سفرنامہ ترکی(استنبول )حصہ ہفتم
گلاٹہ ٹاور سے پیدل ہم سلیمانیہ مسجد روانہ ہوئے ۔سلیمانیہ مسجد کافی اونچائی پر واقع تھی ۔درمیان میں رنگ برنگی سیڑھیاں تھیں اور اس پر اوپرچھتریاں لٹکی ہوئی تھیں ۔مرتے دھرتے اوپر پہنچے سانس کافی خراب ہو رہی تھی ۔پتہ نہیں اس زمانے کے لوگ کیسے اتنی اونچائی پر یہ مساجد اور عمارتیں بنا لیتے تھے۔سلیمانیہ مسجد کو دیکھا تو اس کے حسن نے کافی مرعوب کیا ۔یہ مسجد تو نیلی مسجد سے بھی ذیادہ شاندار ہے۔اس کے ایک طرف سے باسفورس اور گلاٹہ ٹاور کا خوبصورت منظر نظر آرہا تھا۔
یہ مسجد سلطان سلیمان کے حکم پر سنان پاشا نے تعمیر کی تھی ۔1550 میں تعمیر کا آغاز ہوا اور 1556 میں تکمیل ہوئی۔یہ عظیم شاہکار آیا صوفیہ کے مقابلہ میں تعمیر ہوئی تھی۔جس وقت یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی، اس کا گنبد عثمانی سلطنت کا سب سے اونچا گنبد تھا۔مسجد کے چار مینار اور تیں گیلریاں ہیں۔ سلیمانی مسجد کو رفائے عامہ کے طور پر بنایا گیا تھا تاکہ مذہبی اور ثقافتی دونوں ضروریات پوری کی جا سکیں۔ اصل کمپلیکس میں خود ہی مسجد، ایک اسپتال، پرائمری اسکول، پبلک حمام، ایک کاروان سرائے، چار قرآن اسکول، حدیث کی تعلیم کے لیے ایک خصوصی اسکول، اور ایک میڈیکل کالج شامل تھے۔ ایک عوامی باورچی خانہ بھی تعمیر کیا گیا تھا جس میں غریبوں کو کھانا پیش کیا جاتا تھا ۔ ان میں سے بہت کے ڈھانچے ابھی بھی موجود ہیں ۔مسجد کی قبلہ دیوار کی طرف سلطان سلیمان اول اور ان کی اہلیہ حورم سلطان کے الگ الگ مقبرے موجود ہیں۔مسجد کی دیواروں کے بالکل شمال میں، معمار سنان کا مقبرہ ہے۔اس کے علاوہ شہزادوں اور شہزادیوں کی قبریں بھی موجود ہیں۔
کیا شاندار مسجد تھی ۔سیڑھیاں چڑھ کر اوپر مسجد جانا تھا۔بڑے بڑے دروازے ،اندر سے فن تعمیر وہی تھا جو نیلی مسجد کا تھا لیکن باہر سے واقعی عالیشان تھی۔پوری کمپلیکس میں گھومے پھرے ،نماز کا وقت ہو رہا تھا وہ پڑھی ۔ ۔جب سلطان سلیمان کے مقبرے کو دیکھنے گئے تو اس کے اوپر جو کتبہ لگا تھا اس کو پڑھ کر انعم نے کہا یہ"سلطان سلیمان قنونی کی قبر ہے"سلطان سلیمان کی سمجھ تو آگئی لیکن قنونی کی سمجھ نہیں آئی ۔تھوڑی دیر بعد میں نے انعم سے کہا "انعم یہ قنونی نہیں قانونی ہے "(اس پر ہم کافی ہنسے کہ انعم نے اسے پنجابی لب و لہجہ میں پڑھا)۔پھر میں نے انعم کو بتایا کہ انہوں نے مملکت کے لیے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس کی بنا پر ترک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں جبکہ مغرب ان کی عظمت کے اس قدر معترف ہے کہ مغربی مصنفین انہیں سلیمان ذیشان یا سلیمان عالیشان اور سلیمان اعظم کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کی حکومت میں سرزمین حجاز، ترکی، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، یمن، شام، بیت المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقے، یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری شامل تھے۔
اس کے بعد استنبول کے گرینڈ بازار دیکھنے جانا تھا وہ وہی قریب واقع تھا لیکن ہم سے راستہ غلط ہوا تو ہم نیچے اتر آئے ۔کسی سے راستہ پوچھا تو انہیں نے کہا واپس اوپر جائیں ۔اف بس آج تو ہمارا خوب کچومر نکل گیا ۔اوپر گئے اور جیسے ہی گرینڈبازار میں داخل ہوئے سامنے جوس والا نظر آیا ۔فورا لپکے ۔انار کا جوس لیا ۔لیکن کڑوا گلے سے نیچے نہیں جارہا تھا ۔5 لیرا کا تھا اب حور کہ رہی تھی کہ شاباش پیو اپنے پیسہ ضائع نہ کرو زبردستی پیا لیکن آخر میں پھر بھی چھوڑ دیا۔راستے میں ایک اور مسجد ملی نور عثمانیہ جس کی تعمیر 1748 میں ہوئی تھی ۔تھوڑا سستانے بیٹھے نماز بھی پڑی ۔وہی پتہ چلا کہ نیلم سے 100 لیرا کہیں راستے میں گم ہوگئے ۔افسوس تو ہوا لیکن اس کو تسلی دی کہ کوئی بات نہیں اس میں اللہ کی خیر ہو گی ۔
گرینڈ بازار استنبول کے بڑے اور قدیم ترین بازاروں میں سے ایک ہے۔اس کی بنیاد 1425 میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں رکھی گئی تھی ۔ گرینڈ بازار میں اکسٹھ گلیاں اورسینکڑوں دکانیں ہیں۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت اس کا مکمل طور پر اوپر سے بند ہونا ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں یہ بازار خطے میں کپڑے کا سب سے بڑا تجارتی مرکز تھا۔ گلیوں کے نام وہاں بکنے والی اشیا کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ جیسے صرافہ گلی، قالین گلی وغیرہ۔ اس صدیوں پرانے تجارتی مرکز کی خاص بات یہ ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے کم و بیش ہر طرح کی اشیا گاہکوں کیلئے موجود ہیں ۔یہ بازار چالیس ہزار مربع میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ جس کے اوپر قوس کی شکل میں چھت ڈالی گئی ہے۔ یہ چھت بھی فن تعمیر کا شاہکار ہے ۔ بازار میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کیلئے بائیس گیٹ ہیں اور ہر ایک دروازے کو مختلف نا م دیئے گئے ہیں۔ یومیہ تین لاکھ افراد یہاں شاپنگ کرنے آتے ہیں۔ جن میں اکثریت غیر ملکی سیاحوں کی ہوتی ہے۔ یہاں پر چمڑے اور سلک کے ملبوسات تیار کرنے والوں، جوتا سازوں، صرافوں، ظروف سازوں، قالین بافوں، گھڑی سازوں، آلات موسیقی اور کامدار شیشے سے خوبصورت لیمپ تیار کرنے والوں کی صدیوں سے قائم دکانیں بازار کی تاریخی حیثیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہاں خوبصورت نقش و نگار والے فانوسوں اور آنکھوں کو خیرہ کرتی روشنیوں والے دیدہ زیب لیمپوں کی دکانیں اس تاریخی بازار کی الف لیلوی فضا کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔ جبکہ یہ بازار ترکی کی مشہور سوغات کا سب سے بڑا مرکز بھی ہے۔ بازار میں خریدار خاص طور پر ترکی کی سوغاتیں خریدنے آتے ہیں۔ ان میں انواع و اقسام کی مٹھائیاں اور مصالحہ جات شامل ہیں۔ صدیوں پرانے اس بازار کی ایک قابل ذکر بات یہاں پر اُس قدیم دور میں مہیا کی جانے والی سہولیات ہیں۔ جن میں سب سے نمایاں یہاں لگائے گئے پانی کے نل ہیں۔ جن سے آج بھی یہاں آنے والے اپنی پیاس بجھا ر ہے ہیں۔
ہم نے بھی گرینڈ بازار سے چاندی کے زیورات ،لیمپ وغیرہ خریدے لیکن قیمتیں کافی ذیادہ تھیں ۔پاکستان کی طرح ہر چیز میں بھاؤ تاؤ کرنا پڑتا تھا ۔ 8 بجے یہ بازار بند ہو جاتا ہے ۔ہم بھی وہاں سے نکلے ۔ اب اتنی تھکاوٹ اور رات ہونے کی وجہ سے راستہ کا صحیح اندازہ نہیں ہورہا تھا ۔نقشہ بھی کافی غلط راستہ دکھا رہا تھا ۔راستے میں استنبول یونیورسٹی بھی نظر آئی ۔ادھر سے ہی فیصلہ کیا کہ اب مزید ہمت نہیں ہے پیدل چلنے کی اس لئے ٹیکسی میں بیٹھ جائیں گے(اگلے دن پتہ چلا کہ پیدل پانچ منٹ کا راستہ تھا لیکن ٹیکسی والے نے ہمیں اچھا خاصا لوٹ لیا تھا)۔رات کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا ۔ریسٹورنٹ سے صرف فرائیز کھائے پانی کی بوتل خریدی اور اپارٹمنٹ پہنچے۔سب سے پہلے ڈبل پونسٹان کھائی (استنبول میں یہ ہمارا روز کا معمول تھا)۔باقی گروپ والوں کو پتہ چلا کہ ہم آج کتنا چلے تو پہلے حیران ہوئے پھر کہا کہ کیوں پاگل ہو گئے تھے ۔ہم نے کہا بس ایڈونچر کرنے کو دل کر رہا تھا اس لئے آج اتنا پیدل گھومے ۔عشاء کی نما ز پڑھی ہوئی تھی اس لئے انعم نے فورا پیسوں کا حساب کتا ب کیا ،کل کی پلاننگ کی ۔ ہمارے پاس اب فقط ڈیڑھ دن باقی تھا ۔
جاری ہے۔
Comments
Post a Comment