ذکر الہی کی اہمیت و فوائد
"بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور
رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں-جو کھڑے اور
بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں
غور کرتے اور کہتے ہیں اے پروردگار تو نے اس کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے
تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے"(آل عمران 190-191)
ایک اور جگہ فرمایا: اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا
کرو-(الاحزاب:41)
ذکر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں:
فَاذْکُرُوْنِيْ
اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْالِيْ وَلَا تَکْفُرُوْنِo
’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد
رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو‘‘ البقره، 2 :
152
’میں
اپنے بندے کے گمان کے ساتھ رہتا ہوں اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ
ہوتا ہوں پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا
ہوں اگر وہ مجھے کسی مجمع کے اندر یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر مجمع کے اندر یاد
کرتا ہوں اور اگر وہ بالشت بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک بازو کے برابر اس کے
قریب ہوجاتا ہوں، اگر وہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آئے تو میں دونوں بازؤں کے
برابر اس کے نزدیک ہوجاتا ہوں، اگر وہ چل کر میری طرف آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف
جاتا ہوں۔‘‘ بخاری، 6 : 2694
ڈاکٹر خالد
علوی لکھتے ہیں:"ذکر سے مراد ہر معاملے میں اس کی قدرت،رحمت اور عظمت کو یاد
رکھنا ہی نہیں بلکہ زبان اور عمل سے اس کا اظہار بھی ہے-ذکر الٰہی کے کئی طریقے
ہیں اس میں حمد و ثنا ،تسبیح وتحمید، تکبیروتہلیل بھی استغفار اور اسماءحسنٰی کا ورد بھی شامل ہے –آیات قرآنیہ و کونیہ میں
تفکر و تدبر بھی –ذکر الہی تما م اعمال پر محیط ہے –ایک مومن ان میں کسی بھی
سرگرمی میں مشغول ہو گا تو وہ ذکر الٰہی میں مصروف مانا جائے گا-"
بے شمار احادیث سے ثابت ہوتا ہے کی حضورﷺ اٹھتے بیٹھتے ،کھاتے
پیتے ،گھر میں داخل ہوتے وقت،سفر کرتے وقت ،نیا چاند اور نئے کپڑے پہنتے وقت ،سورج
گرہن ہو یا خوشی اور غمی ،کوئی سختی ہو یا کوئی فتح حاصل ہو ہر موقع پر اللہ کا
ذکر کرتے تھے-ایک صحابی کو حضورﷺ نے فرمایا "تیری زبان ہمیشہ اللہ کی ذکر سے
تر رہنی چاہیئے-کسی حال میں اللہ کے ذکر سے غافل نہ ہونا یہ اللہ والوں کی نشانی
ہے-تسبیح و تحمید و تکبیر و تہلیل بہترین اذکار
ہیں –تلاوت قرآن اور مطالعہ حدیث سب اللہ کی ذکر کی صورتیں ہیں-امر بالمعروف و نہی
عن المنکر بھی اللہ کو یاد کرنے کا ذریعہ ہیں-
حضورﷺ نے فرمایا "اللہ کی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے ذیادہ اللہ سے استغفار اور
اس سے توبہ کرتا ہوں"-( بخاری –6308)
رسول ﷺ نے فرمایا:"جس نے یہ کلمہ لا اله الا الله
وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير"دن میں سو دفعہ پڑھا اسے
دس غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گااور اس کے لیئے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی
اور سو برائیاں مٹا دی جائیں گی اور اس دن وہ شیطان کے شر سے شام تک محفوظ رہے گا-"(بخاری-6403)
نبیﷺ نے فرمایا :"دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں
ترازو میں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں سبحان اللہ عظیم سبحان اللہ و بحمدہ"
(بخاری -6406)
نبی ﷺ نے فرمایا:"اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو
یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی
ہے"(بخاری 6407)
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسولﷺاکثر یہ دعا
تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پڑھا کرتے تھے رب اغفرلی و تب علي أنك أنت التواب الغفور-ہم
نے گنا تو ایک نشست میں سو سو دفعہ یہ الفاظ آپ کی زبان سے ادا ہوئے-"(ابن
ماجہ -3814)
علامہ ابن قیم فرماتے ہیں" ذکر انسانی قوت میں
اضافہ کرتی ہے شیخ ابن تیمیہ کی چال ڈھال، گفتگو حوصلہ و ہمت اور تصنیف میں بہت ہی
تعجب خیز مناظر کا مشاہدہ ہوا ہے-آپ ایک دن میں اتنی تحریریں لکھتے تھے جو عام
لکھاری ایک عرصے میں لکھتا ہے -اس طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہانے گھریلو کام کاج
کی وجہ سے تھکاوٹ کی شکایت کی تو نبیﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکو ہر رات بستر
پر سوتے وقت 33 مرتبہ سبحان اللہ 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 بار اللہ اکبر کہنا
سکھایااور فرمایا تمھارے لیئے خادم سے بہتر ہے اور اس حدیث کے بارے میں یہ بھی کہا
ہے کہ اس عمل پر ہمیشگی اختیار کرے گا تو اس کے جسم میں اتنی طاقت آئے گی کہ اسے
خادم کی بھی ضرورت نہ ہو گی-"
حضورؐ اٹھتے بیٹھتے سفر و حضر میں جنگ اور امن دن اور رات ہر وقت ذکر میں مشغول رہتے تھے-ان کی سیرت طیبہ سے مختلف دعائیں منقول ہیں جن میں کثرت سے صبح اور شام کی دعائیں منقول ہیں اگر صبح کی دعائیں پڑھ لی جایئں تو شام تک ہر قسم کی آفت اور پریشانیوں سے بچا رہتا ہے اور اگر شام کو پڑھی جایئں تو اگلے دن تک تمام آفتوں سے محفوظ رہے گا-
بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَىْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ " ) ابو داؤد-5088
اس اللہ کے نام سے جس
کے نام پاک کیساتھ زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی ضرر نہیں پہنچا سکتی اور وہ سب
سننے والا اور جاننے والا ہے۔
حضورؐ نے فرمایا "جو
شخص ہر دن کی صبح اور ہر شام کو تین دفعہ یہ دعا پڑھ لیا کرے اسے کوئی نقصان نہیں
پہنچے گا اور وہ کسی حادثہ کا شکار نہیں ہو گا-"
قرطبی رحمہ اللہ فرماتے
ہیں: "جب سے یہ روایت سنی تھی میں پابندی سے یہ دعا پڑھا کرتا تھا ، پھر جب
مجھ سے چھوٹ گئی تو مجھے مدینہ میں رات کے وقت ایک بچھو نے کاٹ لیا، تو میں نے خوب
سوچ و بچار کی تو مجھے یاد آیا کہ میں نے ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالی کی پناہ
حاصل نہیں کی تھی-"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں: "ایک آدمی رسول اللہ ؐکے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! مجھے کل
رات ایک بچھو نے ڈنگ مار دیا ہے، تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر
تم شام کے وقت کہہ دیتے: " أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ
شَرِّ مَا خَلَقَ"میں تمام مخلوقات کے شر سے اللہ تعالی کے کامل کلمات کے
ذریعے اسی کی پناہ چاہتا ہوں تو تمہیں بچھو ڈنگ نہ مارتا" مسلم: (2709)
ایک اور حدیث میں
فرمایا "صبح شام اس دعا کو تین بار پڑھنے سے اسے کوئی زہریلی چیز نقصان نہیں
پہنچا سکتی"-
عبد اللہ ابن عمر سے
روایت ہے کہ جب صبح اور شام ہوتی تو حضورؐ یہ دعا ضرور پڑھتے تھے
اللَّهُمَّ إِنِّي
أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ اللَّهُمَّ
إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَاىَ وَأَهْلِي
وَمَالِي اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي وَاحْفَظْنِي مِنْ
بَيْنِ يَدَىَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي
وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي "ابن ماجہ 3871
اے اللہ میں دنیا و
آخرت میں معافی اور عافیت کا طالب و سائل ہوں اے میرے اللہ مں اپنے دین اور دنیا
اور اپنے اہل و عیال اور مال کے بارے میں معافی اور عافیت کا طلبگار ہوں اے اللہ
میری شرم و عار والی باتوں کی پردہ داری فرما میری دل کی گبراھٹ اور تشویش دور
فرما کر مجھے امن و اطمینان نصیب کر اے اللہ میری حفاظت فرمامیرے آگے سے میرے
پیچھے سےمیرے دائیں بائیں اور اوپر کی جانب سےاور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات
سے کہ نیچے کی جانب سے مجھ پر کوئی آفت آئےمجھے ہمیشہ اس سے محفوظ رکھ
رسولؐ نے فرمایا "شام کو اور صبح کوتم قل ھو اللہ احد اور معوذتین تین تین بار پڑھ لیا کرو یہ ہر چیز کے واسطے تمھارے لئے کافی ہوں گی-ابو داؤد 5082
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"جو شخص صبح و شام یہ کلمات پڑھتا ہے" سبحان اللہ وبحمدہ" تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے افضل کلمات نہیں لائے گا سوائے اس شخص کے جس نے اسی طرح کلمات کہے یا اس سے زائد کلمات کہے نیز اس کے تمام گناہ بخش دئے جائیں گے خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں"( ترمذی 3469)
حضرت ابوہریرہ سے روایت
ہے کہ نبیؐ اپنے اصحآب کو تلقین فرماتے تھے کہ جب رات ختم ہو کر تمھاری صبح ہو تو
اللہ کے حضوریہ دعا کیا کرو
اَللَّهُمَّ بِكَ
أَصْبَحْنَا, وَبِكَ أَمْسَيْنَا, وَبِكَ نَحْيَا, وَبِكَ نَمُوتُ, وَإِلَيْكَ
اَلنُّشُورُ
اے اللہ تیرے ہی حکم سے
ہماری صبح ہوتی ہے اور تیرے ہی حکم سے ہماری شام تیرے ہی فیصلہ سے ہم زندہ ہیں اور
تیری ہی حکم سے ہم وقت آجانے پر مریں گے اور پھر اٹھ تیرے ہی حضور حاضر ہوں گے
اور جب شام ہو تو یہ
دعا پڑھو
رسولؐ نے فرمایا"جو
شخص یقین کی حالت میں شام کے وقت یہ دعا پڑھے اور اسی رات فوت ہو جائےتو وہ شخص
جنت میں داخل ہو گااور جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے اور شام تک فوت ہو جائے تو
وہ بھی جنت میں داخل ہو گا۔"
اللهم أنت ربي، لا إله
إلا أنت ، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت
أبوء لك بنعمتك علي، وأبوء بذنبي، فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت۔( بخاری 6306،)
حضورؐ شام کو یہ
دعاپڑھتے
أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى
الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ
شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ
قَدِيرٌ رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا
بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا
بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ رَبِّ أَعُوذُ
بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ۔
اور جب صبح ہوتی تو یہ
دعا پڑھتے
" أَصْبَحْنَا
وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ
وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ
شَىْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا
بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا
بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ رَبِّ أَعُوذُ
بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ صحیح مسلم2723
امام ابن قیم استغفار کے 100 فوائد بتاتے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ذکر سے معرفت کا عظیم باب کھلتا ہے –اور ذکر ہی وہ
دروازہ ہے جو اللہ اور اس کے بندے کے درمیان کھلا ہوتا ہے اور اسکے ذریعے بندہ
اسکی بارگاہ میں پہنچ سکتا ہے جب بندہ اللہ کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے تو یہ دروازہ
بھی اس پر بند ہو جاتا ہے۔
کسی اہل علم سے پوچھا گیا، "انسان کے لئے تسبیح
افضل ہے یا استغفار؟ انہوں نے فرمایا اگر کپڑا پہلے ہی سے پاک و صاف ہو تو خوشبو و
عرق گلاب مفید ہے اور اگر میلا کچیلا ہو تو صابن اور گرم پانی مفید ہے پھر فرمایا
جب ہمارے کپڑے ہی میلے ہیں تو تسبیح کا کیا فائدہ ، استغفار ہی کرنا پڑے گا"
امام نووی فرماتے ہیں "اگر کسی شخص کو فضائل اعمال
کے بارے میں کوئی حدیث معلوم ہو تو کم از کم زندگی میں ایک بار ضرور اس پر عمل کرے
تاکہ اس کا شمار اس پر عمل کرنے والوں میں کروا سکے اور اس کو بالکل ترک نہ کرے
بلکہ جہاں تک ہو سکے اس پر عمل کرے ۔
حضورﷺ نے فرمایا ،"اللہ کے ذکر کے بغیر ذیادہ کلام
نہ کرو کیونکہ اس سے دل میں سختی اور بے حسی پیدا ہوتی ہے اور لوگوں میں وہ آدمی
اللہ سے ذیادہ دور ہےجس کے قلب میں بے حسی اور سختی ہو" –
(جامع ترمذی 2411)
حوالہ جات :
سیرۃالنبی ﷺ-سید سلیمان ندوی
انسان کامل ﷺ-ڈاکٹر خالد علوی
معارف الحدیث-مولانا محمد منظور نعمانی
الوابل الصیب و رافع الکلم الطیب-شمس الدین ابی عبداللہ
محمد بن قیم
مدارج السالكين- شمس الدین ابی عبداللہ محمد بن قیم
الأذكار- أبو
زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي
الفتوحات
الربانية على الأذكار النواوية-ابن علان
Masha Allah...👍
ReplyDeleteShukran
ReplyDeleteJazakAllah khair👍
ReplyDelete