سفرنامہ ترکی (استنبول)حصہ چہارم
بیکارا ہوٹل نام سے تو بیکارا تھا مگر اس کی سروس کافی بہترین تھی۔صفائی کا انتظام زبردست تھا اور باقی سہولیات بھی بہترین تھی۔قونیہ کے وسط میں ہونے کی وجہ سے ہرجگہ تک پہنچ آسان تھی.ٹرام سٹیشن ،ائیرپورٹ اور ٹرین سٹیشن بھی قریب تھے۔جب ٹرین سٹیشن پر پہنچے تو دیکھا کہ جس ٹرین سے ہم نے جانا ہے وہ مخالف سمت میں کھڑی تھی۔اب اس سائڈ پہ کیسے جائیں ۔ابھی یہ سوچ رہے تھے کہ ایک گارڈ کو ہماری پریشانی سمجھ آگئی اس نے اشارے سے کہا اس طرف جانا ہے ہم نے بھی سر ہلا دیا۔اس نے کہا میرے پیچھے آؤ۔پہلے لفٹ میں تہ خانے گئے پھر وہاں سے لفٹ میں اوپر دوسری طرف نکل آئے ۔کافی لمبی لائن تھی۔جلدی جلدی چیکنگ کا مرحلہ طے پایا ۔جس کے بیگ کا سائز بڑا تھا اس سے دس لیرا اضافی لئے اور پھراپنے کیبن کو ڈھونڈا ۔نیلم اور حور کے بیگ کافی بھاری تھے ۔دو بندے اوپر چڑھے اور دو نیچے سے بیگ دیتے گئے(اتنا سامان کسی کے پاس نہیں تھا )ہمارے پیچھے ایک لمبی قطار بن گئی ۔کچھ لوگ پاکستانی پاکستانی کہ کے تھوڑا ہنسے ۔خیر ہم نے بھی اگنور کر دیا۔ٹرین کی روانگی سے صرف پانچ منٹ پہلے ہم اپنی مطلوبہ سیٹ پر پہنچے۔نیلم اور انعم کو ایک ساتھ سیٹ ملی ۔مجھے اور حور کو الگ الگ سیٹیں ملی وہ بھی کھڑکی کی طرف نہیں تھی۔تھوڑی دیر بعد ہم نے نیلم اور انعم کو کہا آدھے سفر کے بعد تم دونوں نے ہماری سیٹوں پر اور ہم تمھاری سیٹوں پر بیٹھیں گے۔
بلٹ ٹرین بھی کسی جہازسے کم نہ تھی ۔اتنی آرام دہ سیٹیں تھی پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ ٹرین میں سفر ہو رہا ہے ۔4 سیٹیں آمنے سامنے بھی تھی جس کے درمیاں ایک بڑا ٹیبل ہوتا تھا ۔درمیاں میں چھوٹے چھوٹے گاؤں نظر آتے تھے۔باہر کا منظر بھی اچھا تھا ۔ہر طرف خزاں پھیلی ہوئی تھی۔ہر سٹیشن پر پانچ منٹ کے لئے ٹرین رکتی پھر روانہ ہو جاتی۔جب آدھا سفر گزرا حسب وعدہ سیٹیں بدلی اور بیکری سے جو سامان لیا تھا اس کو کھایا ۔بسکٹ میں چینی نہیں تھی اور رولز میں نمک کی کمی ۔اپنے باقی گروپ والوں کو بھی آفر کیا۔ٹرین میں کھانے پینے کا سامان ملتا تھا لیکن اس کے الگ پیسے دینے ہوتے تھے۔جب بحیرہ فاسفورس نظر آنے لگا تو سمجھ گئے کہ سفر اختتام پذیر ہونے والا ہے ۔ہلکی ہلکی بارش بھی شروع ہو گئی تھی۔نیٹ کی سہولت موجود تھی اس لئے گھر والوں کو اطلاع دی کہ ہم استنبول پہنچنے والے ہیں۔
استنبول میں ہوٹل بک کرانے کی ذمہ داری میری تھی ۔میں نے پاکستان میں اپنے ایک جاننے والوں سے (جو ہم سے پہلے ترکی گئے تھے)سے رابطہ کیا اور جس ہوٹل میں انہوں نے قیام کیا تھا وہی بک کرایا۔3کمرے اک میم وی سی کی فیملی کے لئے ،ایک میم منور اور ان کی بیٹی اور ایک ہم چاروں کے لئے ۔ہوٹل سستا بھی تھا اور یوروپین سائڈ پہ سلطان احمد سکوائر میں واقع تھا جس کے ساتھ تمام تاریخی مقامات قریب تھے۔اب جب پلاننگ بدلی تو استنبول میں بھی بکنگ بدلنا پڑی۔پھر قونیہ سے ان کو کالز پہ کالز ملائی کہ ہم ایک دن پہلے آرہے ہیں ۔پہلے تو اس شخص کو سمجھانا ۔پھر اس نے انکار کیا کہ میرے ساتھ کوئی کمرہ فری نہیں ہے ۔میں نے کہا بس اب یہ تمھاری ذمہ داری ہے ہمارا کوئی بندوبست کرو ہم نے ٹکٹ کنفرم کئے ہیں کل آرہے ہیں اور فون بند کردیا۔اب قونیہ میں جتنا وقت سکوں میں گزرا تو استنبول میں وہ تھوڑا بدلا ہوا تھا۔استنبول میں ہمیں دن میں ایک یا دو دفعہ ہلکی پھلکی ڈانٹ بھی سننی پڑتی۔اور یہ ڈانٹ کا سلسلہ استنبول کے ٹرین سٹیشن سے ہی شروع ہوگیا۔
استنبول جس کو تاریخ میں قسطنطنیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے سطان محمد فاتح نے 1453 میں فتح کیا تھا۔یہ شہر 16 صدیوں تک متعدد سلطنتوں کا دارالحکومت رہا ہے ۔یہ شہر بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ اسود کے درمیان آبنائے باسفورس کے دونوں کناروں پر واقع ہے۔یہ آبنائے، ایشیا کو یورپ سے جدا کرتی ہے۔یورپ کی طرف یہ تھریس سے ملتا ہے اور اس کی ایشیائی طرف انطالیہ سے ملتی ہے۔تجارتی اور تاریخی مرکز یوروپین سائڈ پہ ہے اور آبادی ذیادہ تر ایشیائی طرف پہ ہے ۔استنبول دنیا کا پانچواں بڑا شہر اور یورپ کا سب سے بڑا شہر ہے۔سب سے ذیادہ آبادی والا بھی یہی شہر ہے (اس لئے استنبول میں کافی رش تھا اور صرف سر ہی سر نظر آتے تھے)اور ملک کا اکثر ثقافتی،معاشی اور تاریخی مرکز بھی یہی ہے۔سلطنت عثمانیہ کے دور میں اس شہر کو کافی ترقی ملی اور خاص طور پر سلطان سلیمان کے دور میں فن تعمیر میں کافی ترقی ہوئی۔استنبول میں 165 مساجد سلطنت عثمانیہ کے دور میں بنائی گئی ۔کتب خانے،مدارس ،محلات اس کے علاہ ہیں۔تقریبا تیس کے قریب مختلف تاریخی عمارتوں کو عجائب گھروں میں تبدیل کیا گیا۔گرجا گھروں کی بھی کافی تعداد موجود ہو کیونکہ اسلام سے پہلے یہ مسیحیت کا گڑھ تھا۔پہلےاس کا نام اسلام بول تھا جو بعد میں استنبول میں تبدیل ہو گیا۔کسی زمانے میں اس کا شمار یورپ کا سب سے گندے ترین اور آلودہ شہروں میں ہوتا تھا لیکن جب طیب اردوگان نے بطور مئیر اس کی ذمہ داری سنبھالی تو اس کے بعد دنیا کا سب سے ذیادہ صاف ستھرا شہر ہونے کا اعزاز بھی اسی کو ملا۔
ٹرین سٹیشن ایشیائی سائڈ پہ تھا ۔ ہم اپنا سامان لے کر ٹرین سے اترے تو فورا ایک قلعی پکڑا اور اس کو سامان تھما دیا ۔لفٹ کے زریعے پہلے تہ خانہ جانا تھا پھر وہاں سے دوسری طرف جانا تھا۔میم وی سی نے کہا آپ لوگ پہلے جائیں اور پھر باہر ہمارا انتظار کریں۔ہمیں نہیں پتہ تھا کہ سٹیشن کے دو راستے ہیں ۔ہم بالکل باہر نکل کر ان کے انتظار میں کھڑے ہو گئے۔اب وی سی لوگ جب نیچے اترے تو وہ دوسرے طرف چلے گئے ۔ 10 منٹ گزرے تو میں اور حور ان کی تلاش میں نکل پڑے اور ان دونوں کو سامان کے پاس چھوڑ دیا ۔اب اتنے رش میں ان کو ڈھونڈنا ،دوسرا ہم یہ سوچ رہے تھے کہ اگر ہم سے راستہ گم ہو جائے تو پھر ان دونوں کے ساتھ کیسے ملیں گے سم تو تھی ہی نہیں ہمارے پاس۔کافی تلاش کے بعد ہمیں ایشاء ملی ہم دوڑے دوڑے گئے ۔جب انہوں نے ہم یں دیکھا تو ایک ڈانٹ پڑی کی تم لوگ ہمارا انتظار نہیں کر سکتے تھے ۔پھر کہا ہمارا ارادہ تھا بڑی ٹیکسی کرنے کا لیکن اب آپ لوگ اپنی طرف سے جائیں ہم اپنی طرف سے۔اتنی تلاش کے بعد ایسی ڈانٹ سننے پر استنبول آنے کی خوشی تھوڑی کم پڑ گئی۔
جب ہم واپس آئے تو ان دونوں کو ہماری کافی فکر لگی ہوئی تھی کہ ہم شاید گم ہو گئے ہیں۔قصہ سنایا تو دونوں نے کہا بس چھوڑو ہو جاتا ہے کبھی کبھی اس طرح۔پھر نیلم نے کہا کہ یہ بوڑھی عورت جو یہاں بیٹھی ہے اس نے ہمارا دماغ کہا لیا۔سیگرٹ کے دھوئیں کے مرغولے چھوڑ چھوڑ کہ ایک گھنٹہ سے تقریر کر رہی ہے اور ہمیں اس کی بات کی سمجھ نہیں آرہی جب سمجھ آئی تو کا یہ مطلب تھا کہ اس ایک ٹیکسی میں چار لوگ اور چھ صندوق نہیں آسکتے ۔ہم نے بھی اردو میں جواب دیا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں ہمیں طریقہ آتا ہے۔(دو ٹیکسیوں میں بیٹھ کر رسک نہیں لے سکتے تھےمغرب کا وقت بھی قریب تھا)۔ٹرین سٹیشن ایشیائی سائڈ پہ تھا اور ہم نے یورپین سائڈ پہ جانا تھا۔ٹیکسی باری آنے پر ملتی تھی ۔اب جب ہماری باری آئی تو پہلے ہمیں سب نے سمجھایا کہ دو ٹیکسیاں کرو پر ہم نہیں مانے ۔300 لیرا کرایہ طے ہوا ۔دو صندوق ڈیک میں رکھے ۔دو پچھلی سیٹ پہ اور ساتھ تین لوگ اندر زبردستی گھس گئے اور باہر والوں کو ہم نے کہا ہمارے پیچھے دروازہ بند کرو ۔(سارے لوگ تماشہ بھی دیکھ رہے تھے)ایک آگے بیٹھا اور دو صندوق اس کو تھما دئیے اور ہم روانہ ہو گئے۔راستہ میں ٹیکسی والے نے موبائل نکالا پہلے 300 لکھا مٹایا ۔پھر 350 لکھا ۔ہم نے سر ہلا دیا ۔ہمیں یہ سمجھ آئی کی شاید یہ کہ رہا ہے کہ کرایہ 350 بنتا ہے میں نے 300 لیا ہے۔مغرب کے قریب ہم اس برج پر پہنچے جو ایشیااور یورپ کو آپس میں ملاتی ہے۔کیا خوبصورت منظر،بے انتہا رش ، لائٹوں کی بھرمار،اور ہلکی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری تھا ۔تقریبا یہ سفر ڈیڑہ گھنٹہ میں اختتام پذیر ہوا ۔جب اترے تو 300 لیرا دیے تو اس نے کہا 50 اور دو ۔ہم نے کہا کیوں ۔اس نے موبائل نکال کر اشار ہ کیا تو پھر ہم سمجھے کہ اس نے راستے میں ہی کرایہ بڑھا دیا اور ہم نے اس سے کیا مطلب لیا ۔ٹیکسی سے اترے تو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی ۔مہمت(جس کے ساتھ ہوٹل کی بات ہوئی تھی) اپنے مقررہ وقت پر پہنچا۔اس نے کہا کہ میرے ہوٹل میں آپ لوگ کل شفٹ ہو جائیں گے آج میں نے آپ لوگوں کے لئے اپارٹمنٹ لیا ہے ۔سامان گھسیٹتے ہوئے اس کے پیچھے گئے ۔دو صندوق اس نے ہم سے لے لیے۔ سامان گراؤنڈفلور پہ واقع اپارٹمنٹ میں منتقل کیا۔ساتھ ہی اس نے کہا کہ یہ اپارٹمنٹ کا کرایہ کافی ذیادہ ہے لیکن چونکہ تم لوگ کسی ریفرنس سے آئے ہو اس لئے حسب وعدہ میں نے اسی قیمت پہ دیا ہے(یہ تو اس کی اچھائی تھی ورنہ قصور ہمارا تھا کہ ہم ایک دن پہلے چلے آئے)۔فل فرنشڈ اپارٹمنٹ ،تین کمرے ،کچن،لاؤنج ااور بالکل سڑک کے کنارے کیا اچھی جگہ تھی۔ایک کمرے میں میم وی سی اور دو بچے،ایک میں انعم نیلم اور حور اور ایک میں میں، میم منور اور ایشاء ہو گئے ۔سامان رکھا اور باہر نکلے ۔سارا علاقہ اوپر نیچے تھا ۔سلطان فاتح(نیلی) مسجد کی طرف گئے ۔اس وقت وہ بند تھی ۔رات کا کھانا کھایا جو سینڈوچ او ر جوس پرمشتمل تھا۔انعم کا پیپرونی سے بھرا ہوا تھا۔قونیہ کے مقابلے میں کھانا کافی مہنگا تھا ۔ بہت ذیادہ تھکے ہوئے تھے اس لئے دس بجے واپس اپارٹمنٹ آئے تو پتہ چلاایک ہی چابی تھی وہ میم وی سی لوگ لے گئے ہیں۔ہائےاب کیا کریں گے ۔ادھر ہی راستے میں بیٹھ گئے ۔ایک گھنٹہ بعد وہ لوگ لوٹیں ۔اللہ کا شکر ادا کیا ۔ایک ایک ڈبل پونسٹان کھائی ،صبح کے لئے الارم سیٹ کیا اور سو گئے۔
جاری ہے۔۔۔
I, m so excited for next episode
ReplyDelete:)
DeleteWaiting for the next episode... Superb👌
ReplyDeleteThank u
DeleteHahahaha sub kuch refresh ho gya.wo taxi ka safar bht funny tha
Delete🤣🤣
Deleteسفر نامہ بڑا دلچسپ ہے
ReplyDeleteشکریہ
Delete