آخری عشرے کی فضیلت اور لیلۃ القدر


 

رمضان کا مہینہ تما م مہینوں سے افضل ہے -یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ نے قرآن کو نازل کیا ہے –اور اس مہینہ کے روزے فرض کئے گئے ہیں –قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے-

رمضان کا مہینہ جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہےاور جس میں ہدایت کی کھلی کھلی نشانیاں ہیں اور جو حق و باطل کو الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے -(سورہ البقرہ -185)

حضورﷺ کا ارشاد        ہے

"ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیئے  کئی  گنا بڑھا  دیا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی دس گنا تک اوردس سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے لیکن اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لیےہے اور میں ہی اسکا اجر دوں گا-"

رمضان کے دو عشرے گزر گئے –تیسرا عشرہ شروع ہونے کو ہے –جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے –اللہ تعالی کا ارشاد ہے

"اس کتاب روشن کی قسم  کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو رستہ دکھانے والے ہیں"-(سورہ دخان-2-3)

امام ابن کثیر فرماتے ہیں "اس شب ہر کام طے کیے جاتے ہیں یعنی  لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں-تمام سال کے اہم کام روزی  ،عمر وغیرہ طے کر لیے جاتے ہیں-"

ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

"ہم نے اس( قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا

اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہےشب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے

اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں

یہ( رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے-(سورہ القدر )

مولانا مودودی فرماتے ہیں"قدر کے کئی معنی ہیں ایک یہ کہ یہ رات بہت احترام کے قابل او ر عظمت والی ہے کیونکہ اس میں قرآن نازل ہوا ہے  اور قضا و قدر کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے جیسے قرآن میں بیان کیا گیا ہے (اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں)چنانچہ اس کے معنی تقدیر بنانے کی رات کے بھی ہو سکتے ہیں-"

السعدی فرماتے ہیں "اس کی فضیلت ہزار مہینے سے بہتر ہے –یہ ایک ایسی فضیلت ہے جس کے بارے میں عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اللہ نے اس ضعیف امت کو ایسی طاقت سے نوازا ہے اور ایک ایسی رات عنایت فرمادی ہے جو کہ ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی افضل ہے اور یہ ہزار ماہ اسی سال سے بھی ذیادہ بنتے ہیں۔"

محمد ادریس کاندھلوی اپنی تفسیر میں امام زہری کا قول لکھتے ہیں اس رات نیک بندوں اور ان کےاعمال صالحہ کو اللہ تعالی اور ملاء اعلی میں بڑی قدرومنزلت حاصل ہےاس وجہ سے اس کو لیلۃ القدر کہا جاتا ہے اور ابوبکر وراق کہتے ہیں کہ اس رات کو لیلۃ القدر اس لیئے کہتے ہیں اس رات میں اللہ نے جو کتاب اتاری ہے وہ بھی قابل قدر ہےاور جس پیغمبر  پر اتاری گئی وہ بھی قابل قدر اور افضل الانبیاء ہے اور جس امت کے لیئے نازل کی گئی وہ بھی قابل قدر اورخیر الامم ہے-"

رسولﷺ کا ارشاد ہے " تم پر رمضان کا مبارک مہینہ آیا ہے جس میں اللہ تعالی نے تم پر روزے فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اس میں اللہ کی طرف سے ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا "(سنن النسائی-2106)

رسولﷺنے فرمایا "شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں طاق راتوں میں ڈھونڈو-"(بخاری-2017)

حضرت عائشہ فرماتی ہیں جب رمضان کا آخری عشرہ آتا ہے حضورﷺ اپنی کمر پوری طرح کس لیتے اور راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے –(بخاری -2024)

رسولﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اتنی کوشش کرتے عبادت میں جو اور دنوں میں نہ کرتے (مسلم-2788)

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ انہیں نے رسولﷺ سے پوچھا مجھے بتائیں کہ اگر مجھے لیلۃ القدر کا علم ہوتو مجھے اس میں کیا کہنا چاہیے-نبیﷺ نے فرمایا " اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي"اے اللہ تو معاف کرنیوالا ہے اور معاف کرنا پسند کرتا ہے لہذا مجھے معاف فرمادے –(ابن ماجہ -3850)

 رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی ایک اہم خصوصیت اعتکاف ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک معمول تھا کہ رمضان المبارک کے

 آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے

 آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے۔ (بخاری، حدیث: 1885 ) صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

 بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا، پھر ان

 کے بعد ان کی ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیا ۔ (بخاری، حدیث : 1886)

 لہٰذا ہمیں چاہیے کہ تمام طاق راتوں میں فرائض کی ادائیگی کے ساتھ  ، نفل نماز، تلاوت، درود شریف، دعاؤں اور دیگر اذکار کا خوب اہتمام

 کرے، اس رات کا کوئی خاص عمل نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے سبھی اعمال کیے جائیں اس طرح ہر قسم کے اعمال کا ثواب بھی

 حاصل ہوجائے گا  اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ اسے شبِ قدر بھی حاصل ہوجائے گی۔ان راتوں کو بازاروں میں جاکر  ضائع

 نہ کریں  بلکہ دلجمعی کے ساتھ جتنا ہو سکے اللہ کی عبادت کی جائے تاکہ ذیادہ سے ذیادہ ثواب سمیٹ سکیں ۔

حوالہ جات

تفسیر السعدی :عبدالرحمان بن ناصر السعدی

معارف القرآن: محمد ادریس کاندھلوی

کتاب الصیام:سید ابو الاعلی المودودی

تفسیر ابن کثیر:حافظ عماد الدین ابو الفداءابن کثیر

الصیام آداب و احکام:عبد اللہ بن عبد الرحمان الجبرین .

 

 


Comments

Popular posts from this blog

ذکر الہی کی اہمیت و فوائد

سفرنامہ حج(حصہ دوم)

ماہ شعبان اس کی اہمیت اور بدعات