میرا سفر عمرہ (خالہ اور خالو مرحومین کے نام جن کے ساتھ ہم نے یہ سفر ادا کیا )
اگلا دن تو سامان اکٹھا کرتے اور لوگو ں کے فون سنتے ہوئے
گزر گئے-منگل کی صبح اٹھ کر ہسپتال پہنچے اور پولیو کارڈز بنوائے-واپس گھر آئے توآہستہ
آہستہ تمام رشتہ دار آنے لگے –پیکنگ میں انہوں نے مدد کی-مغرب کی نماز پڑھ کر فورا
ہی سات بجے گھر سے نکل پڑے اللہ کا شکر ادا
کیا کہ ایئرپورٹ گھر کے نزدیک ہے –آدھ گھنٹہ لگا –اندر چیکنگ کا مرحلہ طے
ہوا – تھوڑی بہت بدنظمی کا سامنا کرنا پڑا کوئی قطار میں کھڑ ا ہونے کا نام نہیں
لے رہا تھا خاص کر عورتوں کی لائن میں کافی
دھکے کھاتے ہوئے تمام مراحل حل ہوئے
لاؤنج پہنچے-وہاں خالہ،خالو اور دو خالہ زاد بہنوں سے ملاقات ہوئی-اتنے میں اعلان ہوا جدہ جانے
والے مسافر احرام باندہ لے-بس اس اعلان کے ساتھ کافی ہلچل شروع ہو گئی-وضو کیا دو
رکعت نماز ادا کی اور جہاز کی طرف روانہ ہوئے- 5 گھنٹے کا سفر شاہین ائیر لائن سے
کافی خوفناک گزرا ہر دس منٹ بعد ایک زور
کا جھٹکا لگتا ۔ میرے ساتھوالی سیٹ پہ ایک
بوڑھی عورت بیٹھی تھی۔بیٹھتے ہی سو گئی
۔دو گھنٹہ بعد اٹھ کہ کہتی ہیں جہاز اڑا میں نے کہا ہاں اور پھر دل میں کہا کہ کیا
خوش قسمت لوگ ہیں ہم دعائیں پڑھ پڑھ کہ تھگ گئے اور انکو پتہ ہی نہیں کی جہاز اڑا
یا نہیں۔ اللہ اللہ کر کے پانچ گھنٹہ ختم ہوئے -جدہ ائیر پورٹ پر اترے –کیا اچھا
ائیر پورٹ تھا پورا ایک شہر تھا اور پشاور والا ایک قدم اٹھاؤ تو ائیرپورٹ ہی
ختم۔خیر کہاں پاکستان اور کہاں تیل سے مالا مال ملک ۔تھکن کا نام و نشان نہیں تھا
لیکن جب اس لمبی قطار میں کھڑے ہوئے اور ان کے کام کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ اب پانچ چھ گھنٹے اسی لائن میں کھڑا ہونا ہے
اور جب تمام مراحل طے ہوئے تو ایسا لگتا تھا کسی پہاڑ کو سر کرلیا –وہان سے بسوں
میں بیٹھے اور مکہ کی طرف روانہ ہوئے-خالہ لوگ دوسری بس میں بیٹھے ان کا اور ہمارا
ہوٹل الگ الگ تھا۔راستے میں نمازفجرکے لئے رکے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی-نماز
پڑھ کے دوبارہ بسوں میں بیٹھے -کچھ دور آگے چل کر کلاک ٹاور نظر آنے لگا اور مکہ
کی سرزمین قریب نظر آنے لگی ا و ر تقریبا صبح آٹھ بجے ہم ہوٹل پہنچے-بھوک زوروں کی
لگ رہی تھی اس لئے بھائی جاکے ناشتہ لے آیا-ناشتہ سے فارغ ہوئے اور دس بجے کے قریب
ہم مسجد الحرام کی طرف روانہ ہوئے-
اس وقت عجیب سی
کیفیت ہور ہی تھی اللہ کے گھر کو دیکھنے کا جو شوق تھا اب ہم اس منزل کے
قریب پہنچ گئے تھے –کہا ھاتا ہے خانہ کعبہ پر جب پہلی نظر پڑھے جو دعا مانگی جائے
وہ قبول ہوتے ہے اب سمجھ نہیں آرہی تھی
کیا دعا مانگے۔مسجد الحرام میں باب عبد اللہ سے داخل ہوئے –دس بج رہے تھے اچھا
خاصا سکون تھا رش ذیادہ نہیں تھا –جا بجا مطاف کی طرف اشارے لگے ہوئے تھے-تھوڑی
دیر چلنے کے بعد ہمیں خانہ کعبہ نظر آنے
لگا –دل زور زور سے دھڑکنے لگا –خانہ کعبہ قریب نظر آنے لگا اور ہم پل کی پہلی
منزل پر چڑھے اور طواف شروع کر دیا-خانہ کعبہ اتنا بڑا لگ رہا تھا تقریبا پہلے چکر
میں ہم صرف خانہ کعبہ کو ہی دیکھ رہے تھے –عجیب سا سکون تھا جو اس شہر اور اور
اللہ کے گھر کو دیکھ کر ملا لگتا تھا اس دنیا میں کوئی مشکلات کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے بس ہر جگہ سکون ہی سکون ہے-آہستہ آہستہ 35
منٹوں میں سات چکر پورے کیے پل سے نیچے اترے صحن میں دو رکعت نماز پڑھی۔اس وقت
خانہ کعبہ کی توسیع کا کام ہو رہا تھا اس لئے طواف کرنے والوں کے لئے پل بنائے
تھے۔کاش یہ پل نہ ہوتے تو خانہ کعبہ کو اچھی طرح دیکھ سکتے۔اس کے بعد زمزم کا پانی
پیا اور صفا اور مروہ کی طرف روانہ ہوئے-
صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے-حضرت ہاجرہ ؑ کی قربانی اور ان کی بھاگ دوڑ کو اللہ کو
اتنی پسند آئی کہ اسے شعائر اللہ بنا دیا-صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا کے درمیان
چکر کے دوران بار بار حضرت ہاجرہؐ کی یاد
آرہی تھیں –اس وقت صفا اور مروہ کے درمیان پوری راستہ فرش کیا ہوا ہے –اے سی کی
سہولت ہے چھت ڈالی ہوئی ہے پانی با سہولت موجود ہے لیکن وہ سات چکر کافی تھکا دینے
والے تھے ایک گھنٹہ لگا ۔اس سختی کا تو ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے جو حضرت ہاجرہؑ
نے برداشت کی ہوں گی-انڈونیشین کا ایک بڑا گروپ گزرا تو اونچی آواز سے قرآن کی یہ
آیت پڑھتے " ان الصفا المروۃ من شعائر اللہ۔۔۔۔"اور ساری توجہ ان کی طرف
ہوجاتی اور اپنی دعائیں درمیان میں بھول جاتے ۔ ایک لڑکی نے ماشاءاللہ پورے سات
چکروں میں اپنی مکمل ویڈیو بھی بنائی۔
ساڑھے گیارہ بجے ہم واپس ہوٹل پہنچے الحمد للہ
ہوٹل نزدیک بھی تھا اور اچھا بھی تھا –میری زندگی کا پہلا عمرہ بخیر و عافیت تکمیل
کو پہنچا نماز ظہر کی اذان کے وقت ہم ہوٹل سے نکلے –وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا سڑک
تک تمام نمازی کھڑے ہیں پہلے دن تھا اندازہ نہیں تھا کہ یہ صورتحال ہو گی یہاں تو
ہر نماز کے لئے آدھا گھنٹہ پہلے پہنچنا پڑھتا ہے ہم نے بھائی سے کہا تم شامل ہو
جاؤ ہم چلے جایئں گے اس نے کہا ہوٹل کا راستہ معلوم ہے ہم نے کہا بے فکر ہو جاؤ-
واپس مڑے تو راستہ ہی بھول گئے حالانہ وہ اسی سڑک پر ہی تھا –بہت تلاش کے بعد نہ ملا تو ادھر ایک شخص
جو ایک ہوٹل کا سیکیورٹی گارڈ تھا سے عربی میں پوچھا(اس سے پہلے ہمیں اپنی عربی
لینگوچ پر کافی فخر تھا)اس نے ایسا جواب تھا کہ دماغ ہی گھوم گیا- پھر اندر جا کر
ایک اور شخص سے پوچھا وہ باہر نکلا اپنی ملی جلی انگریزی اور عربی میں سمجھایا کچھ
سمجھ نہ آئی اس کا شکریہ ادا کیا اور روانہ ہوئے اور تھوڑا آگے گئے تو ہمیں اپنا
ہوٹل نظر آگیا -
عصر کی نماز کمرے میں ادا کی کافی تھکن محسوس ہو رہی تھی
تقریبا دو دن اور یک رات سے جاگ رہے تھے-لیکن پھر ہمت کی اور نماز مغرب کے لئے
روانہ ہوئے-مغرب اور عشاء کے درمیان دوسرے طواف کی کوشش کی لیکن ذیادہ راستے معلوم
نہیں تھے اور نیچے منزل میں کوئی پروگرام ہونے کی وجہ سے وہ کسی کو اندر جانے کے
لئے نہیں چھوڑ رہے تھے اس لیئے عشاء کی نماز پڑھ کر واپس ہوئے-
بس اگلے ایک ہفتہ یہی روٹین تھی ۔دن میں تین طواف کرنا اور
ہر نماز میں شمولیت حاصل کرنا ۔نیچے رش کی وجہ سے ہم طواف نہیں کرتے تھے ۔کیونکہ
ایک طواف نیچے کیا اس میں اتنے دھکے ملے کہ صحیح طریقہ سے عبادت پر فوکس نہ کر سکے ا س لیئے اوپر پل پر ہی طواف کو غنیمت جانا۔پاکستانی
زندگی تو ادھر یاد ہی نہیں رہتی تھی بس کھاؤ پیو عبادت کرو اور زندگی کے مزےاڑاؤ۔طواف
کے دوران بھائی کے پاؤں پر کسی نے اتنی زور کی وہیل چئیر چڑھا دی کہ اس کا پاؤں
کافی زخمی ہوا جس کی وجہ سے غار حرا اور غار ثور بھی نہ جا سکے حالانکہ ہم نے
پاکستان سے اس کی پلاننگ کی تھی۔درمیان میں خالہ کی طرف بھی چلے جاتے تھے ان کا
ہوٹل ہم سے ذرا دور واقع تھا ۔ان کی فیملی
ماشاءاللہ ہم سے ذیادہ ہمت والی تھی ۔کافی دور سے پیدل بھی چل کر آتے تھے ۔طواف
بھی ہم سے ذیادہ کرتے تھے۔موسم کافی خوشگوار تھا ۔طواف کے دوران اکثر یہ ہوتا تھا
کہ لوگ کلاک ٹاور کو نہایت عقیدت سے دیکھتے اور تصویریں لینے کا ایک سلسلہ شروع ہو
جاتا ۔اس سے اتنی کوفت ہوتی کہ ہم نے پورے میں شاید 4،5 تصویریں لی ۔تصویریں لینے
سے ہی نفرت ہوگئی اور کلاک ٹاور کی طرف تو
دیکھتے ہی نہیں تھے۔
ایک ہفتہ بعد مدینہ کی طرف روانگی تھی۔صبح صبح بس میں بیٹھے اور اس مقدس سرزمین کی طرف روانہ ہوئے جسے مدینہ منورہ کہا جاتا ہے۔جہاں رسول اللہ ؐ نے اپنے زندگی کے دس سال گزارے اور جہاں پہ وہ مدفون ہوئے۔جس کے بارے میں رسول ؐ نے فرمایا کہ یا اللہ مدینے کو ہمیں مکہ کی طرح یا اس سے بھی ذیادہ محبوب بنا دے۔(صحیح بخاری -1889)۔جس شہر سے اسلام کی کرنیں ساری دنیا میں پھیلیں۔جس کے
رہنے والے حضورؐ کے انصار کہلائے اور ایسا شہر جس کے بارے میں رسول اللہؐ نے فرمایا"مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقر ہیں نہ ا س میں
طاعون داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی دجال"(صحیح بخاری 7133)ایک ایسا شہر جسکے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اے
اللہ ! حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے خلیل اور پیغمبر تھے جن کی زبان پر تو نے مکہ کو بلد الحرم قرار دیا۔ اے اللہ ! میں تیرا بندہ اور پیغمبر
ہوں اور مدینہ کو
اس کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان تک حرام قرار دیتا ہوں۔(ابن ماجہ)
راستہ کافی طویل تھا ۔ساری راستہ یہی سوچتے رہے کی آرام دہ اے سی والی بس میں بیٹھ کر یہ سفر طویل لگ رہا ہے تو اس وقت کے حالات
میں حضورﷺ نے کیسی ہجرت کی ہو گی۔کن مشکلات سے گزرے ہوں گے ۔ان کالے کالے پہاڑوں سے گزرے ہوں گے۔صحابہ
کرام نے کتنی تکالیف برداشت کی ہوں گی ۔حضرت ام سلمہ کس طرح اپنے ننھے بیٹے کے ساتھ یہ سفر کیسےطے کیا ہو گا لیکن اللہ کی رضا کی
خاطر انھوں نے یہ تمام تکالیف برداشت کی ۔ہجرت کے تمام واقعات ایک ایک کر کے یاد آتے رہے ۔درمیاں میں ایک جگہ رکے کچھ
کھانے پینے کا سامان لیا اور
دوبارہ سفر روانہ ہوا۔
مدینہ میں داخل ہوئے تو زبان پر درود شریف اور تیز ہو گیا ۔اور جب مسجد نبوی کے ستون نظر آئے تو دل میں ایک عجیب خوشی محسوس
ہوئی ۔ہوٹل بہترین جگہ پر تھا اور ہمارے کمر ے کی کھڑکی سے سامنے مسجد نبوی ؐ کا خوبصورت منظر نظر آتاتھا۔ایسی اچھی جگہ ہوٹل ملنے
پر اللہ کا شکر ادا کیا۔خالہ کی فیملی بھی اسی دن مدینہ آئے لیکن ان کو کافی دور جگہ دی تھی لیکن بعد میں انہیں نے ہوٹل بدل دیا اور ہمارے
ہوٹل کے قریب ہی آگئے۔
ظھر کا وقت قریب تھا اس لئے وضو کر کے جلدی سے مسجد پہنچے۔ظھر کی نماز ادا کی۔اف کیا پرسکون شہر جو دل کو اطمینان اور سکون سے
بھر دے اور کیا ہی خوبصورت مسجد ۔باقی نمازوں کے ٹائم نوٹ کئے اور ہوٹل واپس آگئے۔عصر کی نماز کا وقت آیا۔فورا مسجد پہنچے ۔عصر
اور مغرب کے درمیان وقفہ ذیادہ تھا اس لئے دوبارہ ہوٹل آئے اپنے لئے چائے بنائی ۔بس کھڑکی سے مسلسل باہر دیکھتے رہے۔پھر
مغرب کی نماز کے لئے گئے اور عشاکی نماز پڑھ کے واپس آئے ۔موسم مکہ اور مدینہ دونوں میں کافی خوشگوار تھا۔رات کو ہوٹل والوں نے
کہا کہ کل زیارتوں پہ جائیں گے ہم نے
انکار کر دیا کہ ہم تھکے ہوئے ہیں اور سوچا کہ خود ہی گھوم پھر لیں گے مدینہ میں ۔
فجر اور عشاء کی نماز کے بعد عوتوں کی روضہ رسول ﷺمیں حاضری کے اوقات ہوتے ہیں ۔اس لئے اگلے دن ہم بھی اس سیکشن چلے
گئے جہاں سے روضہ رسول جانا تھا ۔کافی رش تھا۔پھر ایک گھنٹہ بعد اچانک ایسی بھگدڑ مچی کہ پہلے تو سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ۔پھر پتہ چلا کہ
راستہ کھول دیا ۔میں نے بہن سے کہا کہ جلدی کھڑی ہو جاؤ کوئی کچل نہ دے ۔پولیس والے بار بار کہ رہے تھے آہستہ آہستہ پر مجال ہے جو
کسی پر اثر ہوا ہو ۔روضہ رسولﷺ کے قریب ایسے دھکے تھے کہ وہاں جاکر درودر شریف پڑھنا ہی بھول گئے ۔آخر اتنی ہڑبونگ مچانے
کی ضرورت کیا ہے کیا یہ کام سب باوقار طریقہ سے نہیں کرسکتے تھے۔کوئی بالکل درمیاں میں نماز پڑھ رہا ہے اور لوگ اس پر گرتے
پڑتے گزر رہے ہین۔پتہ نہیں اس قسم کی نماز کی ان کو سمجھ آتی وہ گی ۔لوگون نے اتنے دھکے دیے کہ اگلے پانچ منٹ میں ہم ریا ض الجنہ
سے ہی باہر ہو گئے ۔ایسا شدید غصہ آیا کہ کسی کو نہ ہی صحیح دیکھنے کا موقع ملا اور نہ ہی صحیح نماز پڑھنے کا ۔واپس ہو ٹل آئے بھائی کو سارا قصہ
سنایا ۔ اس
نے کہا مردوں کی طرف تو بالکل اس طرح نہیں ہوتا ۔کچھ نہ کچھ ڈسپلن تو ہونا چاہیئے
تھا۔
ہمارے مدینہ میں بس پانچ ہی دن تھے ۔ ایک دن ہم خالہ لوگوں کے ساتھ گئے ان کے ہوٹل کھانا کھایا باتیں کی ۔ایک دن اپنی خالہ زاد
بہن کو زبردستی عصر کے بعد اپنے ہو ٹل لے آئے کہ آؤ مل کے چائے پی لیں گی ۔جب اس نے ہمارے ہو ٹل کو دیکھا تو کہا کہ کتنا اچھا
ہوٹل ہے ہمارا تو صحیح ہسپتال کا کمرہ ہے۔ ہمارا گیٹ مسجد نبوی کا سب سے آخری گیٹ تھا تو دل میں خواہش پیدا ہوئی کی یہ پو ری مسجد کیسی
دیکھی جائے گی ۔اور اگلے دن ہی یہ خواہش پوری ہوگئی ۔مسجد نبوی میں جو بھی خیال دل میں آتا تو وہ فورا ہی قبول ہو جاتی تھی ۔اگلے دن
مسجد قبا جانے کا ارادہ کیا ۔ظہر کی نماز کے بعد ہم قبا کے لئے نکلے۔ٹیکسی والے نے اچھا خاصا دھوکہ دیا ۔20 ریال کا کہ کے پھر زبردستی 30
ریال لئے۔
تاریخ
اسلام کی پہلی مسجد جس کی بنیاد حضورﷺ نے ہجرت کے دوران قبا کی وادی میں پہنچتے ہو
ئے اس کی بنیاد رکھی۔جس کے بارے میں قرآں میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا"جو مسجد اول روز سے
تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کیلئے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں عبادت کیلئے
کھڑے ہو، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی
اختیا رکرنے والے ہی پسند ہیں۔(التوبہ108)۔جس کے بارے میں رسول ﷺ کا ارشاد
ہے"جو شخص مسجد قبا میں دو رکعت نماز ادا کرے تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا۔"اور حضورﷺ کبھی سورا
کبھی پیدل ہر ہفتہ نماز پڑھنے مسجد قبا جاتے تھے۔" سادگی سے بھر پور مسجد تھی
ذیادہ رش نہیں تھا۔کچھ عورتیں ایسے عجیب طریقہ سے نماز پڑھ رہی تھی کہ سوچا یہ کیس
طریقہ کی نماز ہے۔تھوڑی دیر بعد ان کے آگے جو پتھر پڑا تھا تو ا س کو دیکھ کی سمجھ
آگئی کہ شیعہ ہیں ۔ خیر کچھ ٹائم وہاں گزارا اور پھر جس ٹیکسی میں واپس آئے تو
انہیں نے ہمیں گیٹ نمبر ایک پہ چھوڑا اور
اس کے بعد ہماری پوری مسجد نبویﷺ کو دیکھنے کی خواہش پوری ہوئی۔
جب ہماری خالہ سے بات ہوئی اور ہم نے ان کو بتایا کہ ہم مسجد قبا گئے تھے تو انہی نے کہا کہ تم لوگوں کہ خالو بھی گئے تھے انہوں نے
پولیس والوں سے راستہ پوچھا اور پیدل ہی روانہ ہوئے ۔پیچھے سے پولیس چیختی رہی دور دورمگر وہ پیدل ہی مسجد قبا پہنچے۔ہم نے دل میں
سوچا ماشاءاللہ کیا ہمت ہے۔ہم میں تو بالکل نہیں ہے۔رات کو خالو کہ رشتہ دار مدینہ میں رہتے تھے تو کھانا انہیں ہی کی طرف سے آیا
مزیدار اور کافی ذیادہ جو ہم نے
فریج میں رکھ کر اگلے دن بھی استعمال کیا ۔
پہلی اور آخری جمعہ کی نماز ہم نے پڑھی ۔چونکہ ہم پندرہ دنوں کے لئے آئے تھے اس لئے مدینہ میں ہمارے یہی پانچ دن تھے جبکہ خال
ہ لوگون نے ابھی رکنا تھا۔نمازکے لئے صحن میں ہی جگہ ملی ۔جب باہر نکلے تو جگہ جگہ لوگ جمع تھے ۔اکثریت پاکستانیوں کی تھی اور قحط زدہ
لوگوں کی طرح ہاتھ بڑھا بڑھا کر جو چیزیں وہاں تقسیم ہو رہی تھی اس پہ جھپٹے مار رہے تھے۔تھوڑی شرمندگی بھی ہوئی ایسا لگ رہا تھا کہ
پاکستان میں کچھ ملتا ہی نہیں ہے۔مدینہ سے کھجوروں کی خریداری بھی کی ۔کچھ اور چیزیں بھی خریدیں کیونکہ مکہ میں بالکل ادھر ادھر
گھومنے کا ٹائم نہیں ہوتا تھا۔ایک دوکان میں گئے تو اکثر چیزیں انڈیا کی پڑی تھی۔پوچھا کہ کسی اور ملک کی چیزیں نہیں ۔تو اس نے اپنی ٹوٹی
پھوٹی اردو میں جواب دیا انڈیا بہت اچھی چیز ۔ میں نے کہا ہم پاکستانی انڈیا کی چیزیں نہیں خریدتے تو کہنے لگا انڈیا زندہ باد ۔میں نے کیا جب
فوج کی
ضرورت ہو تو وہ بھی انڈیا سے بلانا پھر پاکستان کی منتیں نہ کرنا تو اچانک کہنے
لگا نہیں پاکستان زندہ باد۔
اگلے دن ظھر کی نماز پڑھ کے آئے تو بس کھڑی تھی ۔سامان رکھا اور رسول اللہ ﷺ کے شہر کو الوداع کہاور اللہ سے یہ دعا کی کہ جتنا جلد
ممکن ہو تو ہمیں بار بار اس شہر بلانا۔مسجد ذوالحلیفہ پہنچ کر دوبارہ احرام کی نیت کی ۔اب واپس اللہ کے گھر کی طرف عازم سفر ہوئے ۔دن ہی
اتنے کم تھے کہ سوائے مسجد قبا کہ اور کہیں نہیں گئے ۔دل کو تسلی دی کی انشاءاللہ بہت جلد واپس آئیں گے۔بس کا اے سی خراب تھا اور
بے انتہا حبس ۔جب بس قیام و طعام پہ رکے توآہ ہ ہ باہر کا موسم اندر سے بہتر تھا۔۔بس صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ریت کے طوفان
کے اثرات تھے سڑک پر حد نگاہ کافی کم تھی مگر ڈرائیور اسی تیز رفتار انداز میں بس چلانے میں مگن تھے۔رات نو بجے کے قریب مکہ ہوٹل
پہنچے ۔کھانا کھایا اور عمرہ ادا کرنے نکل
پڑے ۔کاگی رش تھا اور سفر کی تھکاوٹ الگ لیکن رات 12 تک عمرہ بخیر و خوبی ادا ہو
گیا۔
اگلے دن طوفان نے شدت اختیا ر کی۔حرم سے باہر نکلتے تو ایسا لگتا کہ ہوا لے اڑے گی۔میں نے سوچا کہ ایسی شدت کا طوفان پاکستان میں
آتا تو مسجد کے صحن میں جتنے پنکھے لگیں ہیں سب اڑ جاتے ۔وہاںکے لوگوں پر طوفان کا کوئی اثر نہیں تھا لیکن باقی لوگ ادھر ادھر گر رہے
تھے ۔خدا خدا کرکے جب شدت کم ہوئی تو بھاگ کہ ہوٹل گئے۔خبریں سنی تو پتہ چلا کی جدہ ائیرپورٹ پر پروازیں معطل ہوگئی۔ہم نے
سوچا شاہین ائیر لائن کا کیا ہو گا وہ اگر ہوا کی شدت کم ہوئی اور پروازیں شروع ہوئی تو اس کے جھٹکوں کا کیا کریں گے ۔بس سارا دن اور
ساری رات دعائیں کی کہ یا اللہ خیر خیریت سے واپس پہنچا دے۔اگلے دن صبح اٹھ کہ جلدی سے حرم گئے نماز ادا کی طواف کیا آج واپسی کا
دن تھا اپنی آنکھوں میں مسجد الحرام کو اچھی طرح سمیٹ لیا ، ہوٹل گئے پیکنگ کی ہوئی تھی بس بسوں کا انتظار تھا ۔ظہر کے بعد بسیں آئی
اور ہم بلد الامین کو چھوڑ کے جدہ کی طرف رواں دواں ہوئے ۔فلائٹ تھوڑی لیٹ دی ۔بس میں موجود خواتین کافی پریشان تھی فون پ
ہ فون بج رہے تھے کہ جو دعوت لوگوں کے لئے رکھی ہے اب اس کا کیا ہو گا۔کس ٹائم لوگوں کو بلائیں (ویسے اس دعوت کی سمجھ نہیں آئی
۔عمرہ کر لیا ٹھیک ہے اب لوگوں کو دعوت پر بلانے کی کیا ضرورت ہے) بس ہم تینوں کو کوئی ٹینشن نہیں تھی۔ابھی بھی ہوائیں چل رہی
تھی ۔رات کے تقریبا 4 بجے ائیرپورٹ سے اڑان بھری اور ہم نے اللہ سے یہی دعا کی کہ یا اللہ ہم سب کو دوبارہ بہت جلد اپنے گھر کی
زیارت کے لئے بلا لے اور اللہ
نے ہماری یہ دعا تین سا ل بعد قبول کر لی۔

جزاک اللّہ خیر
ReplyDeleteو ایاکم
Delete