سفرنامہ ترکی (قونیہ)حصہ دوم
اگلے دن صبح سب سے پہلے حور اٹھی سب کو جگایا ۔نماز پڑھی اور ناشتہ کا انتظار ہونے لگا ۔کھڑکی سے باہر جھانکا صاف ستھرا شہر نظر آیا موسم بھی کافی ٹھنڈا تھا ۔ناشتہ 7 سے 10 بجے تک ہوتا تھا۔جیسے ہی سات بجے ہم فورا نیچے ہال میں گئے ۔کیا زبردست قسم کی ترتیب تھی۔انواع واقسام کی چیزیں ۔پنیر کی تین چار اقسام ،اسی کے ساتھ زیتوں کی مختلف قسمیں،مکھن،لسی،جوس،چائے،کافی، جیم،سلاد،چپس،سیریل بس یہ سمجھیں دنیا جہاں کی ہر نعمت موجود تھی۔اس وقت ہال بالکل خالی تھا۔ہم نے آرام سے پلیٹ بھرے کافی کپ میں ڈالی اور بیٹھ گئے۔اب جیسے ہی ہم نے پنیر کا ایک ٹکڑا منہ میں ڈالا تو تھوڑا سا سر گھوما ایسا نمک بھرا پنیر تو کبھی نہیں دیکھا تھا ۔زیتوں چھکا تو کڑوا کسیلا،کافی کا گھونٹ لیا تو ایسا عجیب ذائقہ کہ اس کے بعد ایک سال تک کافی نہیں پی اور اگر کافی کی بو بھی کہیں سے آتی تو دل خراب ہونے لگتا ۔یہی حال نیلم کا بھی تھا ۔ہم دونوں نے بس پھر صرف ٹرکش چائے پر گزارہ کیا اور اگلے چار دن ہم جوس،بریڈ پر جیم اور مکھن لگالیتے اور چپس یا کسی ایسی چیز پر گزارہ کر لیتے۔پہلے دن جو پلیٹ بھری تھی اگلے چار دن بس مختصر سی چیزیں اپنی پلیٹ میں ڈال کر اس پر گزارہ کرتے۔جہاں تک حور اور انعم کا تعلق تھا ان کو تمام چیزیں پسند آئیں اور ہر دن وہ نئی چیزیں کھاتے البتہ جب وہ دونوں میز سے اٹھتے تو دونوں نے چینی کے پیکٹوں کا ایک ڈھیر لگایا ہوتا تھا جسکو کافی میں ڈال کر اسکو میٹھی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ترک لوگوں کا ناشتہ تین پلیٹ سلاد کھانے کے بعد شروع ہوتا تھا جہاں تک میرا اور نیلم کا تعلق تھا ہم تو کھیرے اور ٹماٹر کی طرف دیکھتے بھی نہیں تھے۔ناشتہ کیا تو تھوڑا باہر نکلے تاکہ کچھ گھوم پھر لیں ۔چمکتا ہوا پرسکون شہر ، صفائی ایسی،جیسے سب کچھ پانی سے دھویا ہوا ہو۔ایسی صفائی ہم اپنے ملک میں تصور بھی نہیں کر سکتے،کشادہ سڑکیں ،صاف ستھری گلیاں اور سبزہ،قونیہ میں پارکوں اور فوراوں کی کثرت تھی کچھ دن وہاں گزارے تو اندازہ ہوا ہر شخص صفائی پسند ہے ہماری طرح نہیں کہ صرف حکومت کی ذمہ داری اس کو سمجھے۔تھوڑی دیر گھومے پھرے پھر ہوٹل واپس آئے استقبالیہ والوں سے کچھ معلومات لی۔ان کی ٹھوٹی پھوٹی انگریزی نے کافی مدد کی ورنہ قونیہ میں زبان کا بہت بڑا مسئلہ تھا ۔کسی کو بھی ترکی زبان کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا بس ساری باتیں لوگوں سے اشاروں میں کی جاتی تھی-(کچھ لوگوں کو یقینا یہاں آکر اندازہ ہو گیا ہو گا کہ انگریزی زبان سیکھ لینا ترقی کی ضمانت نہیں) کچھ شاپنگ مالز کا بتایا اور ہمیں کہا آپ لوگ بیٹھیں آپ لوگوں کے لئے ٹیکسی منگواتا ہوں۔
ٹیکسی میں مال تک گئے۔لیکن مال کا دروازہ بند تھا ۔10 بجے کھلتا تھا۔اب کیا کریں ۔ادھر ادھر گھومنے لگے -تصویریں اتارنے کی ذمہ داری حور اور انعم نے اٹھائی ہوئی تھی بس حور نے دھڑا دھڑ تصویریں لینی شروع کی (نیا نیا موبائل بھی خریداتھا)۔شاپنگ مال کے سامنے بالکل ایک چھوٹی سی شاپ تھی جس میں بہت ہی خوبصورت سوئٹرز اور کوٹ لٹکے تھے ۔حور اور نیلم نے اس سے شاپنگ کی۔میرا اور انعم کا فی الحال مزید جائزہ لے کے شاپنگ کا ارادہ تھا۔جیسے ہی مال کھلا ہم داخل ہو گئے۔ونڈو شاپنگ کی اور 12 بجے وہاں سے نکل آئے کیونکہ 2 بجے ہم نے یونیورسٹی بھی پہنچنا تھا-
وہاں سے نکل کر ٹرام سٹیشن گئے ۔ایک کارڈ بنوایا اور اکثر لوگوں کو دیکھا کہ آتے تھے کارڈ کو شیشہ پر رکھتے اور پھر چلے جاتے ۔کچھ تجسس ہوا پھر پتہ چلا کہ یہان سے بیلنس چیک کیا جاتا ہے۔اب ٹرام کی دو قسمیں تھیں۔ایک نیلی اور ایک سبز۔ اب کونسی ٹرام میں یونیورسٹی تک جانا ہے یہ نہیں پتہ ۔نقشہ بھی دیکھا پھر بھی سمجھ نہیں آئی ۔اتنے میں کچھ لڑکیا ں گزری فورا ا ن کو پکڑا ۔ان کا تعلق شام سے تھا اور انہیں اچھی خاصی انگریزی آتی تھی۔بہت اچھے طریقہ سے انہوں نے سارا نقشہ سمجھایا بس پھر اگلے چار دن ہم اور ٹرام ایک دوسرے کے ساتھی رہے ۔ٹرام میں سفر کرنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوا کہ لوگ کافی کم گو ہیں،بس ہر ایک نے کانوں میں ہیڈفونز لگائے ہوتے تھے ۔بس ہم چارایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے تھے کیونکہ ہمارے پاس ہر وقت نیٹ کی سہولت موجود نہیں ہوتی تھی ۔
ٹرام میں ہمارے ہوٹل سے یونیورسٹی ایک گھنٹہ کا فاصلہ تھی ۔ٹکٹ 2.5 لیرا تھا چاہے شہر کے جس کونے میں جانا ہو ۔اس کے علاوہ جتنی بھی پبلک ٹرانسپورٹ تھی بس ،کوچ سب کا یہی کرایہ تھا ۔ ان کا ٹرانسپورٹ سسٹم بہترین اور سستا تھا۔ٹرام آرام دہ تھی۔اور اس طرح ہم پورے شہر کا چکر کاٹ کر "Tip faculty si" کے اسٹیشن پر اترے۔
وہاں پہ وی سی اور میڈم منور سے ملاقات ہوئی ۔کچھ دیر ہال میں بیٹھے اور افتتاحی تقریب سنی ۔پاکستان سے کافی لوگ آئے تھے۔لیکن یہاں اتے ہی لڑکیاں کافی ماڈرن ہو گئی حالانکہ قونیہ میں اکثر ترک لڑکیوں نے حجاب پہنا تھا ۔ہم چاروں بس پکے اور سچے پاکستانی نکلے بلکہ کسی نے مجھ پر یہ کمنٹ بھی پاس کیا کہ "سنا آپ یہاں اسلامیات کا لیکچر دینے نہیں آئی ہیں"لیکن ہم نے بھی بات سنی ان سنی کر دی۔تقریب ختم ہونے کے بعد باہر مختلف سٹال لگے ہوئے تھے اس سے مزیدار لسی پی ۔پھر وی سی نے کہا چلیں ابھی بٹرفلائی گارڈن چلتے ہیں ویسے بھی شام کو ڈنر کے لئے پھر واپس یہی یونیورسٹی آنا ہے ۔ہم بھی راضی ہو گئے۔اب جتنے بھی راستے میں سٹؤڈنٹس ملے ہر ایک سے گارڈن کا پوچھا کسی کو بھی انگریزی کی اور ہمیں ان کی زبان کی سمجھ نہیں آئی ۔آکر میں وی سی نے تنگ آکر کہا بس چھوڑیں ہم خودی ہی ڈھونڈ لیں گے اب باہر نکلے تو چھوٹی بس میں سورا ہوئے 2.5 لیرا ادا کیا اور ہر سٹاپ پہ ہم لوگوں سے اور ڈرائیور سے پوچھتے رہے کسی کو بات کی سمجھ نہیں آئی۔گوگل ٹرانسلیٹر بھی غلط ترجمہ کرتا تھا ۔ہر سٹاپ پر وی سی کہتی چلو اس سٹاپ پر اترتے ہیں پھر جب ہم کھڑے ہوجاتے تو کہتی کہ بیٹھ جاؤ اگلے پہ اتریں گے اس وقت ہم اتنا ہنسے کہ لوگ کہیں کہ اٹھک بیٹھک شروع کی ہے ۔جب گارڈن نہیں ملا تو ایک سٹاپ پر اتر گئے ۔
جس جگہ اترے وہاں ایک خوبصورت پارک تھا۔فوارے لگے ہوئے تھے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ۔پھر وی سی نے کہا ہم سب کو تھوڑی بہت ٹینشن ہے کہ کل سب کا پریزینٹیشن ہے سوائے سنا کہ وہ صرف مزے کرنے آئی ہے-وہاں پہ ایک خوبصورت مسجد تھی جس کا نام اوٹوگار مسجد تھا ۔اس کا فن تعمیر کلاسیکی سٹائل تھا ۔مسجد کے درمیاں میں ایک بڑا فانوس لگا ہوا تھا ۔تقریبا تمام مساجد کی فن تعمیر ایک جیسی ہی تھی۔یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ جیسے آذان شروع ہو جاتی اکثر لوگ مسجد کی طرف بھاگتے چاہے وہ ماڈرن تھے یا اسلامی ۔ اسکے بعد وہاں کچھ دکانوں میں پھرے اور کچھ روایتی چیزیں خریدی ۔وی سی جلدی واپس چلی گئی کہ تیاری کر کے ڈنر پہ جانا ہےساتھ ہمیں بھی نصیحت کر گئی کہ جلدی پہنچ جائیں ۔ہمارے پاس تو کوئی سامان نہیں تھا تیاری کے لئے حالانکہ ہم نے ڈنر کے لئے الگ سے تیاری کی تھی اور میں نے خاص طور پر حور سے میچنگ پرس بھی منگوایا تھا ۔
ڈنر کے لئے پہنچے تو کھانا شروع ہو گیا تھا ۔وی سی نے دیکھتے ہی کہا آپ لوگ اتنے لیٹ کیوں آئے ۔انہیں کیا پتہ تھا ہم ہر جگہ تصویریں کھینچتے ہوئے آرہے تھے۔اب پہلے ایک پلیٹ رکھی گئی اس میں بھنڈی ٹائپ ایک چیز ڈالی گئی وہ مزے کی نہیں تھی اس کو چھوڑ دیا ۔پھر چاول گوشت ،اف اس سے دنبے کی ایسی شدید بو آرہی تھی وہ بھی چھوڑا ۔بس کنافہ کھایا اور جوس پیا اور اردگرد لوگوں کو دیکھتے رہے وہ کیسے مزے مزے سے کھا رہے تھے۔ہم نے تو یو ٹیب پر جتنے بھی ویڈیوز دیکھی تھیں اس سے تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے ترکی سے زیادہ لذید کھانا اور کہیں نہیں ملتا لیکن یہاں آکر پتہ چلا کہ نہ نمک نہ مرچ ،ادرک لہسن کا دور دور تک نام و نشان نہیں اور صرف دنبہ کے گوشت پر ہی ان کی زندگی رواں دواں ہے۔ساڑھے دس بجے وہاں آخری ٹرام آتی تھی ہم بھاگم بھاگ پہنچے ۔یہاں سے دو ٹرام بدلنے تھے ایک رکی تو ہم اترے اب سمجھ نہ آئی کس طرف جائیں کوئی ایک طرف جا رہا تھا کوئی دوسری طرف اتنے میں بلوچستان سے آئے ہو ئے گروپ کو دیکھا فورا وہاں پہنچے ان سے پوچھا انہیں نے کہا ہم ابھی کسی سے پوچھتے ہیں ۔فورا مڑے اور حور سے پوچھا "from where we can go now"اس نے کہا میں تو خودہ پاکستان سے آئی ہوں اس بات پر سب بہت ہنسے اندھیرے میں ان کو صحیح اندازہ نہ ہو سکا۔کارڈ میں پیسے ختم تھی اب کیا کریں گے صرف ایک بندے کا ٹکٹ ہو سکتا تھا لیکن اس وقت جس شخص کی ڈیوٹی تھی وہ سمجھ گیا اور اس نے ہمیں دوسرے راستے سے انٹر کردیا۔واپسی میں ا یک اور ہوٹل میں برگر کھایا کچھ خشک تھا لیکن گزارہ ہو گیا ۔قونیہ میں اتنی مہنگائی نہیں تھی۔کھانا بھی کافی سستا تھا۔ہر چیز کے ساتھ اچار اور سلاد ضرور ہوتا تھا۔ہوٹل آئے سب نے مقالہ پڑھا اور حور نے کہا میں ان کو کہتی ہو میرے لئے دودھ والی چائے بنا کر بھیجی ۔کافی دیر ان کو سمجھایا کہ اس طرح چائے بنانی ہے ۔جب چائے آگئی تو چائے کہ ساتھ ایک بڑا کپ دودھ کا الگ بھجوایا تھا ۔حور نے کہا اتنا سمجھانے کے بعد بھی یہ چائے آگئی پھر زبردستی حور نے سب کو دودھ دیا ا کہ اب پیو پیسے ضائع نہیں کر سکتے۔
کانفرنس کا باقاعدہ آغاز سلجوق یو نیورسٹی کی زراعت فیکلٹی میں 2نومبرسے ہوا ۔سلچوق یونیورسٹی(سلجوق یونیورسٹٰی)کی بنیاد 1975 میں رکھی گئی تھی۔ایک بڑے رقبہ پر محیط اس یونیورسٹی میں ٹرام کے تین سٹیشنز تھے۔22 فیکلٹیز جس میں ہر ڈیپارٹمٹ موجود تھا،مختلف سکولز ،22ویکیشنلز سنٹرز ،گریجویٹ سکولز۔پریذیڈنٹ ڈیپارٹمنٹز،20 ریسرچ ایند ایپلیکیشن سنٹرز،چار ایڈیشنل سنٹرز جس میں لائیبریری شامل ہے اور تین بڑے ہسپتال جو ڈینٹل ،وٹرنری اور میڈیکل ہاسپٹل پر مشتمل ہے۔ تقریبا 2 لاکھ تک سٹوڈنٹس اس وقت زیر تعلیم تھے۔کافی بڑے بڑے چمن تھے کلاک ٹاور بھی موجود تھا۔ اس یونیورسٹی کو دیکھ کر سوچا کاش ہمارے ملک میں بھی ایسی کوئی یو نیورسٹی ہوتی جس میں اتنی سہولیات ،اتنے ریسرچ سنٹرزہوتے لیکن ہمارے ہاں اگلے بیس سالوں میں بھی اس کا تصور ناممکن ہے۔
جس دن کانفرنس شروع ہونی تھی اس دن صبح بھاگم بھاگ 8 بجے ٹرام سٹیشن پہنچے ۔درجہ حرارت منفی دو تھا ۔بے پناہ رش، ٹرام آئی تو زبردسٹی اس میں اپنی جگہ بنائی مجھے تو سیٹ مل گئی لیکن باقی تین کھڑے رہے اتنے میں ٹرام کو ایک زبردست بریک لگی باقی سب اپنی جگہ پر مضبوطی سے کھڑے تھے البتہ نیلم ،حور اور انعم گرتے گرتے بال بال بچیں ۔اس دفعہ کا سٹیشن زراعت تھا وہاں اترے میں اور حور ایک ہال میں اور انعم ،نیلم دوسرے ہال میں تھے ۔آج ہمارا سامان بھی آنا تھا اس لئے یہ پلاننگ ہوئی کہ حور اپنا مقالہ جیسے ہی پیش کرے گی ہم وہاں سے ائیر پورٹ کے لئے نکل جائیں گے اور باقی دو کو ہم نے یہ تلقین کی کہ تم لوگ ہمارا انتظار کرنا اسی یونیورسٹی میں ،چانکہ سم کافی مہنگے تھے اس لئے ہم نے نہیں خریدے تھے اور رابطہ کا دوسرا کوئی ذریعہ نہیں تھا ۔جیسے ہی حور فارغ ہوئی ہم نکلے سامان ائیر پورٹ سے لیا ،ہوٹل گئے ا پنے بیگز کو دیکھ کے کافی خوشی محسوس ہوئی اپنا حلیہ بدلا اور واپس یونیورسٹی روانہ ہو گئے ۔
یونیورسٹی پہنچے تو تمام لوگ کھانا کھانے گئے تھے ۔اس جگہ کو معلوم کرتے کرتے مزید آدھ گھنٹہ لگا کیونکہ نہ لوگوں کو ہماری بات کی سمجھ آرہی تھی نہ ہی ہمیں۔جب کسی نہ کسی طرح وہاں پہنچے تو لوگ کھانا کھا کے نکل رہے تھے ۔جب ہمیں دیکھا تو کہا کہ کھانا ختم ہو گیا ہم نے کہا خیر ہے ہم نے نہیں کھانا ، لیکن پھر بھی انہوں نے ایک شخص کو ہمارے ساتھ کیا کہ فورا جاؤ اور ان کو کینٹین میں کھانا کھلا ؤ، وہاں پتہ چلا کہ انعم و نیلم نہیں تھی وہ ہو ٹل چلی گئی ۔
کینٹین کیا تھی ایک چھوٹی سی بستی تھی۔بڑاہال ،دو منزلہ ،میز اور کرسیاں ترتیب سے پڑی ہوئیں،صاف ستھرا لگتا ہی نہیں تھا ایک مخلوق یہاں سے کھانا کھا کے گئی ہے ۔ایک ایک پلیٹ ہم نے بھی اٹھائی جس میں مختلف خانے بنے تھے مختلف کاؤنٹرز پر گئے اور ایک میز پر بیٹھ گئے ۔ جتنی لذیذ خوراک تھی ایسی خوراک نہ ہمیں قونیہ میں ملی اور نہ ہی استنبول میں اور یہ کھانا بھی صرف میرے اور حور کی قسمت میں تھا۔سب سے پہلے ٹماٹر کا سوپ پیا ،پھر کافتہ کھایا سلاد کے ساتھ اور گلاب جامن کھایا جس کو ترکی میں شکرقندی کہتے ہیںَ۔
وہاں سے ہم نکلے راستے میں ایک کینٹ مال کو دیکھا فورا اتر گئے لیکن اس میں اتنی مہنگی چیزیں تھی کہ ونڈو شاپنگ کی جوس پیا ۔ہوٹل پہنچے وہ دونوں بھی رومی کے مزار اور میوزیم کا چکر لگا کہ واپس آگئے تھے۔ مغرب کی نماز کے بعد بعد مال چلے گئے کھانا کھایا ۔اس دفعہ بھی چیزیں گزارہ حال تھی ۔
اگلے دن بھی یو نیورسٹی گئے ۔وی سی سے ڈانٹ بھی پڑی اور کہا کہ ٹیکنو پارک جائیں گے اچھی طرح وہاں لیکچر سننا اور وہی ہم اپنی یو نیورسٹی میں اپلائی کریں گے۔فرار کے سارے راستہ بند۔کھانے میں چاول اور کڑاھی ٹائپ گوشت دیا گیا تھا ۔بس میں بیٹھے اور ٹیکنو پارک روانہ ہوئے ۔کچھ ایسے پروفیسر بھی بیٹھے تھے جو ایک ڈارک کلر آدمی پر بیٹھے ہنس رہے تھے کہ اس کو دیکھو کیسا چاکلیٹی رنگ ہے اس کا ۔پھر کہتے ہیں اچھی بات ہے کہ ہماری زبان کی کسی کو سمجھ نہیں آتی۔ان کی پڑھی لکھی ذہنیت پر بہت افسوس ہوا ۔ کہ ٹیکنو پارک میں کافی بورنگ وقت گزرا کیونکہ وہ چیزیں پاکستان میں اپلائی نہیں ہو سکتی تھیں۔
جاری ہے
Beautiful story . It's got emotions, humour, life lessons , friendship. Everything.
ReplyDeleteKeep it up
Thank you so much 😊
DeleteBoht achi story hai bar bar pharny ko dil karta hai😍
ReplyDeletethank you
Delete