رمضان اور تقوی
رمضان المبارک کا عظیم مہینہ شروع ہونے والا ہے-ایک ایسا
مہینہ جس میں مسلمان دن کو روزہ رکھتے ہیں اور راتوں کو قیام کرتے ہیں جس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ہر
نیکی کا اجر دگنا کر دیا جاتا ہے اللہ اپنے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور درجات کو بلند کر
دیتا ہے –رسولﷺ کا فرمان ہے
"جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں
اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں "(بخاری)
ایک اور جگہ حضورﷺ نے فرمایا"اے لوگو تمھارے اوپر ایک
بڑا مہینہ سایہ فگن ہوا ہے –یہ بڑی برکت والا مہینہ ہےیہ وہ مہینہ ہے جس کی
ایک رات
ہزار مہینوں سے ذیادہ افضل ہے اللہ نے اس کے روزے فرض کیئے ہیں اور اس کی
راتوں کے قیام کو نفل قرار دیا ہے جس شخص نے اس مہینے میں کوئی نیکی کر کے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی
کوشش کی تو وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے دوسرے دنوں میں کوئی فرض ادا کیا اورجس نے
اس مہینے مین ایک فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے جیسے دوسرے دنوں میں اس نے ستر فرض
ادا کیے اور رمضان صبر کا مہینہ ہے صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ
ہمدردی کا مہینہ ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے اگر
کوئی شخص اس میں کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائےتو وہ اس کی گناہوں کی مغفرت اور اس
کی گردن کو دوزخ کی سزا سے بچانے کا ذریعہ ہے اور اس کے لئے اتنا اجر ہےجتنا اس روزہ
دار کے لئے روزہ رکھنے کا ہے بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی واقع
ہو –حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے ہر
ایک کو یہ توفیق میسر نہیں کی کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے رسولﷺ نے فرمایا اللہ
یہ اجر اس شخص کو بھی دے گا جو کسی روزہ دار کو دودھ کی لسی سے روزہ کھلوادے یہ ایک
کھجور کھلا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے –اور جو شخص کسی روزہ دار کوپیٹ بھر کے
کھانا کھلا دے تو اللہ اس کو میرے حوض سے پانی پلائے گا پھر اسے پیاس محسوس نہ
ہوگی یہاں تک کے وہ جنت میں داخل ہو جائے گا -اور یہ وہ مہینہ ہے جسکے آغاز میں رحمت وسط میں مغفرت اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے-
اور جس نے رمضان میں اپنے غلام سے ہلکی خدمت لی اللہ اسے بخش دے گا اور اس کو دوزخ
سے آزاد کر دے گا-"(بیہقی)
قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے
"اے ایمان والوں تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دیئے
گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقوی کی صفت پیدا ہو گی-"(سورہ البقرہ183)
روزوں کا سب سے بڑ ا مقصد تقوی کا حصول ہے جو نیکیاں کر کے
اور برائیوں سے رک کر حاصل کیا جا سکتا ہے –اگر ایک روزہ دار رمضان میں تقوی کا
حصول حاصل کرنے میں ناکام ہوا تو اس نے یہ رمضان خسارے میں گزار دیااور اس کا
کھانے پینے سے رک جانا اس کو کوئی فائدہ نہ دے گی اور رمضان کا افتتاح اس آیت سے کرنے سے ہی اس کی اہمیت کا اندازہ کیا
جا سکتا ہے کہ اس کا اولین مقصد تقوی حاصل
کرنا ہے-اور اس کے بعد ہی اس کے آداب اوور احکام بیان کیے ہیں-تاکہ لوگوں پر اس کا
گہرا اثر ہو-
حضورؐ کا ارشاد ہے" جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ تو
اس کے وہ سب گناہ معاف کر دیئے جائیں گے جو اس سے پہلے سرزد ہوئے ہوں گے
اور جس شخص نے رمضان میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تومعاف کر دیئے جائیں
گے اس کے وہ قصور جو اس نے پہلے کیے ہوں گے-"(متفق علیہ)
رمضان میں ایمان
اور احتساب کے ساتھ روزہ رکھنا اور قیام
کرنے سے ہی ہم رمضان کا پھل حاصل کر سکتے
ہیں –جس کی وجہ سے اللہ ہمارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ کی رضا حاصل ہو گی-اور جو شخص صرف اس لیئے روزہ رکھے کہ
باقی لوگ بھی رکھ رہے ہیں اور نیت کی اصلاح
اور احتساب سے غافل رہے تو یہ بڑے خسارے
کی بات ہے-
مولانا عبد الماجد دریا آبادی لکھتے ہیں "روزہ تزکیہ
نفس اور تربیت جسم کا ایک بہترین دستور العمل ہے –اشخاص کی انفرادی اور امت کے
اجتماعی ہر دو نقطہ نظر سے "تتقون " کے ارشاد سے اسلامی روزہ کی غرض و
غایت کی وضاحت ہو گئی کہ اس سے مقصود تقوی کی عادت ڈالنا اور امت وافراد کو متقی بنانا ہےو جس طرح مضر عادتوں اور
مضر غذاؤں سے احتیاط کرنے سے صحت درست رہتی ہے اور مادی لذتوں سے لطف حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا
ہوتی ہے ، بھوک خوب کھل کر لگتی ہے اور
صالح خون پیدا ہوتا ہے اسی طرح اس عالم میں تقوی اختیار کر لینے سے علم
آخرت کی لذت اور نعمتوں سے لطف اٹھانے کی صلاحیت و استعداد انسان میں پوری طرح
پیدا ہو کر رہتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی روزہ کی افضلیت تمام دوسری
قوموں کے روزوں پر علانیہ ثابت ہوتی ہے"
انسان جب صبح سے شام تک نفس کی خواہشوں سے رکے گا
اور اپنے دل کو ذکر الہٰی،تلاوت،نماز ،اعتکاف میں لگا دے گا تو بے شک اس کی روح کو قوت دے گی اور اس جسم کو چھوڑنے
کے بعد یہی حیات ابدی اور عالم قدس میں زندہ رہنے کا سبب ہو گا اور ان احکام کی
تعمیل جسمانی خواہشوں کے خلاف ہے اور جب تک انسان اپنے نفسانی خواہشات سے مقابلہ
کرنے کا خوگر نہیں ہوتا تو اصول حسنات اور
صبر پر قادر نہیں ہوتا بلکہ دنیاوی ترقی کے لیئے بھی مصائب برداشت نہیں کر سکتا اس
لیئے روزے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ روح قوی ہو جائے-
سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ تقوی انسان کی اس قلبی کیفیت
کا نام ہے جو ہر قسم کی نیکیوں کی محرک ہے-اور قرآ ن میں اللہ فرماتے ہیں
"
نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب
کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت
پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال
باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے
والوں کو دیں اور گردنوں کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔
اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار
کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا
سے) ڈرنے والے ہیں-(سورہ البقرہ 177)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقوی کا پہلا نتیجہ جس طرح
ایمان ہے اسی طرح دوسرا لازمی نتیجہ اخلاق کے بہترین اوصاف ،فیاضی،ایفائے عہد،صبر
اور ثابت قدمی ہے اور خدا کے ہاں وہی لوگ
نیک بندے قرار پائیں گے جن کے اخلاق اچھے
ہوں اللہ فرماتے ہیں
"اور خدا کے بندے
تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو
کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں اور جو وہ اپنے پروردگار کے آگے سجدے کرکے اور (عجز
وادب سے) کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں۔اور جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے
پروردگار دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھیو کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہےاور
دوزخ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے
اور وہ جب خرچ کرتے ہیں
تو نہ بےجا اُڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ۔ نہ
ضرورت سے زیادہ نہ کم-اور وہ جو خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جن
جاندار کو مار ڈالنا خدا نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریق پر
(یعنی شریعت کے مطابق) اوربدکاری نہیں کرتے۔ اور جو یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا
ہوگا"۔ (سورہ الفرقان)
ہمیں چاہیے کہ رمضان کے
اس مبارک مہینے میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے جتنا ممکن ہو اللہ کا قرب حاصل کریں۔اس لئے اس مہینہ میں جتنا ممکن ہو
ہر اس کام سے بچیں جس کا اللہ اور اس کے رسول نے بچنے کا حکم دیا ہے ۔ اور نہ ہی صرف رمضان میں بلکہ اس کے بعد پورا
سال اس پر عمل پیرا ہونے کی بھی کوشش کرتے رہیں۔
٭قرآن کی ذیادہ سے ذیادہ تلاوت کرنا اور اگر ممکن ہو توترجمہ سے پڑھنا اور اس پہ
عمل کرنا۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے"رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا
‘ لوگوں کو ہدایت دینے والا اور روشن دلیلیں ہدایت دینے والیں اور حق اور باطل میں
فیصلہ کرنے والیں ‘ سو تم میں سے جو شخص اس مہینہ میں موجود ہو وہ ضرور اس ماہ کے
روزے رکھے ‘ اور جو مریض یا مسافر ہو (اور روزے نہ رکھے) تو وہ دوسرے دنوں سے
(مطلوبہ) عدد پورا کرے ‘ اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تمہیں
مشکل میں ڈالنے کا ارادہ نہیں فرماتا اور تاکہ تم (مطلوبہ) عدد پورا کرو ‘ اور
اللہ کی کبریائی بیان کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے اور تاکہ تم شکر ادا کرو(سورہ
البقرہ -185)
٭روزانہ ایک حدیث پڑھنا اس پر عمل کرنا اور اس کو دوسروں تک پہنچانا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ
تعالی اس شخص کو تر و تازہ رکھے جو میری بات سن کر یاد کرے اور پھر اسے دوسروں تک
ایسے ہی پہنچائے جیسے اس نے سنا تھا"۔ احادیث
کی نشر و اشاعت سنت اور علم کی نشر و اشاعت ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر کوئی مومن مسلمان احادیث سیکھ لے تو اس کیلیے بہت بڑا اجر ہو
گا؛ کیونکہ یہ علم حاصل کرنے کے زمرے میں آتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان
ہے: (جو شخص کسی راستے پر چلتا ہے علم حاصل کرنے کیلیے، تو اللہ تعالی اس
کیلیے جنت کا راستہ آسان بنا دیتا ہے)مسلم
٭سیرت کا مطالعہ کرنا۔اللہ تعالی کا ارشاد
ہے "بیشک رسول اللہ میں تمہارے لیے نہایت عمدہ نمونہ ہے ‘ ہر اس
شخص کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہو" اگر
ہم سیرت کا مطالعہ نہیں کریں گے تو ہمیں
رسول اللہ کے اسوہ حسنہ کا کیسا پتہ چلے گا اور پھر ہم اس پر عمل کیسے کریں گے اس
لئے سیرت کا مطالعہ ناگزیر ہے
٭سوشل
میڈیا سے دور رہنا جو وقت کے ضیاع کا سبب بنتا ہے حالانکہ رمضان جیسے مبارک مہینے میں
جتنا ممکن ہو اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہیئے ۔رسول ﷺ کا ارشاد ہے"’’کتنے روزہ دار ایسے ہیں جن کو اپنے روزوں سے بھوک پیاس کے سوا
کچھ نہیں ملتا اور کتنے راتوں کو نماز پڑھنے والے ہیں جن کو نمازوں سے رت جگے کے
سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
ابن خزيمة، الصحيح، 3 : 242، رقم
: 1997
٭فلموں ڈراموں گانوں سے اجتناب کرنا ۔اس کی جگہ ذکر و اذکار میں مشغول رہنا کیونکہ رمضان کےمہینے میں ہر اچھےعمل کا ثواب ستر گنا ذیادہ ملتا ہے اس لئے اس کو فضول کاموں میں نہ ضائع کیا جائے اور زبان کا اللہ کئ ذکر سے تر رکھنی چاہیے ۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے" کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے سب سے اچھا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے مالک کے ہاں بہتر اور
پاکیزہ ہے، تمہارے درجات میں سب سے بلند ہے، تمہارے سونے اور چاندی کی خیرات سے بھی افضل ہے، اور تمہارے
دشمن کا سامنا کرنے یعنی جہاد سے بھی بہتر ہے درآنحالیکہ تم انہیں قتل کرو اور وہ تمہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض
کیا : کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا : وہ عمل اللہ کا ذکر ہے۔‘‘(الترمذي في السنن، کتاب : الدعوات، باب : 6، 5 / 459، الرقم : 3377)
٭اچھے اخلاق کو اپنانا چاہیئے ۔یہ نہ ہو کہ روزہ رکھ لیا جائے اور اس کے بعد بات بات پہ جھگڑا کیا جائے کسی کو سیدھا منہ جواب نہ دیا جائے کہ میرا روزہ ہے۔بلکہ ماہ رمضان کا استقبال خوش دلی سے کرنا چاہیئے۔اپنی نیتوں کو ٹھیک رکھنا چاہیئے ۔رسول اللہ ﷺ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے لے کر دوسرا جمعہ پڑھنا اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے روزے رکھنا، ان کے درمیان واقع ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں، جب تک کہ انسان گناہ کبیرہ نہ کرے۔(مسند احمد حدیث نمبر:8700)۔اسلام میں اخلاق حسنہ کی بے حد ترغیب دی ہے ۔حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جس نے جھوٹ ترک کر دیا اس کا ٹھکانہ جنت کے آغاز میں ہوگا، جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا ترک کیا اس کا ٹھکانہ جنت کے درمیان ہوگا، اور جس نے اپنی ساری عادات و اخلاق کو بہتر بنا لیا اسے جنت کے سب سے اوپر والے حصہ میں جگہ ملے گی۔
٭تہجد ،تراویح کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل
کرنا ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’جس شخص نے حالتِ ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے
روزے رکھے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے داتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان کی
حالت اور ثواب کی نیت سے قیام کرتا ہے تو اس کے (بھی) سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے
ہیں اور جو لیلۃ القدر میں ایمان کی حالت اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے گزشتہ
گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘
بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التراويح، باب فضل ليلة القدر، 2 :
709، رقم : 1910
حوالہ جات:
صحیح بخاری: ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری
تفسیر حقانی: ابو محمد عبدالحق الحقانی الدہلوی
تفسیر ماجدی:عبدالماجد دریاآبادی
سیرۃ النبی :سید سلیمان ندوی
کتاب الصیام:سید ابو الاعلی المودودی
تحقیق التقوی فی صیام الرمضان:فھد بن عبدالرحمان العبیان
من اسرار الصیام و حکمۃ:عبدالکریم العمری

Ma sha Allah,Allah tala aap ko acha sila ata farmaye Ameen
ReplyDeleteAmeen
Delete