سلسلہ صحابیات (حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا )


"سلسلہ سیرت اسوہ  صحابیات "(1)

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  

 

یہ سلسلہ شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام میں خواتین نے جو عظیم الشان کارنامے انجام  دیئے ہیں ان کی اسوہ کو سامنے رکھا جائے ۔

جنہوں نے حضورﷺ سے براہ راست تربیت حاصل کی ۔اور جن کی زندگی ہمارے لئے مینارہ نور اور مشعل راہ ہیں ۔اسلام کے ہر دور میں

 عورتوں نے مختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے۔ مگر ازواج مطہرات طیبات ؓ اور اکابر صحابیات ؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہماری

 عورتوں کے لیے اسوۂ حسنہ بن سکتی ہیں۔ اور موجودہ دور کے تمام معاشرتی اور تمدنی خطرات اور بے جا آزادی کے مضراثرات سے محفوظ رہ

 سکتی ہیں۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ بہت سےلوگوں کو صحابیات کے بارے میں علم نہیں ہوتا ان کے نام سے تو واقف ہوتی ہیں لیکن ان کی

 سیرت سے ناواقف ہوتے ہیں ۔یہاں پر مختصرا سیرت بیان کی جائے گی لیکن امید یہ ہے کہ اس کہ بعد اس موضوع پر لوگوں کی دلچسپی بڑھ

ے گی اور وہ مختلف کتب کا مطالعہ ضرور کریں گے ۔مسلمان خواتین میں خاتون اول حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا درجہ بہت بلند ہے۔اس

 لئے سب سے پہلا ان کا تذکرہ کرنا ضروری ہے ۔

مکہ سے دور غار حرا میں بیٹھے حضورﷺ عبادت میں مشغول تھے  اتنے میں جبرائیلؑ تشریف لائے اور فرمایا

" یا رسول الله! یہ خدیجہ ہیں جو ایک برتن لے کر آرہی ہیں جس میں سالن اور کھانے پینے کی چیزیں ہیں، جب یہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کا اور میرا سلام کہیے اور انہیں جنت میں موتیوں کے محل کی بشارت دے دیجئے، جس میں نہ کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی۔‘‘ (متفق علیہ)

عورتوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی ،ام المؤمنین کا شرف حاصل کرنے والی ،مشکل وقت میں آپﷺ کی دلجوئی کرنے والی اپنے مال وجان سے اسلام کی مدد ونصرت کرنے والی حضرت خدیجہ  رضی اللہ عنہا ہیں جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تعلق قریش کے معزز اور شریف خاندان سے تھا ۔باحیا ،خود دار مہذب خدمت گزار غریبوں کا خیال رکھنے والی قابل ذہین دیانتدار اور عاقلہ تھیں۔طاہرہ ان کا لقب تھا ۔ان کے والد ایک کامیاب تاجر تھے  اور فوت ہونے سے پہلے اپنی تجارت اپنی ذہین بیٹی کے سپرد کیا اور انہوں نے اس ذمہ داری کو نہایت خوش  اسلوبی سے سر انجام دیا  اور ان کی تجارت ایک طرف شام کو پھیلی ہوئی تھی تو دوسری طرف یمن کی طرف۔حضورﷺ کے بے پناہ اوصاف نے ان کو متاثر کیا۔ اپنی سہیلی کے ذریعہ نکاح کا پیغام بھیجا ۔نکاح کے وقت حضورﷺ کی عمر 25 سال  اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی 40 سال تھی۔

جب حضورﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو آپﷺ پر گھبراہٹ طاری ہوئی فورا گھر پہنچے ۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو حالات سنائے تو انہوں نے حضورﷺ کو تسلی دی اور فرمایا" آپ کو بشارت ہو آپ ہرگز نہ ڈرئیے۔ خدا کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں۔  ہمیشہ آپ سچ بولتے ہیں لوگوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی دوسروں کے قرضے اپنے سر رکھتے ہیں اور ناداروں کی خبرگیری فرماتے ہیں‘ امین ہیں لوگوں کی امانتیں ادا کرتے ہیں۔ مہمانوں کی ضیافت کا حق ادا کرتے ہیں۔ حق بجانب امور میں آپ ہمیشہ معین اور مددگار رہتے ہیں۔"سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اس تشفی سے حضورﷺ کو اطمینان ہو جاتا اور ان کی گھبراہٹ دور ہو جاتی۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہر موقع اور ہر مصیبت میں آپﷺ کی مدد کے لئے تیار رہتی تھیں ۔حضورﷺ فرمایا کرتے تھے۔"میں جب کفار سے کوئی بات سننتا تھا اور وہ مجھ کو ناگوار معلوم ہوتی  تو میں خدیجہ سے کہتا ۔وہ اس طرح میری ڈھارس بندھاتی تھی کہ میرے دل کو تسکین ہو جاتی اور کوئی رنج ایسا نہ تھا جو خدیجہ کی باتوں سے آسان اور ہلکا نہ ہو جاتا۔"

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہت تعریف کرتے تھی ۔ایک دن میں نے ان سے کہا کہ آپ ہر وقت اس بڑھیا کا تذکرہ کیوں کرتے ہیں حالانکہ آپ کو اس سے بہتر بیوی ملی ہے اس پر حضورﷺ  رنجیدہ ہوئے اور فرمایا"عائشہ وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائی  جب لوگوں نے انکار کیا،اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب بیشتر لوگوں نے مجھے جھٹلایا،اس نے مال و دولت سے میری مدد کی اور اس سے اللہ تعالی نے مجھے اولاد کی نعمت سے بھی نوازا۔"

حضورﷺ کے ساتھ ساتھ وہ بھی عورتوں میں تبلیغی خدمات سر انجام دیتی ۔ان کی کوششوں سے بہت لوگ ایمان لائے ۔پھر ان صحابیات کو دینی تعلیم بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا دیتیں۔جب مسلمان شعب ابی طالب میں محصور ہوئے تو سیدہ خدیجہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ اس کرے وقت کو انہیوں نے صبر و تحمل سے گزارا  حالانکہ انکی ساری عمر نازو  نعم میں پلی تھی اور دولت کی ریل پیل تھی۔پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے اثر سے کبھی کبھار ان کے بھتیجے کھانے کا کوئی سامان بھیج دیتے ۔جب محاصرہ ختم ہوا تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بیمار ہو گئی اور کچھ دن بعد فوت ہوگئی ۔حضورﷺ خود ان کی قبر میں اترے ۔حجون کے مقام پر ان کی تد فین ہوئی۔اس سال کو عام الحزن قرار دیا کیونکہ ان کے چلے جانے کے بعد کفار نہایت بے رحمی و بے باکی سے آپﷺ کو ستاتے تھے۔سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد آپﷺ کی طبیعت بجھی بجھی سی رہنے لی۔خولہ بن حکیم تعزیت کے لئے آئی تو کہا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے جانے کے بعد آپﷺ کافی غمگین دکھائی دینے لگے ۔آپﷺ نے فرمایا کیوں نہیں: وہ میری بچوں کی ماں۔میری غمگسار و رازداں تھیں،اس نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا،اس نے محبت وفاداری اور سلیقہ شعاری کاحق ادا کیا  بھلا میں اس کو کیسے بھول سکتا ہوں۔حضرت عائشہ کہتی ہے کہ میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا تھا لیکن مجھے جس قدر اس پر رشک آتا تھا کسی  اور پر نہیں آتا تھا جس کی وجہ یہ تھی کی حضورﷺہمیشہ اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔

حضرت انس فرماتے ہیں کہکہ رسول ﷺ کے پاس کوئی چیز لائی جاتی تو آپﷺ فرماتے کہ یہ چیز فلاں کے گھر پہنچا دو وہ خدیجہ کی سہیلی ہے۔حضورﷺ نے فرمایا "اہل جنت کی تمام عورتوں سے افضل خدیجہ ،فاطمہ بنت محمدﷺ،آسیہ فرعوب کی بیوی اور مریم بنت عمران ہیں۔"(صحیح الجامع 3143)حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے اللہ نے حضورﷺ کو دو بیٹے قاسم و وبیٹے  دئے جو بچپن میں فوت ہوئے اور چار بیٹیاں  زینب،رقیہ ام کلثوم و فاطمہ رضی اللہ عنہن پیدا ہوئیں۔

اللہ ان پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل کریں

حوالہ جات

تذکار صحابیات      طالب الہاشمی

صحابیات مبشرات

حیات صحابیات  ابو انس الماجد

سیرت خدیجہ کبری     ادریس فاروقی

سیرت صحابیات مع اسوہ صحابیات سید سلیمان ندوی

 

 

 

 

 

 


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ذکر الہی کی اہمیت و فوائد

سفرنامہ حج(حصہ دوم)

ماہ شعبان اس کی اہمیت اور بدعات