کچھ دن شہر قائد میں
ہمارا سفر سیرین ائیر لائن @SereneAirPak سے شروع ہوا۔سروس تو ان کی اچھی تھی مگر اتنے مہنگے ٹکٹ میں کورونا کا بہانہ بنا کر بغیر لنچ
کے سفر کیا۔اگر لنچ نہیں دینا تھا تو کم از کم ٹکٹ میں ان کو کمی کرنی چاہئے تھی.جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 4:45 پر اترے۔ڈرتےڈرتے شہر
میں داخل ہوئے۔چھینا جھپٹی کے کافی واقعات سنے تھے اس لیے پرس کو مضبوطی سے پکڑا اور ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے.شہر میں داخل
ہوئے تو دونوں اطراف پہ کافی عمارتیں نظر آئی ۔عمارتوں کی خستہ حالی دیکھ کر بہت افسوس ہوا صحیح بھوت بنگلے لگ رہے تھے۔کچھ سڑکیں
صاف اور کچھ بد حالی کا شکار ۔کچھرے کے ڈھیر جا بجا نظر آرہے تھے۔ہم مغرب کے وقت اپنے services mess club پہنچے۔امی کو کہا
کہ دن پہلے کم ہے آج بھی کہیں گھومنے جاتے ہیں لیکن انہوں نے سختی سے انکار کای کہ شہر کے حالات ٹھیک نہیں ہے کوئی ضرورت نہیں باہر
جانے کی ۔ہم نے دل میں سوچا آج کا دن بھی ضائع گیا ۔
اپنے مشاہدے کے مطابق چار قسم کے لوگ کراچی میں دیکھے ۔بہت ماڈرن،ماڈرن،اسلامی،بہت اسلامی ۔کسی چیز کی خریداری کے لیے نکلو تو
دکاندار ایسے چپک جاتے تھے باجی خرید لیں باجی خرید لیں جبکہ پشاور میں یہ صورتحال نہیں ہوتی یہاں توکہا جاتا ہے لینا ہے تو لے لو ورنہ باجی
ہم نہیں دکھا رہے
.پورا
کراچی عمارتوں سے بھرا تھا ۔جن کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کوئی دیکھ بھال کرنے والا
نہیں ۔سیورج اور گند اٹھانے کا
بھی کوئی صحیح انتظام نہیں لگ رہا تھا ۔موسم گرم تھا اور سبزہ خال خال نظر آرہا تھا۔ٹریفک بے انتہا ' خاص کر موٹر سائیکلوں کی بہتات تھی۔جس
سے ہمیں کافی ذیادہ کوفت ہورہی تھی ۔ہم جیسے لوگ تو صبح صبح گھومنے پھرنے کے عادی ہوتے ہیں لیکن کراچی کے لوگ صبح سوتے اور رات
جاگتے ہیں
جس کی وجہ سے ہمارا ذیادہ ٹائم ضائع ہوا ۔ایسے
روٹین کراچیوں کی بلکل پسند نہیں آئی.کراچی کے کچھ علاقے بہت
ellite اور کچھ بلکل نظر انداز تھے۔فلیٹ والوں کی زندگی کافی سخت اور عجیب سی لگی ۔اللہ کا شکر ہے پشاور میں اس طرح کا سسٹم نہیں ہے اور
آج کل جو عمارتوں کا فیشن یہاں شروع ہوا ہے اللہ کرے اس میں کامیابی نہ ہو کیونکہ
ہمارے شہر کا بھی کراچی جیسا حال نہ ہو جائے.
ٹائم اتنا کم تھا کہ کچھ رشتہ داروں سے ملے اور ڈولمن مال ،لکی ون مال زینب مارکیٹ میں تھوڑا گھومے پھرے ۔اس کے علاہ دو دریا بھی گئے۔
جتنا ممکن ہو سکا کھانا کھایا کراچی کا کھانا بہت مزیدار تھا۔نہاری ،بریانی،حلیم،مچھلی،جھینگے،حلوہ پوری،مٹھائی نمکو،پانی پوری ،دہی بڑے وغیرہ
۔شاپنگ کے لحاظ سے بھی اچھا تھا ۔اس کے علاوہ علاقے کافی دور دور تھے اس وجہ سے اپنا شہر کافی یاد آیا کہ ایک چھوٹا سا پیارا سا شہر جس میں
سب چیزیں قریب ہی مل جاتی ہیں۔اتنے بڑے شہر میں کہیں پبلک ٹرانسپورٹ نظر نہ آئی جس کی وجہ سے حیرت بھی ہوئی۔اس کے علاوہ
ہمارا پینے کا پانی بھی کافی میٹھا ہے جبکہ کراچی کا پانی عجیب سا لگتا تھا ۔الغرض اپنا چھوٹا سا کراچی کا ٹرپ مکمل کیا ۔واپس شہر پشاور پہنچے تو سبزہ اور
موسم کی وجہ سے اپنا شہر بلکل ایبٹ آباد کی طرح لگا ۔




.png)
Comments
Post a Comment