سفرنامہ حج( آخری حصہ)



 



صبح کیمپ میں ایک ہڑبونگ مچ گئی ۔جلدی اٹھو نماز قضا ہو جائے گی ۔ایک عورت مجھے زور زور سے ہلا کہ جگانے کی کوشش کر رہی تھی۔میں نے اسے کہا جاگی ہوئی ہوں اس شور میں کون سوئے گا۔وضو کر کے واپس آئی تو سب خاموش تھے پوچھا کیا ہوا ۔ بتایا کہ ابھی نماز کا وقت نہیں ہوا کسی کو غلط فہمی ہو گئی تھی اس لئے ۔چلیں اب کیا کر سکتے تھے آذان کا انتظار کیا نماز پڑھی اور سو گئے ۔ناشتہ کے لئے اٹھے آج منٰی میں آخری دن تھا ۔ظہر کی نماز  پڑھ کے فورا نکلنے کا ارادہ تھا ۔2 بجے نکلے ۔سورج عروج پہ تھا صرف آج ہی بارش نہیں ہوئی تھی ۔ورنہ تین دن مسلسل بارش ہوئی تھی۔راستے میں جگہ جگہ پانی کے فوراے لگے تھے جو اس گرم موسم میں کافی فرحت بخش تھے ۔راستے میں دو ٹھنڈے ٹھنڈے سیب کسی نے دئے ۔سب صاف ستھرے کپڑے پہنے جیسے عید ہو اپنے اپنے  منزل کی طرف روانہ تھی ایک ہم لٹے پٹے مسافروں کی طرح جارہے تھے۔خیر رمی سے فارغ ہوئے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور اسی راستے سے پیدل روانہ ہوئے آج کوئی جلدی نہیں تھی اس لئے آہستہ آہستہ مکہ کی طرف رواں دواں تھے ۔یہ بھی اللہ کی مہربانی تھی کہ اتنے لاکھوں لوگوں میں ہمیں کہیں رش کا احساس نہ ہوا ۔راستے میں جوس لینا ضروری تھی۔سیب کھائے  ۔ ٹنل سے جیسے ہی نکلے دوسری  سائڈ سے کچھ بنگلہ دیشی حضرات واپس جانے کے چکر میں تھے ۔یہ سوچ کر اگر اس طرف سے بھی لوگوں کا ریلا آیا تو یہ خطرناک بات ہو گی۔لیکن ویہاں پولیس کاافی الرٹ کھڑی تھی کسی کو اس سائڈ سے آنے کی اجازت نہ ملی اس دھکم پیل میں کافی حضرات زمیں پر بھی گر پڑے۔ویسے حاجیوںکو یہ بات ضرور سمجھنی چاہئے کہ حکومت جو راستہ بند کر دیتی ہے اس میں ان ہی کی بھلائی ہوتی ہے ۔ایک طرف سے جانے کا ایک طرف سے آنے کا ۔اگر اتنی رش والی جگہوں میں سب ایک ہی راستے سے آئیں جائیں تو یہ پھر بڑے حادثہ کو مؤجب بن سکتاہے ۔
حاجیوں کی یہ ٹریننگ ضرور کرنی چاہئے کہ جو قانون اور طریقہ کار ہو وہاں جاکر ضرور عمل کرنا چاہئے اسی میں سب کا فائدہ ہو تا ہے ۔اگر تھوڑی دیر سویر ہو گئی تو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔دوسری بات یہ ہے کہ اگرچہ مکہ مدینہ میں بے تحاشا صفائی کا عملہ ہوتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جہاں کھا لیا وہیں سب کچھ چھوڑ کر چل دیے یا جہاں پانی کی بوتل ختم وہیں پھینک دی ۔یہ تو کوئی طریقہ نہیں ہوا ۔وہاں کی حکومتوں نے صفائی کا بہت اچھا انتظام کیا ہو تا ہے لیکن کچھ فرض تو ہمارا بھی بنتا ہے ۔ تیسری بات جو نوٹ کی وہ یہ تھا کہ اگر وہاں جو راستے میں مختلف کھانے  پینے کی چیزیں تقسیم ہوتی ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ آپ کا پیٹ بھرا ہو تو آپ وہ کھانا بھی لے لیں اور کچھ دور جاکر اسے زمین پہ پھینک دیں ۔مفت چیزیں ملنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کہ اسے راستے میں پھینک دیا جائے کل اس نعمت کے بارے میں ہم سے پوچھ گچھ ہو گی۔چوتھی بات یہ کہ طواف کرنے والوں کے راستے میں کبھی بھی نماز نہیں پڑھنی چاہیے اور اگر پولیس اس جگہ سے ہٹانے کی کوشش کرے تو جھگڑنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ طواف کرنے والوں کو اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے پانچویں اور آخری بات یہ کہ طواف پر وقار طریقہ سے کرنا چاہئے  ایسے کیا ایمرجنسی ہوتی ہے کہ لوگوں کو دھکے دیتے ہوئے گزرنا پڑتا ہے۔




اس کے اگلے کچھ دنوں میں مکہ میں رش کافی بڑھ گیا ۔طواف و سعی کا سلسلہ جاری تھا ۔اب سب ہلکا پھلکا محسوس کر رہے تھے کہ حج اللہ کے فضل سے پایہ تکمیل کو پہنچا ۔تھکاوٹ بھی محسوس ہوتی تھی ۔تقریبا گھر سے دور ایک مہینہ ہو گیا ۔آخری دس دن مدینہ میں گزارنے تھے۔آنٹی بار بار کہتی تھی کہ کب مدینہ جائیں گے کیونکہ بہت تھک گئے ہیں وہاں جاکر آرام کریں گے۔آخری جمعہ کی نماز تھی ۔صبح صبح نکلے لیکن اتنا رش تھا جس کی کوئی حد نہیں تھی ۔ہم تو کسی نہ کسی طرح اندر چلے گئے لیکن جو بے تحاشا دھکے کھانے کو ملے۔تھوڑا افسوس بھی ہوا کہ کس نے کہا تھا کہ نماز پڑھنے آؤ ۔ہوٹل میں ہی پڑھ لیتے ۔کیونکہ ہمیں ایسے لگا جیسے آج نماز دھکم پیل میں ہی ہم سے رہ جائے گی۔اتنے میں سیکیورٹی والے نے کہا جو جہاں کھڑا ہے وہاں بیٹھ جائے ۔بہت مشکل سے جگہ بنی۔کچھ ٹائم بعد ساری عورتوں کو وہاں سے نکال کہ ایک کھلی جگہ پر لے گئے ۔ایک لمبا سانس لیا ۔ سب میں قرآن تقسیم ہوا  سورہ کہف پڑھی ۔خطبہ سنا نماز ادا کی ۔اس کے بعد ہم دیر تک وہاں بیٹھے رہے تاکہ لوگ باہر نکلیں اور رش کم ہو جائے ۔یہ ہمارا آخری جمعہ تھا  اگلا جمعہ پھر مدینہ میں پڑھناتھا۔اس کے بعد طواف وداع تھا ۔بس ایک دعا زبان پہ تھی کہ یا اللہ ہمیں اہنے گھر کی زیارت کے لئے بار بار بلانا ۔طواف کرنے اور عشاء کی نماز کے بعد ہم مسجد کے بالکل نچلی منزل میں آئے خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھے  تاکہ اپنی آنکھوں میں  یہ منظر اچھی طرح محفوظ کر لیں پھر پتہ نہیں کب آنا ہو گا۔وہاں کافی دیر بیٹھے اور پھر واپس ہوٹل پہنچے ۔تھوڑی بہت پیکنگ کی  کیونکہ صبح روانگی تھی۔








اگلی صبح ہم رسول اللہ ﷺ کے شہر روانہ ہوئے ۔ راستے میں سفر ہجرت کا ایک ایک ورق ذہن میں پلٹنے لگا ۔صحابہ کی قربانیاں یاد آتی رہیں۔کالے پہاڑوں اور دھوپ کو دیکھتے رہے۔کیسی پر مشقت سفر ہوتا ہوگا ۔کیا تکالیف برداشت کی ہوں گی۔بس یہی سوچتے سوچتے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔جنہوں نے سیرت نہیں پڑھی ہو گی ان کے لئے یہ سفر عام سفر کی طرح تھا لیکن ہمارے سامنے ایک کتاب کھلی تھی۔ ظہر کی نماز راستے میں پڑھی ۔صفائی کا نظام یہاں بالکل اچھا نہیں تھا لگتا تھا کہ صرف مسجدالحرام اور مسجد نبوی کی صفائی ہوتی تھے باقی مساجد کی طرف ان کی توجہ نہیں تھی۔پھر آہستہ آہستہ منزل کے قریب ہوتے گئے ۔مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے پھر حاجیوں کو ریفریشمنٹ دی گئی ۔پھر دور مسجد کے مینار نظر آنے لگے ۔مدینہ پہنچتے ہی ایک عجیب سکون کا احساس ہو ا ۔اتنے میں ٹریول ایجنٹ کھڑا ہوا ۔ایک تقریر کی جس میں قصہ سنایا گیا کہ ایک شخص نے مدینہ  میں دہی کھائی پھر کہا کتنی کھٹی ہے ۔اس شخص  کو خواب میں حضرت عمر  رضی اللہ عنہ نظر آئے ۔اس نے کہا کہ تم نکلو مدینہ سے مدینہ میں تمھارا کیا کام ۔تو یہاں جو بھی مصیبت آئے  اس پہ صبر کرنا ہے ۔ میں نے بہن سے کہا لگتا ہے یہاں کے حالات مکہ سے بھی خراب ہے ۔اللہ اس شخص سے سمجھے اور پھر وہی ہوا۔


ہوٹل تو پھر بھی مسجد کے قریب تھا  لیکن کمرہ انتہائی چھوٹا تھا۔کمرہ سے  تندور بنا ہوا تھا کیونکہ  اے سی خراب تھا ۔شکایت کی تو انہیں نے آکے اے سی بدل دیا۔خیر ہم نے کہا جب تک یہ اے سی کام کرتا ہے ہم مسجد چلے جائیں گے ۔مغرب  اور عشاء پڑھ کے واپس آئیں گے ۔ہوٹل سے نیچے اترے چائے پی کیونکہ سفر کی تھکان کافی ذیادہ تھی اور سر میں درد۔ پھر مسجد کی طرف گئے ۔صھن میں ہی بیٹھ گئے ۔دونوں نمازیں پڑھیں اور واپس ائے ۔کمرہ اسی طرح گرم ۔اوہ یہ اے سی بھی خراب  ہے دوبارہ ان کو بلایا ۔انہیں نے اے سی میں پانی ڈالنا شروع کیا ہم نے ان سے کہا اس کو بدلو اس طرح کام نہیں چلے گا ۔اس کے بعد اے سی بدلا گیا ۔تھکاوٹ حد سے ذیادہ تھی ۔بھائی کھانا لایا اور اسی کھانے سے ہی اندازہ ہو گیا کہ صبح یہ قصہ کیوں سنایا جا رہا تھا ۔اللہ معاف کرے بے حد بد ذائقہ کھانا ۔اس کے بعد ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ناشتہ اور رات کا کھانا ہم باہر کھائیں گے ۔اب مزید ایسے کھانے نہیں کھائیں جا سکتے ۔پھر گھر کی یاد بھی ستانے لگی ۔امی کے ہاتھ کے کھانے یاد آنے لگے ۔پھر اپنے آپ کو تسلی دی بس چند دن ہے انشااللہ پھر اس کے بعد واپسی ہوگی ۔اسی لئے اب دل بڑا کر دو۔






اگلے دن صبح فجر کی نماز کے لئے پہنچے ۔مکہ اور مدینہ ایسے شہر ہیں جو کبھی نہیں سوتے ۔جب بھی دیکھو لوگ مسجد کی طرف گامزن ہوتے ہیں بس ایک ہی شوق ہوتا ہے ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ ذیادہ زیادہ وقت وہاں گزارا جائے ۔صبح فجر کی نماز صحن میں پڑھی ۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ۔شیخ عبد اللہ البعیجان کی خوبصورت آواز میں لمبی قرآت ۔کیا خوبصورت دن کا آغاز تھا ۔واپسی میں ناشتہ کیا اور ہو ٹل پہنچتے ہی سو گئے ۔11 بجے اٹھے اب ظہر کی نماز کے لئے تیاری تھی ۔جب پہنچے تو اب بھی باہر جگہ ملی ۔ابھی پتہ چلا یہاں کیسی شدید گرمی ہے ۔بس جلدی واپس ہوٹل آئے ۔ عصر کی نماز بھی یہاں کافی جلدی ہوتی تھی۔اب جو امام صاحب سجدہ میں گئے تو سر اٹھانا ہی بھول گئے  اب ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس گرم فرش پہ دماغ ہی بہ جائے گا ۔افف ایسی گرمی کہ نہ پوچھیں ۔نماز سے فارغ ہوتے ہی ٹھنڈا ٹھندا پانی پیا ۔پھر مغرب کی نماز  کے لئے جاتے تو عشا پڑھ کے ہی واپس آتے اور کھانا بھی باہر کھاتے ۔اس پر آنٹی کہتی اچھا خاصا کھانا ہے تم لوگوں کے نخرے ذیادہ ہیں اپنے پیسے مت خرچ کرو ۔میں ے کہا چھوڑیں آنٹی اب جتنے رہ گئے ہیں وہ سب یہاں خرچ کر کے جائیں گے واپس لے جانے کی کیا ضرورت ہے۔
اس کے بعد جتنے دن بھی تھے تو اس میں عصر کی نماز کے بعد میں ہم قریبی دکانوں میں شاپنگ کے لئے چلے جاتے ۔کیونکہ نمازوں کے درمیاں وقفہ ذیادہ ہوتا تھا۔ابھی تک ہم نے کوئی چیز نہیں خریدی تھی کیونکہ مکہ میں ٹائم نہیں ملتا تھا اور شاپنگ پہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔ایک جگہ سموسوں کی خوشبو آئی فورا پاکستان یاد آیا ۔چائے کے ساتھ سموسہ خریدے ۔شاپنگ کرتے اور مغرب کی نماز کے لئے مسجد نبوی واپس لوٹتے ۔اگلے دن روضہ رسول ﷺ کی طرف فجر کی نماز کے بعد گئے ۔پہلے جو تجربہ یاد تھا اس لئے اللہ سے دعا کی کہ آسانی دے ۔ویسے مسجد نبوی میں کوئی خیال دل میں آتا تو  وہ دعا اسی وقت قبول ہو جاتی۔اور واقعی اس دفعہ ان کے انتظام کافی اچھا تھا۔بہت ذیادہ لوگوں کو ایک ساتھ اندر نہیں چھوڑتے تھے ۔کچھ لوگ اندر جاتے جب وہ  نماز پڑھ لیتے تو ان کو باہر جانے کا کہ دیتے اور دوسرے گروپ کو اندر کرتے ۔اس طرح اطمینان سے کچھ رکعات نماز ادا کی درود پڑھا ۔حج سے لے کے اب تک جتنے انتظامات تھے بہت بہتر طریقہ سے ہوئے ہوتے تھے کہ انسان کے دل سے خود بخود دعائیں نکلنا شروع ہو جاتی۔
پھر مسجد نبوی میں کچھ لوگوں کے ساتھ دوستی ہوگئی ۔ایک تو مدینہ کی رہنے والی تھی لیکن ان کے آباؤ اجدا د پاکستان کے تھے۔محمد بن سلمان کی بہت بڑی فین تھی۔اس تھوڑے سے ٹائم میں بھی اس نے اپنے گھر والوں کی سختی سے نالان تھی جو اس کو پردے کا کہتے تھے۔دوسرے دو بہنیں لیبیا کی تھی ۔اپنی  ٹوٹی پھوٹی عربی سے گزارا چلایا لیکن ایک دوسری کی باتوں کی سمجھ آجاتی تھی۔ان کو پاکستانی کپڑے اور جیولری بہت پسند تھے۔اور آج تک وہ دوستی برقرار ہے۔ایک انڈین آنٹی سے ملاقات ہوئی اس نے دو چوڑیاں گفٹ میں سیں وہ آج بھی میرے پاس پڑی ہوئی ہیں۔


اس کے بعد ایک دن تمام زیارتوں کے لئے وقف تھا۔صبح صبح بس نکلی۔مسجد قبا ،مسجد قبلتین،احد و خندق تک گئے۔جہاں جہاں رکے اور جتنی مسجدیں تھیں سب میں نمازیں ادا کیں۔جب  احد پر پہنچے تو ہماری نوشہرہ والی آنٹی دھاڑیں مار مار کے روتی ہوئی ٹیلے پہ چڑھنے لگی ۔ہمیں حیرت ہوئی کہ اسے کیا ہوا ہے۔شوہر اس کے پیچھے دوڑتا دوڑتا گیا۔شوہر کی ایسی تابعداری کو دیکھ کر سوات والی آنٹی کا کافی غصہ آیا ااور بغیر کسی وجہ کہ میاں بیوی  میں لڑائی ہو گئی ۔(کیونکہ ان کا شوہر عجیب سخت مزاج تھا)۔بس میں چڑھتے وقت بھی وہ باقاعدہ روتی رہیں اور ہم پہ ہنسی کا شدید دورہ ۔اس کے بعد حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ کے باغ گئے ۔یہاں کا کنواں انہوں نے ایک یہودی سے خرید کر وقف کر دیا تھا اور  چودہ سو سال سے زائدعرصہ گزرنے کے باوجود وہ کنواں اب بھی پانی دے رہا ہے اس کے ااردگرد کھجوروں کے باغات ہیں۔کیا ہی بہترین صدقہ جاریہ  ہے ۔وہاں سے عجوہ کھجوریں خریدیں ور ہوٹل واپس ہوئے ۔کمرے میں پہنچ کر نوشہرہ کی آنٹی نے کہا عمرہ مبارک ہو میں نے کہا کونسا کہتی ہے مسجد قبا میں نماز پڑھنا میں نے ان سے کہا عمرہ نہیں عمرہ کے برابر ثواب ملتا ہے اس پر انہیں نے کافی خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔
آج آخری دن تھا  سارا سامان ہم نے پیک کر لیا۔دونوں گھرانوں نے اتنا سامان لیا تھا کہ باوجود سمجھانے کے اتنا سامان نہیں چھوڑیں گے سامنے سے جواب ملتا حاجی ہیں کیوں نہیں چھوڑیں گے ۔خیر سمجھانا ہمارا کام تھا  ۔اس کے بعد صبح  فجر کی نماز مسجد میں پڑھی ۔راستے میں آتے ہوئے ناشتہ کیا ۔اور ہوٹل پہنچے ۔ایک گھنٹہ بعد بس آئی ۔آخر وقت تک مسجد نبوی کی میناروں کو دیکھتے رہے۔سکوں و امن کی علامت اور اس کے فن تعمیر  بہت متآثر کن  ۔اب یہاں سے جدہ کا سفر رواں دواں تھا رات  چار بجے فلائٹ تھی ۔  دو بجے دوپہر کو جدہ آئیرر پورٹ پہنچے ۔اندر جانے کی اجازت ابھی نہیں تھی کیونکہ  ابھی فلائٹ کو چودہ گھنٹہ تھے ۔ایسی شدید گرمی ۔اس سے بہتر تو مکہ اور مدینہ تھے ۔خیر اب کوئی اور چارہ نہیں تھا ۔جاکے البیک کھایا جوس پیا اور انتظار کرنے لگے۔
اتنے میں کچھ ٹائم بعد ہمیں اجازت ملی ۔اندر آئے تو سکون کا سانس لیا کہ شکر ہے ٹھنڈی جگہ تو ملی ۔اب جو جو ہم سے لائن میں پہلے کھڑا تھا سب کےسامان کا زبردست مسئلہ چل رہا تھا ۔ سامان اپنے مقررہ وزن سے بے حد ذیادہ ۔پھر اس پر سینہ زوری ہم مسلمان ہے حاجی ہیں یہ تم لوگ ہمارے ساتھ گزارا کرو۔اس نے اس کا سامان اٹھایا سائڈ پہ رکھا اور کہا کم کرو ورنہ تمھارا کام پروسیس نہیں ہوگا ۔ہمارا وزن سب کچھ ٹھیک تھا ہمیں گڈ کہا گیا اور ہم  یہ جا وہ جا ہو گئے ۔گیٹ ابھی مقرر نہیں تھا ۔
جو سارے حاجی صاحبان تھے رات ایک بجے اپنا آدھا سامان پھینک کر لاؤنج پہنچے۔ایک آنٹی تو باقاعدہ رو رہی تھیں  کہ سارا سامان تو ہمارا رہ گیا ہے۔ خیر اب تو کچھ نہیں ہوسکتا تھا ۔4 بجے فلائٹ اپنے مقررہ وقت پہ اڑی ۔نیچے کا منظر کافی خوبصورت تھا ۔تھکاوٹ بہت زیادہ تھی اس لئے سو گئے لیکن کچھ لوگ ایسی چیخ چیخ کر باتیں کر رہے تھی جس کی حد نہیں تھی۔اللہ اللہ کر کے جہاز اسلام آبا د آئیر پورٹ پہ اترا ۔فجر کی نماز ادا کی ۔وہاں جان پہچان والی آنٹیوں  کو خدا حافظ کہا ۔کزن لینے آئے تھے ۔اب پشاور کا سفر شروع ہوا ۔شدید تھکاوٹ اب تو دل کر رہا تھا اڑ کے گھر پہنچے ۔اللہ اللہ کر کے گھر پہنچے سب نے شاندار استقبال کیا ۔اپنے کزنز میں سب سے پہلے حج کی سعادت ہمیں نصیب ہوئی ۔اللہ قبول کرے ۔ فرمائشی ناشتہ بنا تھا ۔اپنے گھر کا کھانا کھا کر عجیب سکون ملا ۔ایسے لگ رہا تھا جیسے مدتوں بعد ایسا کھانا نصیب ہو اہے۔اس کے بعد کئی مہینوں تک مہمانوں کا سلسلہ جار ی رہا۔  اور وہاں سے آنے کے بعد اب پہلے سے بھی ذیادہ شدت سے دوبارہ حج کرنے کو دل کر رہا ہے ۔
ختم شد











Comments

Popular posts from this blog

ذکر الہی کی اہمیت و فوائد

سفرنامہ حج(حصہ دوم)

ماہ شعبان اس کی اہمیت اور بدعات