سفرنامہ حج (حصہ سوم)
امی نے کہا کہ آج تم وگو ں کی عید الاضحی ہے نا ۔۔اوہ یاد آیا ۔ اس کے بعد سب نے پیدل ہوٹل تک جانے کو ترجیح دی ۔لیکن جس آنٹی نے ہمیں فضائل پیدل چلنے کے بتائے تھے ہر ایک منٹ بعد زمین پہ بیٹھ کے کہتی کہ ہائے میں تو اس طرح پیدل نہیں چل سکتی درمیان میں آرام بھی کریں گے۔پھر ان کے شوہر کو ان کی فکر لگ گئی تو کسی سے پانی مانگتے تھے کسی سے فروٹ ۔جب تین چار دفعہ آنٹی نے اس طرح کیا تو مجھے غصہ آیا اور میں نے بھائی سے کہا کہ اگر اسی رفتار سے ہم مکہ جائیں گے تو کل تک بھی نہیں پہنچ سکیں گے۔یہ بات ان کے شوہر نے سنی اور تھوڑی دیر بعد اس نے کہا کہ تم لوگ جاؤ ہم خود ہی آجائیں گے ۔اس پر ہم نے اللہ کاشکر ادا کیا اور بس تیزی سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے ۔پیاس سے برا حال تھا ۔لیکن تھوڑی دور آگے گئے تو پانی ملا ۔اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اس صحرا میں ہمیں جا بجا پانی کی سہولت موجود تھی۔خوب پانی پیا اور دوبارہ روانہ ہوئے ۔جیسے ہی عزیزیہ میں داخل ہوئے تو بھائی سے کہا کہ جاکے جوس اور فروٹ لے آؤ ۔جوس تو خیر گرم تھا لیکن پھر بھی کچھ انرجی ملی ۔فروٹ کھایا اور جب اسامہ انکل کو فروٹ دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو چلتے چلتے ایک حاجی نے اس سے اچک لیا ۔چلو کوئی بات نہیں اس پر اسی کا نام لکھا ہو گا ۔بس اب ارادہ تھا جلداز جلد ہوٹل پہنچے کا تاکہ تھوڑا آرام کر لیں ۔تقریبا دو گھنٹہ بعد حرم کے قریب پہنچے ۔لیکن طواف زیارت کے لئے ابھی نہیں جانا تھا ۔ہم نے پہلے نہا دھو کے نئے کپڑے پہننا ہے پھر تھوڑ اآرام کریں گے کچھ کھانا کھائیں گے پھر اس کے بعد حرم کی طرف جائیں گے۔۔راستے میں فون آگیا کہ آپ لوگوں کی قربانی ہوگئی ہے ۔اس پر سب نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی ۔بھائی لوگ حجام کے پاس وہاں سے گئے میں نے راستے میں لسی کی بوتلیں لی۔ہوٹل پہنچے فریش ہوئے نئے کپڑے پہنے ۔اتنے میں دوسری آنٹی پہنچی ۔کہنے لگی کیسے آئے ہو ہم نے کہا پیدل ۔اچھا میں تو پیدل نہیں آسکتی تھی اس لئے ٹیکسی میں آئی ہوں ۔ہم نے کہا اچھا کیا ۔پھر کہنے لگی پیدل چلنے کا بہت ثواب ہے جو تم لوگوں کو مل گیا۔ہم نے بھی ہاں میں ہاں ملائی ۔ ۔گزشتہ تین راتوں سے صرف دو گھنٹے نیند ار 24 گھنٹوں سے کچھ نہیں کھایا تھا۔لیکن الحمد للہ اب بھی کافی اچھے تھے اور دعائیں بھی بہت مانگی تھی کہ اللہ ہمت دے کہ حج کو بہترین طریقہ سے ادا کریں اور ابھی تک صورتحال کافی اچھی تھی۔ابھی صبح کے گیارہ بجے تھے اس لئے سب جلدی سے سو گئے۔
دو بجے کے قریب اٹھے ۔ظہر کی نماز پڑھی بھائی کھانا لایا ۔بھوک کافی لگی ہوئی تھی۔اس کے بعد پلاننگ ہوئی کہ عصر کی نماز پڑھ کے جائیں گے۔سوات والے انکل سے موبائل منٰی میں گم ہو گیا تھا ۔دوسرے انکل سے کہا موبائل کو رکھیں کیونکہ واپس ایک ساتھ ہی جائیں گے اور سب ایک جگہ رک کر ایک دوسرے کا انتظار کریں گے۔ اس کے بعد طواف زیارت کے لئے نکلے ۔ اوپر طواف کے لئے گئے ۔ابھی جیسے ہی پہلا چکر شروع کیا تیزبارش شروع ہوگئی ۔ہم نے تو اوپر ہی طواف جاری رکھا بہت ہی خوبصورت موسم ٹھنڈی ہوائیں بارش الحمد للہ ۔پہلے دن کی گرمی کے بعد یہ دو دن کافی اچھے گزرے ۔باقی لوگ کہاں گئے ۔بعد میں پتہ چلا وہ نیچے منزل پہ اتر گئے تھے ان کو خدشہ تھا کہ کہیں پھسل نہ جائیں ۔طواف زیارت ختم ہوا تو اس کے بعد سعی کی طرف گئے ۔سعی کے درمیان مغرب کا وقت آگیا۔نماز پڑھی تو امام نے ہر رکعت میں صرف ایک ہی آیت پڑھی۔اس کے فورا بعد لوگوں نے سعی شروع کر دی ۔آج تو یہاں صحیح بھاگ دوڑ لگی ہوئی ہے۔ذیادہ رش نہیں تھا ۔اس لئے آسانی سے سعی بھی ہوگئی ۔اس کے بعد ہم نے کہا کہ باقی لوگ بوڑھے ہیں ان کا ابھی ٹائم لگے گا ہم کچھ کھانے کے لئے چلے جائیں گے۔شوارما اور جوس لیا ۔اس سے اچھا شوارما تو پاکستان میں ملتا ہے ۔بس ادھر ہی فٹ پاتھ پہ بیٹھ کے کھا لیا ۔اتنے میں عشاء کی اذان ہوئی وہ بھی پڑھ لی ۔ جب انکل کو فون ملایا تو وہ بند آرہا تھا ۔اوہ اب کیا کریں ۔بھائی نے کہا کہ بس اس راستے کو دیکھتے رہیں گے یہاں سے گزرے تو پکڑ لیں ۔کوئی آرہا تھا کوئی جارہا تھا ۔ان کو تلاش کرتے کرتے آنکھیں تھک گئی ۔ویسے بھی شدید تھکاوٹ ہورہی تھی ۔دل تو کر کر رہا تھا یہی پہ سو جائیں ۔یا اللہ وہ کب آئیں گے ایسے نہ ہو چلے گئے ہو ۔رات 12بجے وہ نظر آئے بیچاروں نے اس وقت سعی ختم کی اتنا ٹائم لگا ۔ہماری تو ابھی آنکھیں چار چار ہو رہی تھیں ۔ان کو ہم نے کہا آپ لوگ کھانا کھا لیں ہم نے تو کھا لیا ہے ۔انہیوں نے کھانا کھایا اس کے بعد ٹیکسی سٹینڈ کی طرف گئے ۔وہاں پہ بیٹھنے کی جگہ موجودتھی مزید کھڑے ہونے کی اب ہمت نہیں تھی۔اتنے میں ایک بوڑھی عورت ہائے ہائے کرتے ہوئی آئی میں نے اٹھ کے اسے جگہ دے دی کہ آپ بیٹھ جائے میں تو کسی طرح گزارہ کر لوں گی ۔بھائی کو کہا جاکے چاکلیٹس لے آؤ پھر وہاں کچھ خاص ملتا نہیں ہے اور اپنا شوگر لیول بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
اب ہم بڑی ٹیکسی کی تلاش میں تھے کہ چھ لوگ اس میں آسکیں۔کرائے آسمان پہ تھے ۔اور انکل کسی حال میں زیادہ کرایہ نہیں مان رہے تھے ۔میں نے جاکے بھائی سے چپکے سے کہا جتنا کرایہ مانگ رہے ہیں دے دو بس مزید کھڑے ہونے کہ ہمت نہیں ہے۔پھر ایک ٹیکسی کے ساتھ بات ہوئی کراچی کا رہنے والا تھا ۔اور ہم منٰی کی طرف روانہ ہوئے ۔منٰی کا سوچ کر ہی گھبراہٹ شروع ہو جاتی تھی۔ اب ٹیکسی سے اترے تو ڈیڑھ گھنٹہ مزید پیدل چلنا تھا ۔اس وقت جو حالت تھی ۔کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ہر ٹینٹ اپنا نظر آرہا تھا ۔تھکاوٹ بے انتہا۔شکر ہے اللہ نے بغیر محرم کے اجازت نہیں دی ورنہ حج کافی مشکل ہو جاتا ۔ہم سب عورتوںکی حالت کافی خراب تھی حبس بھی کافی ہورہی تھی لیکن مرد سب اچھے تھے۔راستہ میں ایک ایسی جگہ سے بھی گزرے جہاں سب لوگ ٹینٹ سے باہر قالین بچھا کے بیٹھے ہوئے تھے ۔قہوہ کا دور چل رہا تھا ۔لوگوں کے جمگھٹے خریداری میں مصروف تھے یہ لوگ تو واقعی آج عید منا رہے ہیں اور انجوائے کر رہے ہیں ایک ہماری حالت ایسی تھی کہ ہمیں کچھ نظر بھی نہیں آرہا تھا۔آخر کار ہم رات دو بجے ٹینٹ پہنچے ۔اندر داخل ہوئے تو تھوڑی تھوڑی جگہ ہمیں مل گئی شاید سارے لوگ ابھی واپس نہیں آئے تھے۔بعد میں پتہ چلا کہ کچھ بوڑھوں کی طبیعت کافی خراب ہو گئی تھی تو وہ واپس نہیں آئے ۔اس میں بھی ہمارا فائدہ ہوا ہمیں جگہ مل گئی۔میں جس جگہ میں تھی وہاں ہوا کا گزر نہیں ہو رہا تھا ۔میں اوپر چھت کو دیکھ کر یہی سوچ رہی تھی کہ اگر یہی حال رہا تو آج کیسے نیند آئی گی۔اتنے میں کہی سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آنا شروع ہو گئے اور ہم نیند کی وادیوں میں چلے گئے۔
اگلی صبح نماز کے لئے اٹھے ۔نماز پڑھتے دوبارہ سو گئے ۔اب یہ دن کھانے پینے آرام اور عبادت کے لئے تھے ۔پھر سات بجے دوبارہ ناشتہ کے لئے اٹھایا ۔ابلا ہوا انڈا ہم نے نے قریب پڑوسی کو دے دیا ۔اس نے اپنی نئی گھڑی کے ساتھ ٹھک کر کے انڈہ توڑا اور کھا لیا ۔ناشتہ کر کے دوبارہ سو گئے ۔اتنے دنوں کی تھکن تھی اورآج تو ویسے بھی صرف رمی کے لئے جانا تھا وہ بھی زوال آفتاب کے بعد۔پھر دوبارہ گیارہ بجے اٹھے اشراق پڑھی قرآن پڑھا ۔ٹینٹ میں شکر ہے کافی جگہ تھی ۔ہوا کا تو گزر اب بھی نہیں ہو رہا تھا لیکن لوگ کم ہونے کی وجہ سے گزارا ہو رہا تھا۔کچھ لوگ پہلے سے نکل گئے تھے رمی کرنے کے ظہر کی نماز وہی پڑھیں گے پھر فورا رمی کریں گے ۔ہمیں کوئی جلدی نہیں تھی اس لئے ہم عصر کی نماز پڑھیں گے پھر جائیں گے سورج بھی ذرا نیچے ہو جائے گا۔پھر کچھ مرد حضرات کافی ایکٹیو تھے ۔اپنی بیویوں کے لئے کہاں کہاں سے بھگا بھگا کر چیزیں لا رہے تھے۔ویسے ہی سوچا کہ ہمارے بھائی کو تو ہماری فکر ہی نہیں ہے ۔ابھی یہ سوچا ہی تھا کہ موبائل بجا ۔بھائی تھا کہنے لگا آجاؤ میں تم لوگوں کے لئے آئسکریم لایا ہو ۔یا اللہ خیال آتے وہ قبول ہو جائے گی اس کا کبھی نہیں سوچاتھا۔
ظھر کے بعد دھواں دار بارش ہوئی ۔ٹھندی ہوائیں چل رہی تھی۔آج کا دن کافی بے فکری میں گزرا ۔عصر کی نمازکے بعد ہم نکلے ۔تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ پیدل چلنے کے بعد پہنچے ۔ایک جم غفیر اوپر پل سے جارہا تھا ۔یا اللہ کیسا رش ہے ۔ہم نے آج بھی نیچے والی منزل میں داخل ہوئے ٹھکا تھک کی آوازیں آج بھی آرہی تھی رش بھی ذیادہ تھا ۔پہلے جمرہ میں کافی دھکے بھی ملے ۔اس کے بعد دعا کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے ۔جلدی جلدی دعائیں مانگی۔پھر دوسرا جمرہ اس کے بعد بھی دعائیں۔ اور پھر تیسرا ۔دھکے تو کافی پڑے لیکن اللہ کا شکرہے آج کا مرحلہ بھی بخیر و عافیت ہو گیا۔ہر دفعہ بھی جب کوئی منسک ادا کرتے تو بے انتہا خوشی ہوتی کہ اللہ نے اس کی توفیق دی اور اس سے ذیادہ اس بات پر خوشی ہوتی کہ اللہ نے عمر کے اس حصہ میں یہ سعادت حاسل کی جس میں ہم کسی کے محتاج نہیں ہیں ۔صحت کے حوالہ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ۔یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے اور پاکستا ن میں بھی اس غلط فہمی کو ختم کرنا چاہیے کہ حج تو بڑھاپہ کی عبادت ہے۔
اس کے بعد واپسی ہوئی ۔واپسی کا راستہ تقریبا دو گھنٹہ کا تھا ۔راستے میں ایسے ٹینٹ سے گزرے کہ ہمارے منہ کھلے کہ کھلے رہ گئے ۔کیا ڈیکوریشن ۔قالین بچھے ہوئے ۔اندر داخل ہو تو بخور کی دھونی۔ائیر کنڈیشن فریج اور دوسری انواع و اقسام چیزوں کے انبار ۔جوتوں کے لئے ریک اور ایک ہم جیسے جلوزئی کیمپ میں ہو ۔باہر نکلو تو پاؤں شڑاپ پانی اور جوکھانا لوگوں نے پھینکا ہوتا تھا اس میں پاؤں پڑتا تھا۔جوتے ہم شاپر میں ڈال کر رات کو سوتے وقت سر کے نیچے رکھتے تھے اور اس کے اوپر بیگ جو بطور تکیہ کام کرتا تھا ۔ہائے منٰی بھی اتنا فرق ہو گا ہمیں یہ پتہ نہیں تھا (خیر ہمارے ٹریول ایجنٹ نے ہمارے ساتھ بہت ذیادتی کی تھی۔لیکن خیموں کے اتنے فرق کو دیکھ کر یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کم از کم منٰی میں تو سب برابرہونا چاہیئے ۔کچھ لوگو کئے لئے اتنی ذیادہ مراعات اور کچھ لوگ واقعی بالکل الٹا۔ویسے منٰی میں سب ایک ہی لباس میں ایک ہی جیسے ٹینٹ میں رہنے کا مقصد تو یہاں آکر فوت ہو گیا۔یہاں بھی امیر اور غریب کا فرق صاف واضح تھا ۔ہم تو پرائیویٹ میں ہوتے ہوئے بھی خوار ہوئے ۔لیکن خیر اب تو الحمد للہ حج ہو گیا کل آخری دن تھا ۔اس لئے تمام خیالات کو جھٹکا ۔دو گھنٹہ بعد واپس پہنچے مغرب اور عشاکی نماز ادا کی ۔اس کے بعد مردوں کے ٹینٹ سے جھگڑنے کی آواز آئی ۔اور شدت سے اضافہ ہوا ۔عورتوں کو یہ فکر کھانے لگی کہ ہمارے مرد غصہ کے تیز ہیں کہیں وہ نہ جھگڑ رہا ہو ہائے اللہ ان کا تو حج خراب ہو جائے گا۔تھوڑی دیر بعد بھائی کو فون کیا اس نے کہا کچھ نہیں بس ایک دوسرے کی جگہ قبضہ کرنے پر جھگڑا ہوا۔ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ عورتوں کی طرف بھی سیب تقسیم کرنے پہ جھگڑا ہوا ۔اب سب اس عورت سے کہ رہے تھے چپ ہو جاؤ ایک سیب پہ کیوں اپنا حج خراب کر رہی ہو۔اس نے کہا نہیں تم لوگ انصاف نہیں کر رہے ۔ہم جتنے لوگ اس کے قریب بیٹھے تھے جلدی سے سب نے اپنے حصہ کا سیب اسے دے دیا لیکن غصہ کسی صورت کم نہیں ہورہا تھا۔پانی کی بوتل بھی میں نے اسے پکڑا دی لیکن احتجاج جاری تھا۔سب عورتیں کہ رہی تھی کہ جو شیطان آج مار کے آئے ہیں وہ ساتھ ہی آگیا پہلے مردوں کے ٹینٹ میں پھر عورتوں کے ۔پھر ایک اچھی سی آنٹی آئی اس کو بہت سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھی آخر میں وہ یہ کہتے ہوئے اٹھ گئی اور کہا ہائے اللہ بہت ہی جاہل ہے نا۔اس کے بعد کھانے کا سیشن چلا روشنیاں بند اور سب سو گئے ۔


Comments
Post a Comment