سفرنامہ ترکی (استنبول)حصہ ششم
باہر نکلے تو میم وی سی اور باقی سب انتظار کر رہے تھے ۔ہمیں دیکھا تو کہا ہم کب سے آپ لوگوں کا انتظار کر رہے ہیں آپ لوگ کہاں غائب ہو گئے تھے ۔ہم نے کہا گیٹ بھول گئے تھے ۔بعد میں کسی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے سینڈیکیٹ کی میٹنگ سے لیٹ ہو گئے جو ایسی ڈانٹ پڑی۔خیر واپس ٹرام میں آئے ۔حور اور نیلم چائے لینے چلے گئے کیونکہ سر میں کافی درد تھا ۔نیچے جب کیفے میں گئے اور ایک دوسرے سے اردو میں بات کی تو درمیان میں کیفے والے نے بھی اردو میں ایک بات کا جواب دیا ۔یہ کیا استنبول میں دوسرا بندہ ملا جس کو اردو آتی ہے۔پتہ چلا کہ افغانی ہے ۔اس کا نام سہراب تھا بچپن سے لے کے بی اے تک اپنا وقت پاکستان میں گزارہ تھا۔کچھ عرصے پہلے یہاں آیا تھا ۔کیفے میں کام کرتا تھا۔پھر سب نے مل کہ ترکی کے کھانوں کے پیچھے غیبتیں کی ۔اس سے پوچھا چائے بنانی آتی ہے اس نے کہاں ہاں۔ہم نے کہا صبح کا ناشتے میں ہمیں چائے بنا دینا اس نے کہا ٹھیک ہے۔اگلے دن ہم لوگ اس کے کیفے کے باہر جو کرسیاں پڑی تھی اس پہ بیٹھ گئے اور اس نے آملیٹ اور چائے بنائی ۔آہ اتنے دنوں بعد دودھ والی چائے پی۔اس سے تقسیم سکوائر کے بارے میں معلومات لی ،کرایوں کا پوچھا اور آج کے دن کی پلاننگ کی اور روانہ ہوئے ۔
قونیہ میں ذیادہ تر ہمارا سفر ٹرام میں ہوتا تھا یا ہم پیدل چلنے کو ترجیح دیتے تھے۔ٹیکسی بہت کم استعمال کی ۔کھانے کی قیمتیں بھی وہاں مناسب تھی۔جہاں تک استنبول کا تعلق تھا ٹرام کی ہر جگہ رسائی نہ تھی۔شہر کافی بڑا تھا اس لئے ٹیکسی میں اور پیدل جتنا ممکن ہو سکا گھومے پھرے ۔(اچھے موسم کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کی انسان ذیادہ پیدل گھوم پھر لیتا ہے)شہر بھی کافی مہنگا تھا ۔کھانا ،ٹیکسی کا کرایہ بس یہاں آکر پیسوں کا اچھا خاصا بیڑا غرق ہو گیا۔
تقسیم سکوائر ٹیکسی میں گئے ۔پورے دن میں جتنا کرایہ لگتا تھا وہ ایک بندہ ادا کرتا ۔پھر واپس آکے انعم کے ذمہ حساب کتاب تھا کہ کتنا خرچہ ہوا اور ایک ایک پہ کتنا آیا۔ پھر مطلوبہ رقم اس کو واپس کرتے ۔تقسیم سکوائر اور استقلال ایوینیو جدید استنبول کی پہچان ہیں ۔سلطان محمود اول کے دور حکومت میں استنبول کے شمال سے آنے والی پانی کی پائپ لائنیں یہاں جمع ہوتی تھیں اور پھر ان کے ذریعے شہر کے دوسرے حصوں کو پانی مہیا کیا جاتا تھا۔جدید ترکی کی قیام کی یاد میں یہاں ایک مونومنٹ قائم کیا جس میں ایک بلند چپوترہ پر کمال اتاترک اور اس کے ساتھیوں کے مجسمہ ہیں۔یہ ایک بڑا میدان ہے اس کا فرش پختہ ہے اور چاروں اطراف سے سڑکیں اس پہ آکے کھلتی ہیں۔یہاں پہ کافی ہوٹل اور دکانیں ہیں ایک سست رفتار پرانے زمانے کی ٹرام بھی چلتی ہے۔
ہم نے وہاں دوپہر کا کھانا جو ڈونر برگر پر مشتمل تھا لیا۔میں نے گوشت کا لیا اور ان تینوں نے مرغی کا لیا ۔تھوڑی دیر بعد حور مجھے کہتی ہے تمھارا والا کیسا ہے ۔میں نے کہا اچھا ہے اس نے کہا تمھاری شکل سے تو نہیں لگتا ۔میں نے کہا بس کیا کروں گوشت کی بو آرہی ہے ۔پہلے ہم نے اس کو ویسے کھانے کی کوشش کی لیکن وہ کافی خشک تھا ۔ہم واپس دوکان میں جا کے بیٹھے اور جوس بھی آرڈر کیا۔کھانا کھانے کے بعد باہر نکلے تو دوکانوں کے پیچھے ایک بڑی عمارت دیکھی ۔تجسس ہوا کہ یہ کیسی عمارت ہے وہاں گئے تو وہ ایک کافی پرانا چرچ تھا ۔بس پھر وہی سے واپس ہوئے ۔ٹیکسی میں بیٹھے استقلال ایوینیو سے ہوتے ہوئے گلاٹہ ٹاور پہنچے۔
گلاٹہ ٹاور کی تعمیر 1348 میں ہوئی اس وقت قسطنطنیہ کی سب سے بلند ترین عمارت تھی ۔عثمانی دور میں اس میں تھوڑی بہت تبدیلیا ں کی گئیں ۔1717میں اس کو مشاہداتی ٹاور کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا تاکہ اس کے ذریعہ شہر میں لگنے والی آگ کو دیکھا جا سکے۔سیلنڈر کی طرح بنی ہوئی عمارت پر اوپر چڑھیں تو پورے استنبول کا منظر وہاں سے نظر آتا ہے۔گلاٹہ ٹاور کافی اونچائی پہ تھا ۔ہم نیچے ہی اتر گئے او پیدل ہی اوپر گئے ۔دونوں اطراف پہ کافی ریسٹورنٹ تھے ۔اوپر پہنچے تو اتنی لمبی لائن تھی کہ ہم نے سوچا اگر ادھر ٹکٹ کے لئے کھڑے رہے تو یہ سارا دن تو ضائع ہو جائے گا اس لئے بس وہاں تصویریں کھینچی اور نیچے اترے ۔سلیمانیہ مسجد کا نقشہ سیٹ کیا اور پیدل روانہ ہوئے ۔راستے میں "گولڈن ہارن" یا "ہالیچ" سے گزرے۔دنیا میں سب سے بڑی قدرتی بندرگاہوں میں سے ایک،جس سے گزر کر سلطان فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تھا ،جو شہر کا تجارتی مرکز تھا ،جو 2000 سالوں تک بازنطینی اور عثمانیوں کی اہم بندرگاہ کے طور پر کام کرتا تھا ،جو قدیم استنبول کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور جہاں باسفورس بحیرہ مار مرا سے ملتا ہے۔گولڈن ہارن سے استنبول کا جائزہ لیں تو آپ کو ہر چوٹی پر ایک مسجد نظر آئے گی۔اس زمانے میں اتنی اونچائی پہ تمام مسجدیں بنانا واقعی ان کی ذہانت کو داد دینا پڑتی ہے۔انعم نے کہا استنبول میں کتنی ذیادہ مساجد ہیں ۔میں نے اسے کہا تمھیں نہیں پتہ استنول کو مسجدوں والا شہر کہا جاتا ہے ۔انعم نے فورا موبائل نکالا اور جلدی سے فیس بک پر ٹک سے پوسٹ دے دی “Istanbul ,The city of mosques” ۔گولڈن ہارن سے گلاٹہ پل پر چڑھے جہاں بے شمار لوگ مچھلیوں کو پکڑنے میں مصروف نظر آرہے تھے-
جاری ہے
Comments
Post a Comment