saman ka rahy jana and moza..

    ReplyDelete
  2. Beautifully written...seemed as if I flew with you too 😊

    ReplyDelete
  3. Wah sanaa ye parh k sub kuch yad agya 😀 Anum ka moza hahahahaha

    ReplyDelete
  4. Waahhhhh zbrdst... or Mujy bhi yaad hai jb aap log gaye thy.. wo din bht achy thy.. waps aaky mn qissay sunti rahi😄..

    ReplyDelete
  5. بہترین انداز بیاں۔ ترکی جانے کی خواہش از سر نو تازہ ہو گئی

    ReplyDelete
  6. Replies
    1. http://www.sanaziablog.com/2021/11/serafettin-mosquekonya-7-10-10-12-2-2.html?m=1

      Delete
  7. Brilliant traveling journal dear.

    ReplyDelete
  8. Done with reading the first part , Mashallah great writing skills M.sana , recalled a lot of things about this journey which you told us in the class .

    ReplyDelete
  9. MashAllah aisa laga ke hum be ja raha ha ahahahha well the best part was the moza🤣 and saman ka rah jana or bakaya pieces of advise jab kuch samajh na aye tu chicken kao ya dumba

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

سفرنامہ حج(حصہ دوم)

ماہ شعبان اس کی اہمیت اور بدعات

رجب کا مہینہ ،اہمیت اور اس کی بدعات