سیرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ علی و فاطمہ رضی اللہ عنہاکی اولاد
تھے۔پانچ شعبان 4 ھ کو مدینہ میں پیدا
ہوئے۔حضورﷺنے ان کا نام حسین بن علی بن ابی طالب رکھا ۔کنیت ابو عبد اللہ تھی ۔حسن
بن علی رضی اللہ عنہاان سے ایک سال بڑے
تھے۔انتہائی حسین و جمیل اور شکل و صورت میں سب سے ذیادہ اپنے نانا سے مشابہت
رکھتے تھے۔مدینہ کا ہر شخص ان سے محبت رکھتا تھا کیونکہ حضورﷺنے ان کے بارے میں
فرمایا تھا"اے اللہ جس طرح میں ان دونو ں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے
محبت رکھ اور جو ان دونوں کو محبوب رکھے تو ان کو محبوب رکھ۔"(ترمذی)ایک اور
جگہ فرمایا "جسے یہ پسند ہو کہ وہ اہل جنت میں سے کسی شخص کو دیکھے تو وہ
سیدنا حسین بن علی کو دیکھ لے"۔ایک دن آپ ﷺخطبہ دے رہے تھے دیکھا کہ حسن و
حسین گرتے پڑتے آرہے ہیں۔فورا منبر سے اترے دونوں کو اٹھایا پھر آپ ﷺنے فرمایا اللہ نے سچ کہاہے کہ مال و
اولاد دونوں فتنہ ہیں۔ میں نے ان کو گرتے دیکھا تو مجھ سے صبر نہ ہوا اس لئے میں
نے خطبہ روک لیا اور دونوں کو اٹھا لیا۔"آپ ﷺنے فرمایا "حسن اور حسین
دنیا میں میرے دو پھول ہیں"
صحابی کرام بھی حضورؐ کی طرح حسین رضی اللہ عنہ سے اسی طرح
محبت کرتے اور دلی احترام کرتے تھے۔سیدنا ابوبکر فرماتے تھے"مجھے اس ذات کی
قسم کس کے قبضہ میں میری جان ہے۔مجھے محمدؐ کے قرابت داروں سے ملنا اپنے قرابت
داروں سے ملنے سے ذیادہ پسند ہے"ابوبکر ،عثمان ،عمر عائشہ رضی اللہ عنہم سے تعلیم و تربیت حاصل کی ۔اپنے
والد علی رضی اللہ عنہ سے احادیث کا علم
حاصل کیا ۔مختلف صحابہ کرام کے زیر تربیت رہے وہ خود فرماتے ہیں"میں نے جس
قدر تعلیم ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی
اللہ عنہ سے حاصل کی اتنی کسی اور سے حاصل
نہیں کی اور کو کچھ میں نے ان سے سیکھا او کسی سے نہیں سیکھا ۔"
ان کی زندگی عبادت ،پختہ ایمان اور تقوی کا بہترین نمونہ
تھا۔وہ بہت ذیادہ عبادت گزار اور کثرت سے روزے رکھنے والے تھے۔اپنی زندگی میں
انہیں نے پینتس حج پیدل کئے ۔دن رات میں
ہزار نفل پڑھتے تھے۔چلتے پھرتے قرآن کی تلاوت زبان پر جاری رہتی ۔سخی اتنے تھے کہ اللہ
کی راہ میں اتنا خرچ کرتے کہ مقروض ہو جاتے ۔کسی سائل کا حتی کہ اپنے دشمنوں کو
بھی خالی ہاتھ جانے نہ دیتے۔وہ فرماتے تھے "لوگو جو آدمی سخاوت کرتا ہے وہ
سرداری کرتا ہے اور بڑے لوگوں میں شمار
ہوتا ہے اور جو بخل سے کام لیتا ہے وہ گھٹیا لوگوں میں شمار ہوتا ہے سب سے بڑا سخی
وہ ہے جو ان افراد کو دے جنھیں اس سے ملنے کی توقع نہ ہو اور سب سے بڑا سخی وہ ہے
جو قدرت ہوتے ہوئے درگزر کرے اور سب سے ذیادہ صلح رحمی کرنے والا وہ ہے جو اس سے
صلح رحمی کرے جو اس سے قطع رحمی کرے "۔یتیموں اور بیواؤں کا تنا خیال رکھتے
کہ ان کا سامان اٹھاتے اٹھاتے پشت مبارک پر بے تحا شا نشان پڑ گئے تھے ۔اپنے والد
علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلافت میں ان کی مدد کرتے ۔مختلف جنگوںمیں شرکت کی اور
بہادری و شجاعت کی اعلی مثالیں قائم کیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ مدینہ واپس آئے
اور مسجد نبوی میں درس و تدریس کو اپنا معمول بنایا۔لیکن 61 سن ہجری میں یزید کے
دور حکومت میں ان کو کربلا کے میدان میں شہید کر دیا گیا ۔ان کے جسم پر نیزوں کے
33 اور تلوار کے 34 نشان تھے۔امام ابن تیمیہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں
"سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مظلومانہ شہید ہوئے تھے۔جس نے ان کا قتل کیا یا اس
کے قتل میں مدد کی تو اس نے گناہ کا
ارتکاب کیا ۔یہ ایک مصیبت تھی جو مسلمانوں پر آئی لیکن حسین رضی اللہ عنہ کے لئے
یہ شہادت بلندی درجات کا باعث بنی اور
سعادت مندوں کے منازل پر پہنچے۔"امام زہری فرماتے ہیں کہ قاتلین حسین کو دنیا
میں ہی سزا مل گئی تھی ۔کوئی قتل کیا گیا ،کسی کا چہرہ کالا سیاہ ہو گیا،کسی کا مسخ
ہو گیا اور کوئی اندھا ہوگیا"
اللہ حسن و حسین
اور ان کے جلیل القدر والدین پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں اور ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اسوہ
حسنہ پر سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
۔آمین
رضی اللہ عنہم

Comments
Post a Comment