حضرت عمر رضی اللہ عنہ
"جب نیک وصالح لوگوں کا ذکر کرو تو بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے شروع کرو۔،کیونکہ ان کا قبول اسلام ،اسلام کی مدد تھا ۔ان کا دور امارت اسلام کی فتح تھا ۔اور اللہ کی قسم زمین پر کوئی ایسی چیز میرے علم میں نہیں جو سیدنا عمر کی شہادت کا غم محسوس نہ کر رہی ہو،یہاں تک کہ درخت کا تنا بھی عمر کی جدائی محسوس کر رہا ہو گا اور اللہ کی قسم میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو ان کی درست و صحیح راستہ کی طرف راہنمائی فراہم کرتا تھا اور اللہ کی قسم میں یہ بھی سمجھتا ہوں کی شیطان ملعون بھی ان سے ڈرتا تھا اور اگر اس نے کوئی بدعت ایجاد کرائی تو سیدنا عمر اس کے ملعون چہرے پر دے مار یں گے اور اللہ کی قسم اگر میں کسی ایسے کتے کو جانتا ہوتا جو سیدنا عمر سے محبت کرتا تو میں بھی اس سے محبت کرتا "
یہ الفاظ ان صحابہ کے تھے جن کا شمار سابقون الاولون میں ہوتا تھا اور یہ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔
سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا ان کے بارے میں فرماتی ہیں "جو شخص بھی سیدنا عمر کو دیکھے گا یقینا وہ یہ بات جان لے گا کہ وہ تو پیدا ہی دفاع اسلام کے لئے ہوئے تھے۔اللہ کی قسم سیدنا عمر تو یکتائے زمانہ اور بے مثل تھے،وہ تمام معاملات کی بخیر و خوبی انتظام کرتے تھے۔"
امیر المؤمنین،سسر رسول اللہ ﷺ،داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ،عشرہ مبشرہ کا تعلق قریش کی شاخ بنی عدی سے تھا ۔اسلام سے قبل فنون سپہگری اور خطابت سے دلچسپی تھی۔تجارت کے لئے دور دراز کےسفر نے ان کو بہت پختہ کار اور معاملہ فہم بنا دیا تھا ۔کوئی پیچیدہ مسئلہ پیش آتا تو عمر رضی اللہ عنہ اس کو اپنے فہم و تدبر سے حل کرتے۔بڑے عالی دماغ اور شکوہ و دبدبہ کے انسان تھے۔حضورﷺ کو ان کے اسلام لانے کی بڑی آرزو تھی اور ان کے لئے دعا بھی کی۔ یہ اسی دعا کا نتیجہ تھا کہ سات سن نبوت کو وہ اسلام کی آغو ش میں داخل ہوئے۔انہوں نے سب سے پہلے اعلانیہ خانہ کعبہ میں جاکے نماز ادا کی اور ان کی اس جرات پر رسول ﷺ نے ان کو فاروق کا لقب دیا۔
ہجرت کی اجازت ملی تو مکہ چھوڑنے سے قبل خانہ کعبہ کا طواف کیا اور اعلان کیا کہ ہجرت کر رہا ہوں اگر کسی میں ہمت ہے تو باہر میدان میں آئے لیکن کسی نے ہمت نہیں کی ۔ہجرت کے بعد تمام بڑے معرکوں میں شرکت کی ۔غزوہ تبوک میں اپنا آدھا مال اللہ کی راہ میں دیا ۔آپﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے ۔حضورﷺ کی وفات کے بعد سقیقہ بنی ساعدہ کے فتنہ کو دبانے میں ان کا بڑا عمل دخل تھا ۔انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پہ بیعت کر کے اختلاف کا خاتمہ کیا ۔۔ابوبکر کے خاص مشیر اور دست راست رہے۔ان کے فضائل اور او صاف کی وجہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنا جانشین نامزد کیا۔
ان کی خلافت تقریبا ساڑھے دس سال پر منحصر تھی۔ان کے دور میں فتوحات کی کثرت ہوئی اور ایران اور روم کی عظیم الشان سلطنتیں مسلمانوں کی زیر نگیں ہو گئی اور ہندوستان سے لے کر شمالی افریقہ تک اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔انہیں نے ایسا عادلانہ نظام قائم کیا کہ اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔عہدہ داروں کے انتخاب میں بڑی احتیاط برتتے اور جس کو چن لیتے وہ اس شعبہ کو کمال تک پہنچا دیتا ۔۔عہدہ داروں کا احتساب بھی سخت ہو تا اور جس کے بارے میں کوئی عوام شکایت کرتی اور وہ ثابت ہو جاتی تو فورا برطرف کر دیا جاتا۔
عدالتوں کا بہترین نظام قائم کیا۔ادنی و اعلی سب برابر ہوتے تھے۔یہاں تک کہ خود بھی عام آدمی کی طرح عدالت میں پیش ہوتے تھے۔انہوں نے بہت سے نئے محکمہ اور نئی باتیں ایجاد کی جن کو اولیات کہا جاتا ہے - حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے تاریخ اورسن ہجری کا آغاز کیا-عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کردیا - باقاعدہ بیت المال قائم کیا - فوج کامحکمہ قائم کیا اور رضاکار مجاہدین کی تنخواہیں مقرر کیں ۔کوفہ، بصرہ،موصل،فسطاس وغیرہ نئے شہر آباد کئے۔مردم شماری کرائی - جرائم کے لیے جیل خانے بنائے -فوجی گھوڑوں کوچوری سے محفوظ رکھنےاور ان کاحساب کتاب رکھنے کے لیے ان پر نشان "جیش فی سبیل اللہ " داغے گئے -امن و امان کے لیے پولیس کا محکمہ قائم کیا - مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان مسافروں کے لیے سرائیں قائم کیں -نئی نہریں کھدوائیں اورآبپاشی کا بندوبست کیا - ڈاک کا نظام قائم کیا اور ڈاک چوکیاں بنائیں - لاوارث اور بےسہارا بچوں کے لیے وظیفے مقرر کیے - چاندی کے سکے جاری کیے -رات کو گشت کا طریقہ ایجاد کیا -عشور یعنی مال تجارت پر 1/10محصول مقرر کیا -فجر کی آذان میں "الصلوۃ خیرمن النوم "کا اضافہ فرمایا - نماز تراویح کاباجماعت اہتمام کیا - شراب نوشی پر 80کوڑوں کی حد مقرر کی -مساجد میں وعظ کا طریقہ شروع کیا - امام اور مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں -قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم کے لیے دینی مدارس قائم کیے اور ان میں تنخواہ دار معلمین مقرر کیے - نماز جنازہ میں چار تکبیروں کی سنت جاری فرمائی -مسجدوں میں روشنی کا انتظام کیا اور وقف کا طریقہ ایجاد کیا-
خشیت الہی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔حضورﷺ سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور جب آپﷺ کا ذکر آتا تو زار و قطار روتے۔اتباع سنت کا پورا اہتمام کرتے۔اتنی بڑی سلطنت کے خلیفہ ہونے کے باوجود سادگی سے زندگی گزارتے ۔پیوند لگے ہوئے کپڑے ،پھٹا ہوا عمامہ ،بوسیدہ چپل ،لوگوں کی خدمت خود کرتے۔اور جب تھک جاتے تو مسجد کے کونے میں اسی فرش پر سو جاتے ۔ بیت المقدس جب فتح ہوا تو اس حال میں وہاں داخل ہوئے کہ غلام گھوڑے پر سوار تھا اور خود گھوڑے کی زین پکڑی ہوئی تھی۔غذا میں بے چھنے آٹے کی روٹی اور روغن زیتون ہوتا تھا۔اور جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن خظاب اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہےاگر شیطان اپ کو کسی راہ میں چلتا دیکھ لے تو وہ اپنا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے ۔
ذو الحج 23 ھ کو آپ رضی اللہ عنہ پہ ابو لؤلؤ نے حملہ کیا ذخم کاری تھا اس لئے کچھ صحابہ کرام کو اپنا جانشین بنایا،اپنی اولاد کو نصیحتیں کی ،لوگوں کو وصیتیں کی ۔اس کے بعد یکم محرم الحرام کو 24 ھ کو اپنے رب کی طرف لوٹ گئے ۔ان کی وصیت کے مطابق صہیب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی او حضورﷺ کے پہلو میں مدفون ہوئے اللہ ان پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں آمین۔

Comments
Post a Comment