سفرنامہ ترکی (استنبول )حصہ پنجم
اپنے معمول کے مطابق صبح کی نماز کے لئے اٹھے اور 7 بجے جیسے ہی روشنی پھیلی ناشتہ کرنے باہر نکلے ۔استنبول سارا پہاڑی علاقہ ہے۔ ہماری یہی کوشش ہوتی تھی کہ جتنا ہو سکے ہم پیدل گھومیں پھریں ۔بارش تھم گئی تھی لیکن موسم بہت ہی اچھا تھا ۔آسمان پر بادل کے بڑے بڑے ٹکڑےاور سفید اڑتے ہوئے پرندے استنبول کے حسن کو مزید نکھار رہے تھے۔سب سے پہلے سلطان احمد سکوائر کی طرف گئے اس احاطہ میں کافی تاریخی مقامات ہیں۔بالکل صبح کا وقت تھا اس لئے رش بالکل نہیں تھی ہمیں ہر چیز دیکھنے کا اچھا سا موقع ملا ۔سب سے پہلے"walled obelisk"جو رومن کے زمانے کی ایک یادگار ہے اس کو دیکھا ۔یہ مخروطی پتھر کے مینار تھے جو چوٹی کی طرف جاتے ہوئے چھوٹےہو جاتےہیں۔دسویں صدی میں بنائے گئے یہ32 فٹ لمبے مینار جس پر مختلف شکلیں بنی تھی کی سمجھ نہی آئی کہ اس کے بنانے کا مقصد کیا تھا ۔اس کی تاریخ بھی وہاں لکھی تھی لیکن اس کو پڑھنے کے بعد بھی اس کے بنانے کا مقصد سمجھ نہیں آیا ۔ہم نے بس ان تین میناروں کی تصویریں لیں۔ان کے بیچ میں کچھ یونانی یادگار بھی تھے جسے"serpent column' کہا جاتا ہے ۔یہ ان یونانیوں کی یاد میں بنایا گیا تھا جنہوں نے پلاٹیہ کی جنگ میں فارسیوں کا شکست دی تھی۔ یہ 2500 سال پرانی یادگار ہے۔کہا جاتا ہے کہ ان میناروں کے بالکل اوپر تیں سانپ کے منہ مختلف اطراف میں بنے ہوئے تھے جو 16 وں صدی میں کہیں گم ہوگئے تھے۔
ان ستونوں کے بالکل مغرب میں "سلطان احمد یا نیلی مسجد"واقع ہے ۔یہ مسجد ہماری دلچسپی کا مرکز تھا ۔ سلطان احمد کی خواہش پر اس کی تعمیر ہوئی تھی ۔اس کی تعمیر کا کام 1609 سے شروع ہوا اور 1616 میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔اسکے معمار مہمت آغا تھے ۔اس مسجد کے چھ مینا راور آٹھ گنبد ہیں۔اس مسجد کی دیوراوں پر نیلی رنگ کی ٹائلز استعمال ہوئے تھے اس لئے یہ نیلی مسجد کے نام سے مشہور ہے (لیکن اب ٹائلز کی نیلی رنگت غائب ہو گئی ہے)۔بڑا مرکزی گنبد 140 فٹ بلند ہے۔بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ مسجد اپنے گنبوں کے ساتھ نمایاں نظر آتی ہے۔اس میں دس ہزار نمازیوں کی گنجائش موجودہے ۔اس مسجد کے درمیاں میں ایک بہت بڑا فانوس لگا ہوا ہےجو اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔خوبصورت نقش و نگار یہ تمام چیزیں کلاسیکی طرز تعمیر کی نمائندگی کرتی ہے۔مسجد میں شیشے کی 260 سے زائد کھڑکیاں ہیں تاکہ ہوا اور روشنی کا اچھا انتظام ہو سکے ۔اس کے چاروں طرف مختلف بالکونیاں بنی ہوئیں ہیں ۔
جس وقت ہم گئے تھے مسجد میں بہت کم لوگ تھے کیونکہ نماز کا وقت نہیں تھا ۔مسجد کے آخر میں ایک چھوٹی سی گرل لگا کر وہ جگہ عورتوں کے لئے مخصوص کی ہوئی تھی ۔جو غیر مسلم عورتیں آتی تھیں ان کو سکارف دیئے جاتے تھے تاکہ وہ سر ڈھک کر اندر جائے اور مسجد کا تقدس ماپال نہ ہو۔اس خوبصورت مسجد کو دیکھ کر یہ یقین نہیں آتا کہ کہ اتنی صدیوں پہلے بنی ہوئی ہے ۔اپنے آباؤ اجداد کی ترقی کو دیکھ کر دل میں فخر کے جذبات پیدا ہوئے ۔مسجد کی دوسری طرف سے باہر نکلے ۔بڑے بڑے چمن جس میں خزاں پھیلی ہوئی تھی ۔گیٹ سے باہر نکلے تو کیا ہی خوبصورت منظر تھا ۔سامنے آیا صوفیہ کی عمارت ،درمیاں میں بکثرت لگے ہوئے فوارے ،چمن،صاف ستھرا ماحول،ایک طرف سلطان احمد وقف کی گنبدوں والی عمارت ،سلطان احمد کا مزار اور دوسری عمارتیں بھی موجود تھیں۔ان تمام جگہوں میں مٹر گشت کیا تصویریں لیں اور ناشتہ کی تلاش میں روانہ ہوئے۔ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ایک پلیٹ ناشتہ منگوایا۔اس میں آملیٹ،جیم ،مکھن ،پنیر،زیتون،کھیرا ،ٹماٹر اور بند شامل تھے۔آملیٹ کی خوشبو سے پاکستان کے ناشتہ کی زبردست یاد آئی ۔(اتنے دنوں سے بند کھا رہے تھے روٹی کی بھی اچھی خاصی یاد آئی )ناشتے کے بعد شوگر لیول کافی بحال ہوا تو توپ قاپی محل دیکھنے روانہ ہوئے ۔
راستے میں"The fountain of ahmed III" دیکھا ۔یہ فاؤنٹین 1729 میں بنایا گیا تھا سلطان احمد ثالث کے حکم پر معماراحمد آغا نے تعمیر کیا تھا۔اس کا فن تعمیر ٹیولپ سٹائل تھا -یہ عمارت مربع بنائی گئی تھی جس کے کنارے گول تھے-اپنے دور میں ایک سماجی مرکز تھا۔چاروں طرف سبیل لگے ہوئے ہیں جس میں اس وقت شربت یا چائے مفت ملتی تھی۔اس کے اوپر پانچ چھوٹے گنبد بنے ہوئے ہیں۔اسکے اوپر نیلی اور سرخ رنگ کے ٹائلز لگے ہوئے ہیں جس کے اوپر سید حسین وھبی کی نظم خوبصورت خطاطی میں لکھی ہوئی ہے۔
اس کے بعد توپ قاپی پیلس گئے ۔یہ عثمانی بادشاہوں کی رہائش گاہ اور اس وقت کےریاستی معاملات کا مرکز تھا۔آج کل اس کو میوزیم میں بدل دیا گیا ہے ۔اس محل کی تعمیر کی تعمیر 1459 میں سلطان فاتح کے حکم پر شروع ہوئی۔اپنے وقت میں اس میں چار ہزار سے زائد افراد رہائش پذیر تھے۔محل عثمانی طرز تعمیر کا عظیم ترین نمونہ ہے اور اس میں اس دور کے ظروف، ملبوسات، ہتھیاروں، ڈھالوں، فن پاروں، خطاطی کے نمونوں اور عثمانی خزانوں اور زیورات نمائش کے لیے موجود ہیں۔
40 لیرا کا ٹکٹ لیا۔پیلس کے چاروں طرف سے باسفورس کا خوبصورت منظر نظر آرہا تھا ۔توپ قاپی کیا تھا پورا ایک شہر تھا ۔بڑے بڑے درخت ،مختلف عمارات ،اس پر خوبصورت نیلی رنگ کی نقش و نگار، جگہ جگہ پہ سبیلیں لگی ہوئی ،بادشاہوں کے بیٹھنے کے مختلف کمرے ،گرمیوں کے موسم کے لئے بنی مسجد بھی موجود تھی ۔حضور ؐ اور صحابہ کرام کی مختلف چیزیں بھی پڑی تھیں جس کی تصویریں اتارنے کی اجازت نہ تھی(پھر بھی ہم نے چپکے سے ایک تصویر لینے کی کوشش کی جس میں ہم کامیاب ہوئے لیکن پھر ایک آواز آئی Photography is not allowed) ۔اسی جگہ سارا وقت ایک قاری قرآن کی تلاوت میں مصروف رہتا تھا ۔اتنابڑا باورچی خانہ بھی موجود تھا جس میں مختلف قسم کے برتن موجود تھے۔حورم سلطان کے محل پر الگ سے 30 لیرا کا ٹکٹ تھا ۔اس کے محل میں ہر چیر سنہری رنگ کی تھی۔وہاں سے باہر نکلے تو کافی سر چکرا رہا تھا ۔اتنے میں میم وی سی اور میم منور کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا ۔ہم نے سلام کیا سامنے سے زبردست ڈانٹ سننے کو ملی کہ صبح ہمیں بغیر بتائے کیوں نکل گئے۔(اس کی بھی ایک وجہ تھی کہ ہماری یہی روٹین تھی صبح سات بجے نکلنا اور واپس دس بجے رات کو آنا اور وہ سب 9 بجے اٹھتے اور تقریبا 11 واپس آتے )۔واپس اپارٹمنٹ آئے مہمت کے ساتھ سب ہوٹل دیکھنے گئے لیکن وہ ذرا گلیوں کے اندر تھا اس لئے ہم نے کہا کہ یہی اپارٹمنٹ اچھا ہے اور واپس آگئے ۔رات کا پروگرام یہ بنا کہ سب مل کر یہاں کہ سب سے بڑے مال جائیں گے ۔ہم بھی راضی ہو گئے ۔عصر کے وقت ٹرام ٹکٹ لینے روانہ ہو گئے ۔یہاں کا طریقہ کار قونیہ سے مختلف تھا ۔وہاں فری میں کارڈ بنتا تھا یہاں 10 لیرا کا بنتا تھا اور دوکان سے کارڈ لینا ہوتا تھا۔ابھی ہم کارڈ کی تلاش میں ادھر ادھر پھر رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے کہ کسی نے اردو زبان میں کہا کارڈ اس دوکان سے ملتا ہے ۔مڑ کے دیکھا تو افغانی تھا اس نے پاکستان میں کافی وقت گزارا تھا ۔دیار غیر میں اپنی زبان سننے کو ملی تو کافی خوشی ہوئی اس نے گائیڈ کیا ۔ہم چاروں نے ایک کارڈ لیا اسے ری چارج کیا اور ٹرام میں روانہ ہوئے ۔ دو قسم کے ٹرام بدلنے تھے ۔ایک انڈرگراؤند میں بھی جانا تھا وہاں سے مال پہنچے ۔میم وی سی نے کہا کہ 10 بجے اسی گیٹ پہ واپس آنا ہے ۔کافی بڑا مال تھا کچھ جیولری خریدی ،LC WAIKIKI کےبرینڈ سے کچھ سوئیٹرز خریدے (آگے جتنے دن بھی استنبول میں گزارے اس کی ایک ایک دکان چھان ماری )بہت ہی معقول قیمت پر کافی زبردست سؤیٹرز موجود تھے۔صبح سے ناشتہ کے بعد کچھ کھایا نہیں تھا اس لئے بہت بھوگ لگ رہی تھی ۔اوپر منزل پہ گئے سب نے میکڈونلڈ سے آرڈر کیا پر ہم نے ٹرکش پیزے کو ترجیح دی ۔پیزا کیا تھا پیپرونی اور چیز سے بھرا ہوا ۔جوس کے ساتھ اس کو زبردستی گلے سے اتارا۔واپسی میں گیٹ بھول گئے جس پہ ہم سب کو ملنا تھا ۔تھوڑ تاخیر سے پہنچے اب ایک اور ڈانٹ ہماری منتظر تھی۔
جاری ہے
😍👍
ReplyDelete:)
Delete