سفرنامہ ترکی(قونیہ)حصہ سوم

 

visit to

پاکستان سے یہ پلاننگ ہوئی تھی کہ قونیہ میں 5 دن گزاریں گے اور استنبول میں 4 دن  لیکن جب چوتھا دن آیا تو میم وی سی نے اچانک پلان بدل دیا اور کہا کہ 4 دن قونیہ اور کل استنبول چلیں گے۔اب ہم چاروں نے جو پلاننگ کی تھی اس میں پانچواں دن ہم نے قونیہ سے "کپاڈوکیا "جانا تھا۔ساری معلومات بھی ہم نے لے لی تھی کہ یہاں سے کون سی بس جاتی ہے ،وہاں ٹیکسی پورے شہر میں 300 لیرا پرگھمائی گی،hot air balloons   میں بھی گھومنے کا ارادہ تھا لیکن اس کے لئے کپاڈوکیا میں رات گزارنی تھی  کیونکہ وہ سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے اڑتے ہیں۔اب ہمیں اپنی پلاننگ خطرے میں نظر آئی ۔ساتھ ہی میم وی سی نے کہا کہ آج یو نیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد ہم سب آپ لوگوں کے ساتھ جائیں گے وہاں گھومیں گے پھریں گے کھانا کھائیں گے ہوٹل دیکھیں گے پھر ہم واپس آجائیں گے ۔

واپسی  میں سب  ہمارے ساتھ ٹرام میں  آئے ۔سب کو ہوٹل اور ہماری جگہ کافی پسند آئی میم وی سی کی بیٹی نے کہا ان کی جگہ تو ہماری جگہ سے بھی اچھی ہے۔ہوٹل "”Nezih konya mutfagi ,karatayمیں جا کے رات کا کھانا کھایا ۔سب سے مہنگا کھانا ہم نے اسی ہوٹل میں کھایا۔پھر میم وی سی نے کہا کہ جہاز کی بکنگ کروا لیتے  ہیں لیکن ہم سب بذریعہ  ٹرین جانا  چاہتے تھے تاکہ اس کا بھی مزا لے لیں ۔میم وی سی کو بہت قائل کرنے کی  کوشش کی کہ ہم آپ سے ایک دن بعد استنبول آجائیں گے ہمیں کپاڈوکیا جانے کے لئے چھوڑ دیں لیکن وہ راضی نہ ہوئیں  ۔آخر میں ہم نے کہا ٹھیک ہے آپ جیسا کہتی ہیں ہم مان لیتے ہیں ۔دل میں سوچا ایسے نہ ہو کل کچھ ہو جائے تو کہیں گے کہ بڑوں کی بات  نہیں مانو گے تو ایسا ہی نقصان اٹھاؤ گے۔ہمارا ارادہ رات کو سفر کرنے کا تھا تاکہ دن کا ٹائم بچ جائے لیکن انسان جو ارادہ کرتا ہے ضروری نہیں کہ وہ پورا ہو اس لئے اگلے دن کی صبح 12:45بجے کی ٹکٹ   85 لیرا میں خرید لئے ۔میم وی سی لوگ واپس چلے گئے اور ہم  بوجھل قدم اٹھاتے اپنے ہوٹل  پہنچ گئے۔

visit to


رات گئے تک سامان پیک کیا ۔حور اور نیلم نے اچھی خاصی شاپنگ کی تھی اس لئے انہیں نے ایک ایک بکس صبح لینا تھا ۔میں پہلے سے بڑا بیگ لائی تھی اس لئے مجھے ضرورت نہیں تھی۔صبح ناشتہ کیا  ہلکی دھند نے قونیہ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ہم امام جلال الدین رومی کے مزار کی طرف روانہ ہوئے جو 5 منٹ کے پیدل فاصلے پر تھا ۔انعم اور نیلم نے دیکھا تھا لیکن میں اور حور نہیں گئے تھے اس لئے ہم نے جانا تھا راستے میں جو چیزیں اچھی لگی اس کی شاپنگ کرتے گئے۔ایک دوکان پہ ہم سب نے اپنے لئے اور گھروں میں جتنی خواتین تھی ان سب کے لئے لاکٹ خریدے تاکہ ہمارے پاس قونیہ کی یادگار موجود ہو ۔اس لاکٹ کے آخر میں ایک چھوٹا سا درویش لٹکا ہوا تھا ۔ جس دوکان سے  ہم نے لاکٹ خریدے تھے وہاں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے جن لوگوں  نے خریداری کی تھی اپنے ملک کے نوٹ بھی سائن کر کے لٹکائے ہوئے تھے ۔ہم نے بھی بیس روپے پہ سائن کیا اور لٹکا دیا۔مولانا رومی کے مزار پر ہفتہ میں ایک  رات محفل سماع بھی ہوتا ہے(پتہ نہیں یہ کونسا دین ہے)۔پورا پاکستانی گروپ دیکھنے گیا تھا لیکن ہم نہیں گئے ہم نے سوچا اس سے بہتر ہے قونیہ کی دوسری جگہوں میں پھر لیں۔

visit to

viait to

visit to

visit to
محمد نام،جلال الدین ان کا لقب  اور مولانا رومی کے نام سے مشہو ر تھے۔والد کی جانب سے نسب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جاملتا تھا اور والدہ کی جانب سے حضرت علی رضہ  اللہ عنہ سے ملتا تھا اور دادی کا تعلق شاہان خوارزم سے تھا۔ان کی پیدائش 605 ہجری خراسان میں ہوئی۔ان کے والد اسلامی علوم میں کامل و ماہر تھے۔ان کی شہرت جب پھیلی تو ان کو  سلطان علاء الدین کیقباد نے قونیہ شہر آنے کی دعوت دی ،مولانا رومی بھی اپنے والد کے ساتھ وہی منتقل ہوگئے ۔یہی ان کا مسکن رہا اکثر تعلیم حاصل کرنے وہ شام جاتے لیکن پھر پلٹ کر قونیہ آجاتے یہاں ان کی درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا ۔یہی ان کے لئے ایک بڑا مدرسہ خداونگار تعمیرکیا ا ور سلطان کے اتالیق نے  اس کے لئے بڑا وقف کیا ۔مولانا نے 672 ہجری کو انتقال فرمایا ۔ان کی سب سے مشہور تصنیف  مثنوی شریف ہے۔مثنوی کی تالیف شام سے صبح تک جاری رہتی اور یہ اشعار پر مشتمل ہے۔مثنوی نے علام اسلام کے افکار و ادبیات پر گہرا اثر ڈالا۔اپنے وقت کا ایک بہت بڑا علمی کارنامہ اور اسلام کی عقلی برتری  اور اس کی غیر فانی زندگی کا ثبوت ہے۔عالم اسلام میں جو علمی جمود تھا اس پر کاری ضرب لگائی اور اسلام کے کاروان فکر کو دوبارہ متحرک اور سرگرم کر دیا۔ ان کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ جب مسلمانوں پر مادیت اور یورپی فلسفہ نے اپنے اثرات ڈالے اور ایک عام بے اعتمادی بڑھنے لگی  اور اس سے مسلمانوں کے عقائد متاثر ہونے لگے تو تو مثنوی نے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کا مقابلہ کیا اور دلوں میں دوبارہ غیبی  حقائق اور انبیاء کی عظمت وغیرہ کو اجاگر کیا اور اہل علم کی ایک بڑی تعداد نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی بدولت دوبارہ دولت اسلام نصیب ہوئی   ۔اور علامہ محمد اقبال ان کے فیض و ارشاد کا اعتراف و اظہار کیا ہے ۔(مولانا جلال الدین رومی از سید سلیمان ندوی)

میوزیم کا ٹکٹ فری تھا ۔بہت سے ایرانی لوگ زیارت کے لئے آئے ہوئے تھے۔باہر ایک وضو خانہ بنا تھا پہلے   ایرانی وضو کرتے اس دھند اور ٹھنڈ میں اور پھر اندر عقیدت سے   داخل ہوتے ۔ باہر بھی بہت درویشوں کی قبریں تھیں ، چمن تھے ۔اندر داخل ہوئے تو بہت سے چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے تھے ۔وہاں پہ تسبیح،پیالے،کپڑے،قرآن کے بے شمار مخطوطات پڑے ہوئے تھے۔ہر جگہ بڑا بڑا یا حضرت مولانا لکھا ہوا تھا  اور میوزیم کے درمیان میں بالکل مولانا رومی کی بڑی  قبر موجود تھی  وہاں دیوراوں پر بے شمار نقش و نگار بنے ہوئے تھے  اور بڑے بڑے فانوس لگے ہو ئے تھے۔دعا کی اور وہاں سے نکل آئے ۔اسی میوزیم کے ساتھ سلطان سلیم مسجد جو  1570 میں بنائی گئی تھی موجود تھی لیکن اس کو مرمت کے لئے بند کیا ہوا تھا۔

visit to

visit to

visit to

visit to

visit to

visit to

visit to

visit to

visit to

visit to

visit to


باہر آئے تو سٹاپ پہ کھڑے ہوئے ۔ابھی تک جتنے بھی سفر کئے وہ ہم نے نیلی ٹرام میں کیےتھے۔آج آخری دن ہم نے سوچا سبز ٹرام میں ایک چکر لگا لیں۔سٹاپ پہ کھڑے تھے کہ اتنے میں ایک شخص مولانا رومی کے درویشوں کا حلیہ اپنائے نظر آیا ۔تھوڑا خوف محسوس ہوا کہ  کہیں یہ  عجیب سا شخص کہیں ہماری طرف نہ آجائے ۔اتنے میں ٹرام نظر آئی فورا اس میں چڑھے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ایک جگہ اترےہو  میں نے اور حور نے جیولری خریدی(یہ شوق صرف ہم دونوں کا تھا)واپسی میں صندوق خریدے ۔وقت کافی کم تھا بھاگم بھاگ ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے  ۔راستے میں بیکری  نظر آئی ۔ رولز اور بسکٹ خریدے  کیونکہ ٹرین میں کچھ ملنے والا نہ تھا اور سفر4:15 گھنٹوں کا تھا۔سامان فورا پیک کیا۔میں اور حور نیچے اترے اور ہوٹل کے پیسے ادا کئے ۔4 دن کے بجائے 5 دن کا کرایہ ادا کیا کیونکہ بکنگ 5 دن کی تھی ۔اس پر اور بھی افسوس ہوا ۔950 لیرا کرایہ تھا ۔نیلم اور انعم سامان لے کے نیچے پہنچے ۔ہو ٹل والوں کو پتہ چلاکہ ٹرین کی روانگی میں ایک گھنٹہ ہے تو انہوں نے کیا فورا پہنچےاپ لوگ لیٹ ہوگئے ہیں۔بڑی ٹیکسی منگوائی،سارے سامان کو زبردستی اس میں ٹھونسا ،پورے قونیہ کو اپنی آنکھوں میں محفوظ کرتے ہوئے روانہ ہوئے کہ کیا پتہ زندگی میں ہم دوبارہ یہاں آسکیں گے بھی یا نہیں  اور ٹرین سٹیشن کی طرف رواں دواں ہو گئے۔

visit to

visit to


جاری ہے


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ذکر الہی کی اہمیت و فوائد

سفرنامہ حج(حصہ دوم)

ماہ شعبان اس کی اہمیت اور بدعات