سفرنامہ حج(حصہ اول)
مارچ 2018 میں حج کے داخلے کا اعلان ہوا ۔اچانک ایک دن سارہ باجی آکے کہتی ہیں کہ کیوں نہ ہم تینوں حج کا داخلہ کر لیں۔ہم نے تھوڑ ابہت احتجاج بھی کیا کہ تین لوگوں کا جانا ذرا مشکل ہے لیکن اس نے سنی ان سنی کردی اور کہا کہ تم اور اسامہ ساتھ جاؤ گے میں نے کہا کہ نہیں تم اور اسامہ ساتھ چلے جاؤ میں اور امیمہ اگلی دفعہ چلے جائیں گے لیکن وہ نہ مانی۔فورا بنک سے فارم لے لئے گئے ۔جب فارم داخل کرنے گئے تو بہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ اتنی جلدی حج کرے کی کیا ضرورت ہے ۔بڑھاپے میں کر لینا ۔حیرت ہوئی کہ ہمارے ہاں یہ تصور کیوں ہے کہ حج بڑھاپے میں کیا جائے۔خیر فارم داخل ہوئے اور قرعہ اندازی کا انتظار تھا ۔تقریبا ایک مہینے بعد قرعہ اندازی ہوئی تو اس میں ہمارا نام نہیں نکلا ۔کافی اداس بھی ہوئے لیکن اللہ کی مرضی کو یہی سمجھا ۔
اب اگلے سال کا انتظار تھا ۔دوبارہ حج کے اعلان کے ساتھ ہی فارم جمع ہوئے ۔پھر یہی سنا کہ اتنی جلدی حج کے لیے کیوں جارہے ہو۔اس دفعہ بھی قرعہ اندازی میں نام نہیں آیا۔اب تو پکا یقین ہو گیا کہ جان بوجھ کر ہم لوگوں کا نام نہیں نکالتے کہ حج کرنا بوڑھوں کا کام ہے۔اس دفعہ ہم لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ پرائیوٹ طور پر چلے جائیں ۔کچھ لوگوں سے اچھے ٹریول ایجنٹ کا پوچھا اور ان کے آفس پہنچ کر تمام معاملات طے کئے۔ایک دو لوگوں نے یہ بھی کہا کہ جب اللہ بلانا نہیں چاہتا تو تم لو گ کیوں زبردستی جا رہے ہو(اس کہ بعد تو ذہن میں یہ شک پڑ گیا کہ ایسا نہ ہو جہاز ہی نہ گر جائے).اب ٹریول ایجنٹ کے پیچھے پڑنا کہ ہمارا کام ہو جائے گا یا نہیں تو اس نے یقین دہانی کروائی کہ کام ہو جائے گا آپ بےفکر رہیں۔پھر ایک دن ٹریول ایجنٹ نے کال کر کے کہا کہ آپ کی فلائیٹ اس دن پہ ہے بس آپ تیاری پکڑیں ۔میری یو نیورسٹی سے چھٹیاں نہیں تھیں ۔سارا باجی کا کام کافی ذیادہ تھا اور ہم نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔
5 جولائی کو آخر کار میری چھٹیاں ہو گئیں۔یونیورسٹی میں چند سسہیلیوں کے علاوہ کسی کو آگاہ نہیں کیا تھا کیونکہ یونیورسٹی والے الگ مسئلہ بناتے تھے ۔اب یہ سوچا کہ ایک دو دن آرام کرکے حج کی تیاری شروع کریں گے لیکن یہ کیا اگلے دن ہی مجھے اور امیمہ کو کانپیڑ ( mumps ) ہو گئے ۔اف صرف دس دن ہے اور یہ کیا بیماری لگ گئی ۔اب تو کام اور مشکل ہو گیا ۔امی کی کمر میں شدید درد تھا ۔ٹریول ایجنٹ الگ پاسپورٹ نہیں دے رہا تھا ۔اب تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہمارے ساتھ کوئی دھوکہ ہوا ہے۔صرف پانچ دن ہے فلائٹ کو آخر کیا وجہ ہے کہ پاسپورٹ اور دیگر چیزیں حوالہ نہیں کر رہے۔اللہ اللہ کر کے ایجنٹ کا فون آگیا کہ آکر اپنی چیزیں لے لیں۔
اب جب آفس گئے ۔جو چیزیں ہمیں دی گئی اس پہ ایک الگ ٹریول ایجنسی کا نام لکھا تھا۔پوچھنے پہ بتایا کہ جی ہمارے پاس سیٹیں کم تھیں تو ہم نے آپ کا کام دوسری ایجنسی کو دے دیا ۔اس پر شدید غصہ آیا ۔اب ہمیں کیا پتہ کہ یہ ٹریول ایجنسی کیسی ہو گی۔لیکن انہیوں نے کافی تسلیاں دی ۔اب جو سامان دیا گیا اس میں تین بکس،پانی کی بوتلیں اور باقی سامان بھی تھا (خیر ان میں سے کوئی چیز اپنے ساتھ لے کے نہیں گئے ایک کوالٹی اور اوپر سے ان کا سائز بھی کافی چھوٹا تھا)۔اور جب ٹکٹ کو دیکھا تو فلائٹ بھی ایک دن پہلے کی تھی ۔چار سے تین دن ہو گئے ۔بس اس کے بعد جو دوڑیں لگی-فورا صدر گئے جتنی ضرورت کا سامان تھا سب خرید کے لے آئے ۔اگلے دن پیکنگ سٹارٹ ہوئی۔اوپر سے بیماری نے کافی صحت خراب کی تھی۔لیکن اللہ کا شکر ہے جانے تک کافی حد تک اچھے ہو گئے تھے۔
فلائٹ اسلام آباد سے تھی۔ہمیں کہا گہا تھا کا امیگریشن کا کام یہی سے ہو گا اس لئے چھ سات گھنٹہ پہلے پہنچ جائیں ہم پانچ بجے پشاور سے نکلے۔7:30 ہم ائیر پورٹ پر تھے۔لیکن یہ کیا جب وہاں پہنچے تو انہیں نے کہا امیگریشن صرف سعودی ائیرلائن سے جو جارہے ہیں ان کی ہورہی ہے ۔باقی لوگوں کی وہاں سے ہو گی۔ہم ائیر بلیو سے جارہے تھے۔(جب سے پتہ چلا تھا کہ ائیر بلیو سے جانا ہے تو آنٹی کی وہ بات کہ جب اللہ نہیں بلا رہا تو زبردستی کیوں جارہے ہو یاد آجاتی اور پھر یہ سوچ کہ ان کے جہاز تو پہلے بھی گرے تھے ہائے اللہ اس دفعہ بھی نہ گر جائے وغیرہ خیالات آتے)اب کیا تھا یہاں پہ بھی بیٹھ کر گھنٹوں انتظار کرنا اور وہاں بھی لیکن مجبوری تھی کیا کرتے۔چائے اورکیک لیا وہ کھایا۔پھر لاؤنج تک پہنچتے پہنچتے جتنے لوگ ملتے سب نے دعاؤں کی درخواست کی ۔کچھ لوگوں نے کال کی ان سے باتیں کی۔پھر ائیر لائن والوں کی طرف سے ہمیں کھانا دیا گیا ۔ایک اچھا خاصا بیگ دیا گیا جس میں پانی کی بوتل ،کنکریاں جمع کرنے کے لئے ایک تھیلا ، اور باقی ضرورت کی چیزیں موجود تھی ۔ اگلے چالیس دن ہمارے کافی کام آیا ۔بیچاروں نے اچھا خاصا ہمارا خیال رکھا۔
بائیس جولائی رات ڈھائی بجے فلائٹ نے اپنے وقت پر ٹیک آف کیا ۔سیٹیں تنگ اور شور کافی ذیادہ تھا ۔میں نے بھائی سے کہا صحیح کارخانو والی بس ہے اس میں کیا نیند آئےگی۔بعد میں اس شور پر کسی نے ائیر ہوسٹس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ جب مکمل بلندی پر چلا جائے گا تو شور ختم ہو جائے گا۔شور تو ختم ہو گیا لیکن نیند کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔میقات سے اوپر گزرنے سے پہلے اعلان ہوا کی پانچ منٹ میں ہم میقات سے گزریں گے ۔عمرہ کی نیت کی گئی ۔اور صبح پانچ بجے کے قریب ائیر پورٹ پر اترے ۔اترتے ہی پہلے اچھوتوں کی طرح ایک ایک گولی کھانے کو دی گئی ۔پھر پولیو کے قطرے دیے گئےجس کو ہم نے باہر نکل کر پھینک دیا ۔اس کے بعد امیگریشن کی قطار کا سوچا تو دل بیٹھنے لگا ۔لیکن یہ کیا اتنے ذیادہ کاؤنٹرز نہ کوئی رش نہ کوئی قطار بس بے انتہا خوشی ہوئی ۔دس منٹ میں وہاں سے فارغ ہوئے اور باہر نکلے۔اپنی اپنی مطلوبہ بسوں میں سوار ہوئے ۔بیٹھتے ہی پاسپورٹ ضبط کر لئے گئے اور ایک ڈبہ دے دیا گیا جس پر خوش آمدید اللہ کے مہمان لکھا ہوا تھا ۔یہ پڑھ کر ایک عجیب سا احساس ہوا مہمان بھی کس کے وہ بھی اللہ کے۔اس میں بسکٹ کیک کھجور جوس پانی وغیرہ تھا ۔
اس کے بعد چوکی پہ رکے تو زمز م کی پانی کی بوتلیں دی گئی ۔اس کے بعد اگلا پڑاؤ ہوٹل تھا ۔سڑک سے مسجد الحرام کے مینار نظر آرہے تھے ۔دل کو تسلی ہوئی کہ چلو ہوٹل نزدیک ہے ۔قریب میں جنت المعلی کا قبرستان تھا ۔ہوٹل سے اترے کافی ٹائم بعد کمرے کی چابی دی گئی جو چوتھی منزل پہ واقع تھی ۔کمرہ اچھا خاصابڑا تھا لیکن ہوٹل کافی پرانا تھا ۔پاکستان سے دعائیں کی تھی کہ یا اللہ روم میٹ اچھے ملے تاکہ چالیس دن سکون کے ساتھ گزرے۔اتنے میں ایک آنٹی آئی ان کا تعلق نوشہرہ سے تھا ۔پھر دوسری آئی ان کا تعلق سوات سے تھا۔
دوپہر کا وقت تھا ۔ہوٹل والوں نے کہا کہ کھانا کمرے میں پہنچاتے ہیں ۔اتنے میں بھائی نے بلایا ۔جب باہر گئی تو بھائی نے کہا یہاں جو دو لوگ ہیں انہوں نے مجھ سے معلومات لی اور اب ایک دوسرے سے کہہ رہے ہیں کی ہماری عورتیں اس کی بہنوں کے ساتھ چلی جائیں گی اور ہم الگ۔ایک جھٹکا لگا ۔میں نے بھائی سے کہا کہ وہ دونوں بوڑھی عورتیں ہیں اوپر سے ہمیں ان کی شکلیں بھی صحیح یاد نہیں ہوئی ابھی ۔پڑھی لکھی بھی نہیں ہے ہجوم میں جا کے گم ہو گئی تو کیا ہو گا اس کی ذمہ داری کون لے گا۔بھائی نے کہا خاموشی سے تیار ہو جاؤ اور عمرے کے لئے جاتے ہیں۔اب جیسے ہی ہم باہر نکلے پیچھے سے انکل صاحبان کی آوازیں آنا شروع ہو گئی کہاں جارہے ہو ۔ہمارے گھر والیوں کو بھی لے جاؤ ۔پر ہم نے کہا کہ اس طرح زرا ہمارے لئے مشکل ہو گا ۔ہوٹل والوں نے بھی کھانے کے لئے روکنے کی کوشش کی لیکن ہم نہیں رکے ۔راستے میں ایک دکان سے چائی لی کچھ میٹھا ساتھ لیا اور کھایا ۔باہر شدید گرمی تھی۔
اب مسجد کے مینار تو نزدیک نظر آرہے تھے لیکن یہ کیا درمیان میں اتنا بڑا بازار تھا اس سے گزر کر جانا تھا۔ہمیں جو کہا گیا تھا کہ 15 منٹ کاراستہ ہو گا وہ پچیس منٹ کا تھا اور جب تھکے ہوتے تھے تو تیس منٹ کا ہوجاتا تھا۔(پتہ نہیں پاکستانی کب جھوٹ بولنا بند کریں گے) اس دفعہ باب صفا و مروہ سے ہمارا داخلہ تھا۔اس سائڈ پہ مسجد کافی ایکسٹینڈ کی ہوئی تھی۔وہاں سے ہم نشانات کو دیکھتے دیکھتے مطاف کی جگہ پہنچے اور کوشش کی کہ نیچے منزل میں طواف کریں ۔الحمد للہ کہ اللہ نے تین سال بعد ہمیں دوبارہ اپنے گھر کی زیارت کے لئے بلایا ۔وہ جو کعبہ کے اردگرد پل کی وجہ سے صحیح دیکھنےکا موقع نہیں ملا تھا اس کی آرزو بھی آج پوری ہوگئی ۔اللہ کا گھر پورے آب و تاب کے ساتھ سامنے موجود تھا ۔آہ وہ کیفیت یہاں نہیں بیان کی جا سکتی ۔رش کافی کم تھا شاید دوپہر کا وقت تھا ۔اس لئے فورا حجر اسود سے اپنا طواف شروع کیا ۔7 چکر لگانے کے بعد دو رکعت عین مقام ابراہیم کے پاس پڑھے لیکن صحن کے وسط میں نہیں تھوڑا دور تاکہ طواف کرنے والوں کے راستے میں نہ آئیں ۔اس کے بعد آب زمز زم پیا اور سعی کرنے چلے گئے ۔صفا سے شروع ہوا اور مروہ پہ ختم ہو ا۔یہ سات چکر دوبارہ حضرت ہاجرہ کی یاد دلاتی رہی ۔کافی دعائیں کی ۔بہت سے لوگوں نے کہا تھا کہ ان کے کام رکے ہوئے ہیں ان کے لئے خصوصی دعاکی۔سات چکر میں بالکل انرجی لیول ڈاؑؤن تھا ۔ایک سفر کی تھکان اوپر سے صحیح سےکچھ کھایا نہیں تھا ۔خیر اللہ کے فضل سے ہمارا عمرہ اختتام پذیر ہوا ۔عصر کا وقت قریب تھا اسی لئے نماز پڑھی اور باہر نکلے۔ہوٹل کا سوچ کر تھوڑآ دل بیٹھ گیا۔مکہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور ہمارا ہوٹل کافی اونچائی پر تھا ۔اوپر سے تھکان اور بھوک سے برا حال ۔جوس لیا اور باہرسائے پر ایک بنچ پہ بیٹھ گئے ۔بھائی بال کٹوانے چلا گیا اور ہم بنچ پہ بیٹھ کر آرام کرنے لگے.واپس ہوٹل آئے تھکاوٹ سے برا حال تھا مگر ارادہ یہی کیا تھا چائے وغیرہ پی کے دوبارہ حرم جائیں گے۔مغرب کی نماز کے لئے گئے۔طواف کا ارادہ بھی کیا لیکن پہلا دن تھا گراونڈ فلور کے بجائے تیسری چھت پہ پہنچے ۔اب اتنے بڑے طواف کی ہمت نہیں تھی پوری چھت میں ایک دو لوگ ہی طواف کر رہے تھے ۔بس ہم وہیں بیٹھ کہ خانہ کعبہ کو دیکھنے لگے۔عشاء کی نماز پڑھی ۔راستے میں جوس لیا ۔ جو جوس اور آئس کریم مکہ میں اچھی لگتی ہے اس کا مزا کہیں اور نہیں ملتا۔
واپس آکے کھانا کھایا کل کی پلاننگ کی اور جلدی سے سو گئے تھکاوٹ سے بے حال لیکن یہ کیا ابھی ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ آنٹی اندرآئی ۔زوردار آواز سے دروازہ کھولا گیا لائٹ لگائی اور زور زور سے بولنے لگی کہ یہاں لوگ عبادت کے لئے آتے ہیں سونے کے لئے نہیں ۔اور تم لوگ لڑکیاں ہو کے بستر پہ سو رہی ہو۔اس کے بعد اپنا تکیہ اٹھایا زمیں پہ پٹخا اور کہاں یہاں لوگ نیچے سوتے ہیں اور لا ئٹ کھلی چھوڑ کہ آنٹی صاحبہ سو گئی ۔اب جو شدید غصہ آیا میں اٹھی اور لا ئٹ بند کی اور ان سے کہا کہ جب آرام نہیں کریں گے تو عبادت کیسے ہو گی آخردو دن اور دو راتیں ہو گئی جاگتے جاگتے آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
صبح فجر کے وقت اٹھے تو آنٹی جا چکی تھی ۔اب ہم نے یہ سوچا اگلے چالیس دن ان کے ساتھ گزارا کافی مشکل ہو جائے گا۔فجر کی نماز حرم میں ادا کی پھر طواف شروع کیا۔عموما اوپر چھتوں میں طواف کرنے میں چالیس پینتالیس منٹ لگتے تھے۔ اب جو طواف کے دو چکر لگائے تو تیسرے چکر میں آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا ۔شوگر لیول بری طرح نیچے جانے لگا شاید تھکاوٹ بھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی۔اب ایک ایک چکر میں رفتار اور بھی آہستہ ہونےلگی ۔یا اللہ اب ان سات چکروں کو پورا کر دے ۔بڑی مشکل سے طواف کیا دو رکعت پڑھے مشکل سے ہو ٹل پہنچے ۔سب سے پہلے بھائی سے کہا کہ ناشتہ لے آئے ناشتہ کا انتظام تیسری منزل پہ تھا ۔بھائی ناشتہ لایا ۔اور اس کے بعد تھوڑی آنکھیں کھلی ۔سوات والی آنٹی کافی نرم مزاج اور اچھی تھی ۔جب کہ دوسری آنٹی نے اپنے پہلے سفر حج کے واقعات سنائے ۔ہم ایسے پیدل چلتے تھے ۔بسوں اور ٹیکسیوں میں سفر نہیں کرتے تھے ذیادہ سوتےنہیں تھے۔پھر کہا سمجھ آئی لڑکیوں میں نے کہا ہاں آگئی اچھی طرح ۔اس کے بعد ہم نے سوچا تھوڑا آرام کر لیں ابھی ظہر کی نماز میں کافی وقت ہے تو اس دفعہ بھی آنٹی نے دوبارہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہاں انسان سونے کے لئے نہیں عبادت کے لئے آتا ہے۔ہم نے بھی جی ہاں کہ کے خاموشی اختیار کی۔اس کے بعد آنٹی برقعہ پہن کے حرم جانے لگی۔ابھی ان کو نکلے ہوئے بمشکل پانچ منٹ ہوئے تھے کہ واپس آگئی اور وائی وائی بھی کر رہی تھی۔ہم نے کہا کیا ہوا۔کہنے لگی جیسے ہی میں نیچے گئی تو سر چکرایا اور دھڑام سے نیچے گر گئی اور سر زور سے فرش پہ ٹکرایا ۔ان کے شوہر کافی پریشان تھے ہم نے انہیں کہا کچھ نہیں ہوا آرام کریں گی تو ٹھیک ہو جائے گی(پھر پتہ چلا دوسری بیوی ہے اس لئے اتنے بے چین تھے)۔ ہم نے آنٹی کو سمجھایا کہ انسان کو آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور اس طرح پھر اچھی عبادت بھی کر سکتا ہے اس کے بعد آنہوں نے ہماری اس نصیحت کو پلو باندھ لیا اور ہم سے بھی ذیادہ آرام اور نیند کرنے لگی۔
جیسے جیسے حج کے دن قریب آتے گئے مکہ میں رش بڑھنے لگا ۔ہم نے اپنا روٹین اس طرح سیٹ کی تھی کہ صبح کی نماز ہم ہو ٹل میں پڑھتے پھر دس بجے کے قریب ہم حرم چلے جاتے ۔طواف کرتے ظھر کی نماز پڑھتے ۔واپس ہوٹل آتے ۔پھر عصر مغرب عشاءکی نماز حرم میں ادا کرتے تھے اور ایک طواف بھی کرتے ۔عشاء کی نماز پڑھ کے واپس آجاتے۔راستے میں آئس کریم اور جوس پینے کا اپنا ہی مزہ ہوتا تھا۔کمرہ میں آکر کھانا کھاتے آنٹیوں کے ساتھ گپ شپ لگاتے ۔تھوڑی بہت نوک جھونک بھی ہوجاتی ۔کبھی کبھار جب ہمارا صبح صبح ناشتہ کرنے کا ارادہ نہ ہوتا تو ہم نماز کے بعد سو جاتے تھے تو آنٹیاں ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ جاتی اٹھو لڑکیوں ناشتہ کرو ناشتہ کرو پھر ختم ہو جائے گا ۔میں نے کہا آنٹی ختم ہو جائے اگر ناشتہ نہ بھی کریں تو کچھ نہیں ہوتا ۔لیکن مجموعی طور پر وقت اچھا گزر رہا تھا۔کبھی ایک کا شوگر زیادہ ہوتا اور کبھی دوسری آنٹی کا بلڈ پریشر ۔پھر ہم اس پر بھی اللہ کا بے تحاشا شکر ادا کرتے کہ ہم اپنی عمر کہ اس دور میں ہیں جہاں یہ بیماریاں ہماری ساتھ ابھی نہیں چپکی۔پھر شوگر ہونے کے باوجود آنٹی صبح ناشتہ میں اچھی طرح حلوہ بھی کھاتی اور ہمیں بھی بے حد تلقین کرتی کہ ضرور کھایا کرو ۔ایک دو دفعہ سمجھایا بھی کہ آپ کے لئے حلوہ اچھا نہیں ہے لیکن وہ نہیں مانتی اور اس کا اثر یہ ہوا کہ آنٹی کے پاؤں میں ایک بہت بڑا پھوڑا نکل آیا ۔اب چلنے پھرنے میں دشورای ہو گئی ۔جب مرکز صحت گئی انہوں نے شوگر کا پوچھا تو صاف انکار کردیا کہ میرا شوگر نہیں ہے۔میں نے ان سے کہا کہ جب آپ اس طرح کریں گی تو علاج کیسے ہوگا کہتی ہے ہ قینچی لو اور اس کو پھوڑ دو میں نے انکار کر دیا ۔پھر سارہ باجی کو کہا اس نے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ اس سے کچھ اور بن جائے گا حج قریب آنے والا ہے اس طرح مت کریں ۔لیکن جیسے ہی رات کو سب سوئے انہوں نے یہ کارنامہ خود انجام دیا اور صبح فخریہ ہمیں سنایا کہ تم سب ڈاکٹروں سے میں اچھی ہو اپنا علاج کر سکتی ہوں ۔
ایک دن نیچے طواف کی کوشش کی تو جیسے ہی حجر اسود کی طرف آتے تو اس جگہ اتنی بھیڑ جمع ہو جاتی کی سانس لینا مشکل ہوتا ۔لوگ بس اللہ اکبر کہتے اور ہاتھ چومتے ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا ۔جب تک بیس دفعہ اس طرح نہ کرتے تھے ۔اس کی وجہ سے پیچھے جو رش جمع ہوتا اور جو دھکے پڑتے اس کا جواب نہیں۔یہ بات ہر حاجی کو سمجھانا چاہئے کہ ان کے اس طرح کے کاموں سے کتنے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ نیچے طواف نہیں کرتے۔ایک دن بھائی کہا کہ اوپر چھت پہ رش نہیں ہوتا اور طواف بھی چھوٹا ہوتا تو اس کے بعد اکثر رات کے وقت ہم اوپر طواف کرتے اور دن کے وقت دوسری چھت پر کرتے تھے ۔کبھی کبھار کوئی پاکستانی مل جاتا تو اس سے بات چیت ہو جاتی ۔سب کو اس بات پر حیرت ہوتی تھی کہ ہم بہن بھائی اکیلے ماں باپ کے بغیر حج پر آئے ہیں۔
حج کے دن قریب آتے ہی دعائیں شدت اختیار کرنے لگی ۔اے اللہ تو ہمارے لئے حج کو آسان کردے حج مبرور کردے ۔صحت بہترین رکھے تاکہ حج کا ایک ایک منسک اچھے طریقے سے ادا کر سکے ۔رش ذیادہ نظر نہ آئے ۔کوئی حادثہ نہ ہو وغیرہ وغیرہ ۔سعودی حکومت کی طرف سے بھی احتیاط کرنے کے میسیجز آتے اور جب اس میں اللہ کا مہمان لکھا ہوتا تو بہت ہی اچھا لگتا ۔کبھی کبھار کوئی آنٹی آکے کہتی کہ حج کے پانچ دن لوگ کھڑ ے ہو کر گزارتے ہیں ہم نے کہا نہیں اس طرح تو نہیں ہوتا ۔پھر ہمارے ہوٹل میں یہ باتیں گردش کرنے لگی کہ کہ منٰی کے ٹینٹ میں بالکل جگہ نہیں ہوگی بس تین چار دن بیٹھ بیٹھ کے گزارنے ہوں گے ۔پہلے تو ذرا حیرت ہوئی کہ ایسا کیسے ممکن ہو گا پھر یہ خیال جھٹک دیا کہ جنہوں نے حج کیا تھا ان سب سے پوچھا ہے تو سب نے کہا پورا چھا انتظام ہوتا ہے۔ ایک نے تو یہ بھی کہ دیا کہ منٰی جب جاؤ تو اپنے ساتھ کچھ مت لے کے جانا وہاں تو رزق کہ ایسی فراوانی ہوتی ہے جیسے من و سلوی برستے ہو۔بس ہم اسی خوش خیالوں میں مصروف تھے ۔ایک ایک چھوٹا بیگ ہم سب نے لیا اس میں ضروری سامان رکھا ۔اور ہماری تیاری مکمل ہوگئی ۔سوات کی آنٹی بار بار یہ کہتی تھی کہ شکر ہے کہ تم لوگوں کو پشتو آتی ہے ورنہ دیار غیر میں تو میں خاموش رہ کہ مرجاتی۔پھر آنٹی نے کہا کہ حج میں ہمارے ساتھ ایک ساتھ ہی رہنا الگ الگ نہ رہنا ۔جہاں بھی جائیں گے ایک ساتھ ہی جائیں گے ۔میں نے کہا ہاں بے فکر رہیں ایک ساتھ ہی رہیں گے۔اور پھر اس کے بعد دوسری آنٹی کی اپنی قصہ کہانیاں شروع ہوگئی ۔ہم ایسے پیدل پھرے تھے ایک دوسرے کی ایسی خدمت کی تھی ۔ایک دوسرے کے ایسے پیر دباتے تھے ۔ہم نے بھی ہاں ہاں کی اور دل میں کہا آنٹی سوری پیر ہم نہیں دبا سکتے ۔ہمارے اپنے پیر اتنے دھکتے ہیں دن میں تقریبا ہر روز پانچ ساڑھے پانچ گھنٹے پھرتے ہیں۔
سات ذی الحجہ کو ہمیں کہا گیا کہ آج رات دو بجے تیار رہیں منٰی کے لئے نکلیں گے۔اس دن ہم نے جمعہ کی نما ز حرم میں پڑھی اور پھر دوبارہ حرم نہیں گئے ۔بھائی اس دن عصر کے وقت بھی حرم گئے جلدی سے طواف کیا ۔واپس آیا تو اس نے کہا پورا حرم خالی تھا ۔اتنا مزہ آیا ۔تھوڑا افسوس بھی ہوا کہ ہم کیوں نہیں گئے۔ساری تیاری مکمل تھی ۔ایک بہت بڑا فریضہ اداد ہونے جا رہا تھا ۔کبھی نہیں سوچا تھا کہ اللہ اپنا فضل ہم پر کرے گا ۔رات جلدی سو گئے ۔ایک بجے اٹھے ۔اب دو بجے تک برقعہ پہن کے انتظار کرنے لگے کہ کب بلائیں اور کب ہم حج کا تلبیہ پڑھیں۔کھڑکی سے باہر کا منظر نظر آرہا تھا ۔لگ نہیں رہا تھا کہ رات کہ دو بجے ہیں ۔اللہ نے کیسے اس آب و گیاہ صحرا کو رونق بخشی ۔بسوں کی نہ ختم ہونے والی قطاریں۔سفید احرام میں پیدل چلتے ہوئےبے تحاشا لوگ ایک ہی قسم کا لباس اور ایک ہی منزل عجیب خوبصورت منظر تھا ۔
انتظا ر کرتے کرتے چار بچ گیے ۔جب پوچھنے نیچے گئے تو ان سے کہا گیا کہ آپ لوگ کمروں میں رہیں جب بسیں آجائیں گی تو ہم آپ لوگوں کو بلا لیں گے ۔ہم بھی آرام سے سو گئے ۔اس کے بعد اٹھے فجر کی نماز پڑھی انتظار طویل ہونے لگا تو دوبارہ نیچے پوچھنے کے لئے گئے۔تو کہنے لگےکہ سب لوگ چلے گئے ہیں اور ہم آپکو بلانا بھول گئے تھے ۔حیرت کا پہلا جھٹکا لگا ۔اب کیا کریں گے ۔بس ہم چار مرد اور چار عورتیں ہی رہ گئے تھے۔ٹریول ایجنٹ سے رابطہ کیا اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں آپ لوگ ٹیکسی میں اس سٹاپ تک آجائیں یہاں سے میں آپ کو لے لوں گا ۔بس جلدی جلدی دو رکعت نماز ادا کی تلبیہ پڑھا اور ٹیکسی میں بیٹھ کے منٰی کی طرف روانہ ہوئے۔
منٰی جس کو خیموں کا شہر بھی کہتے ہیں مکہ مکرمہ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پہ ہے ۔حجاج یہاں آٹھ ذی الحج اور دس سے تیرہ ذی الحج تک قیام کرتے ہیں ۔دل عجیب احساسات سے لبریز تھا ۔اگلے پانچ دن خیموں میں گزارنے ہوں گے۔مختلف عبادات کرنے ہوں گے ایک نیا تجربہ ہوگا ۔اور اس بات پر اللہ کا شکر ہے کہ اس نے بڑھاپا آنے سے پہلے اور بہترین صحت کے ساتھ یہ توفیق دی۔اللہ سے بہترین صحت اور بہتریں طریقہ سے حج کرنے کی توفیق کی جو دعائیں مانگی تھی الحمد للہ پو ری ہوئی۔پورا مکہ شہر سفید کپڑوں میں ملبوس تھا ۔ہفتہ کا دن 9 اگست کی تاریخ تھی۔لوگ ابھی بھی جوق در جوق منٰی کی طرف روانہ تھے۔سب ایک ہی سفید لباس میں ملبوس نہ امیر کا پتہ چل رہا تھا نہ غریب کا۔پھر حضورﷺ کا حج مبارک آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا ۔کیسے اونٹوں پر سب رواں دواں ہوگے انہی راستوں سے گزرے ہوں گے۔اس کے بعد قدرت اللہ شہاب کا سفرنامہ یاد آیا کیسے طویل سفر کر کے پہنچے تھے۔اب تو یہاں بے شمار سہولیات موجود ہیں اور بہترین انتظامات کئے ہوں ہیں۔
ایک خاص جگہ تک پہنچ کر ٹیکسیوں کا آگے جانا ممنوع تھا۔ہم وہیں اترے ۔اتنے میں ایک بس وہاں سے گزر رہی تھی اس میں بیٹھ گئے ۔اس نے بھی ایک جگہ اتار دیا۔گوگل میں ہمارا خیمہ کافی دور دکھایا جا رہا تھا۔صبح کا وقت تھا موسم کافی خوشگوار تھا۔ہم بھی جوش و جزبہ کے ساتھ پیدل چل رہے تھے ۔اور اچھے موسم پر اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اگست میں کیسا موسم ہے(آگے جاکر جب دوپہر کا وقت ہوا تو ایسی گرمی پڑی کہ عقل ٹھکانے آگئی)ایک گھنٹہ پیدل چل کہ تھوڑا سستانے بیٹھ گئے۔رات کو کھانے کے بعد کچھ کھایا بھی نہیں تھا ۔اپنے ساتھ کچھ اٹھایا بھی نہیں تھا ااور بھوک بہت ذیادہ لگی ہوئی تھی اور سب یہی سوچ رہے تھے کہ کہ باقی دو تین گھنٹہ کیسے پیدل چلیں گے اس جگہ تو کوئی نظر بھی نہیں آریا۔ابھی یہ سوچے دو تین منت ہی ہوئے ہوں گے کہ ایک ٹرک قریب سے گزرا ۔ہمیں دیکھ کر رکا۔فورا دو آدمی نیچے اترے اور ہمیں ناشتہ کے لئے بے تحاشا چیزیں دی ۔ہم نے کہا اتنی چیزیں ہمیں مت دو ہم اپنے ساتھ لے جاسکتے نہیں ہیں یہاں ضائع ہو جائے گی مگر نہ مانے چیزیں ہمارے حوالے کی اور یہ جا وہ جا۔اب ہم سب آرام سے بیٹھے جلدی جلدی ناشتہ کیا اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کچھ لوگوںکو تلاش کیا جو وہاں کام کر رہے تھے ان کو چیزیں حوالے کی اور آگے کی طرف روانہ ہوئے۔اب جب سورج اور اوپر ہو تو گرمی بڑھنے لگی فورا چھتریاں کھول لیں ۔ہمارے خیمے مزدلفہ میں واقع تھے ۔تین گھنٹہ پیدل چلنے کے بعد ہمارا خیمہ آیا۔اب جو منظر ہم نے دیکھا تو ایک اور دھوکہ ہمارے ساتھ کیا گیا تھا۔







Comments
Post a Comment